آپا جی، پکوڑے اور ایک معافی نامہ


masood qamar

وجاہت مسعود میرے پسندیدہ نہیں، دل پسند ادیب ہیں۔ لکھتے کیا ہیں، موتی پروتے جاتے ہیں۔ کسی نے لکھا تھا کہ انتظار حسین لفظوں کے دھوبی ہیں۔ ان کے بعد اگر کسی کے لیے یہ الفاظ لکھے جاسکتے ہیں تووہ وجاہت مسعود ہیں۔ ان کی تحریر میں آپ کو ایک لفظ بھی میلا اور اضافی نظر نہیں آئے گا بری تحریر نہ یہ لکھتے ہیں نہ پسند کرتے ہیں۔ اسی لیے میرے ایک دو مضامین نہیں چھپ سکے پہلے یہ ’ دنیا پاکستان ‘ میں لکھتے تھے تو اردو کے بہت سے اچھے لکھنے والے ’دنیا پاکستان‘ میں لکھ رہے تھے۔ پھر نہ جانے کیا ہوا کہ نہ انہوں نے دنیا چھوڑی نہ پاکستان چھوڑا مگر آن لائن اخبار ’ دنیا پاکستان‘ چھوڑ دیا اور’ ہم سب‘ ہوگئے نہ صرف اکیلے ہم سب ہوئے بلکہ اپنے ساتھ قلم کے ایک پورے قافلے کو ’ہم سب‘ میں شامل کر لیا۔

آج کل’ ہم سب‘ میں معافی نامے چل رہے ہیں پہلا معافی نامہ وقار احمد ملک جی کا آیا اور ہر پنجابی خود کو موٹا سمجھتے ہوئے وقار احمد ملک سے شرمسار ہوا پھرتا ہے پھر ظفر اللہ خان جی نے سماج کے منہ پہ گوبر بھرا معافی نامہ مار دیا اور پھر انعام رانا جی نے تومعاشی استحصال اورمرد کے گھناﺅنے کرداروں والے معافی ناموں کی لائن لگا دی میں نے سوچا کچھ معافی نامے میری ڈب میں بھی ہیں تو کیوں نہ میں بھی پردے کے پیچھے بیٹھے پادری کے سامنے اپنے گناہوں کا اعتراف کرکے اپنے گناہوں کی معافی مانگ لوں شاید اس اذیت سے نجات مل جائے جس سے آج تک میں دوچار ہوں ”ہم سب “میں لکھے گئے معافی ناموں اور میرے معافی نامے میں بس اتنا فرق ہے کہ ان کے معافی ناموں نے دوسروں کو شرمسار کیا مگر میں خود شرمسار ہوں

یوں تو میری زندگی گناہوں اور سزاؤں سے بھری پڑی ہے مگر ان گناہوں پہ نہ تو میں شرمسار ہوں اور نہ ملنے والی سزاؤں پر کوئی پچھتاوا۔ پہلی سزا مجھے اس وقت ملی جب میں ابھی پرفیشنل جلوسیا نہیں بنا تھا اور اےوبی آمریت کے خلاف نکلے جلوس میں سب سے آگے آنکھیں بند کیے نعرے لگا رہا تھا کہ پولیس کی لاٹھی نے میری آنکھ کھول دی اورجب میں پولیس کی لاٹھیاں کھا کھا کر نڈھال ہوکر گر پڑا اور میری آنکھیں بند ہوگئیں تو پولیس مجھے مردہ سمجھتے چھوڑ کر چلی گئی ، یہ تو بعد میں جلوس کے استادوں نے بتایا کہ جلوس میں شامل ہونے کا پہلا اصول یہ ہے کہ جلوس جس راستے سے گزرنا ہے اس کے ارد گرد تمام پتلی گلیوں کا پتہ ہونا چاہیے اور جلوس میں نعرے لگاتے وقت آنکھ کی بجائے ناک کی حس جاگتی رہے کہ فوری سونگھ سکے کہ پولیس کدھر سے حملہ آور ہونے والی ہے اس کے بغیر جلوس میں شامل ہونا خود کشی کرنا ہے جس کی پارٹی کے کارکن کو اجازت نہیں ۔ اس کی بعد ہم محتاط تو ہوگئے مگر سزاؤں سے پھر بھی بچ نہ سکے کہ ہم پولیس کے رجسٹر میں درج ہو چکے تھے۔ وہ دن اور یہ دن۔ نہ ہم ایسے گناہ کرنے سے باز آئے اور نہ وقت ہمیں سزائیں دینے سے تھکا۔ مگر اس وقت میں جس گناہ کا معافی نامہ لکھنے لگا ہوں اس کا تعلق بچپن سے ہے۔

 82115bیہی کوئی چھ سات سال کا رہا ہوں گا۔ سکول گھر سے تھوڑے ہی فاصلے پہ تھا جس کی بنا پہ کبھی کبھار وقفہ میں روٹی کھانے گھر آجاتا تھا۔ اس دن بھی روٹی کھا کر واپس سکول جا رہا تھا سکول جلدی پہنچنے کے لیے سڑک کی بجائے ایک پتلی گلی سے گزر رہا تھا کہ دروازے میں کھڑی ایک بہت ہی خوبرو بیس سالہ لڑکی پہ نظر پڑی۔ جب میں دروازے کے قریب آیا تو اس نے کہا کاکے بات سنو۔ حسن پرست تو ہم تھے ہی مگر اس وقت ہم ان کو آپا جی کہتے تھے۔ لہٰذا فوراً کہا، جی آپا جی۔ اس نے کہا اندر آؤ۔ میں اس کے پیچھے پیچھے گھر کے اندر چلا گیا۔ اس نے ایک گلاس سے ایک روپے کا سکہ نکال کر مےرے رخسار کو تھپ تھپاتے کہا، مجھے بہت بھوک لگی ہے اور گھر میں کچھ کھانے کو نہیں ہے۔ کاکے مجھے ٹھیلے والے سے پکوڑے تو لا دو جی آپا جی ابھی لا دیتا ہوں ،اور پکوڑے لینے چل پڑا۔ ٹھیلے والے تک پہنچتے میں نے پکا ارادہ کر لیاکہ اب ہر روز اسی گلی سے آیا جایا کروں گا اور آپا جی اگر نہ بھی دروازے میں کھڑی ہوں جی تو بھی دروازے پہ دستک دے کر پوچھ لیا کروں گا کہ پکوڑے لا دوں یا کوئی اور کام ہو تو بتا دیں۔ ابھی اسی جمعہ کو امام مسجد نے خطبہ میں کہا تھا کہ جو دوسروں کے کام آتا ہے وہ جنت میں جگہ پاتا ہے

ٹھیلے والے کے پاس رش تھا مگر مجھے لگا، آپا جی کو بہت بھوک لگی ہے۔ کہیں بھوک سے مر ہی نہ جائیں میں نے ٹھیلے والے کو التجا بھری آواز میں کہا ٹھیلے والے بھائی مجھے پہلے دے دو۔ اس نے پوچھا، یہیں کھاﺅ گے یا کاغذ میں لپیٹ دوں۔ میں نے کہا، ٹھیلے والے بھائی میں نے نہیں میری آپا جی نے کھانے ہیں۔۔۔ اور پھر پتہ نہیں کیا ہوا، تلے ہوئے گرم گرم پکوڑوں نے میرے اندر کی بھوک کو جگا دیا حالانکہ میں ابھی گھر سے کھانا کھا کر آیا تھا میں نے اس وقت تک منشی پریم چند کا افسانہ کفن نہیں پڑھا تھا مگر نہ جانے کہاں سے میرے ارد گرد یہ الفاظ آ کر کھڑے ہو گئے اور انہوں نے مجھے چاروں اور گھیر لیا کہ کوئی اوربچہ اس گلی سے گزرے گا اور آپا جی اسے کہے گی، کاکے بات سنو اور گلاس سے ایک روپے کا سکہ نکال کر اس کے گال تھپ تھپاتے ہوئے کہے گی مجھے بہت بھوک لگی ہے اور گھر میں کچھ کھانے کو نہیں۔ کاکے مجھے ٹھیلے والے سے پکوڑے لا دو میں نے کہا ٹھیلے والے بھائی پلیٹ ہی میں دے دو ٹھیلے والے بھائی نے مجھے سکتہ بھری آنکھوں سے دیکھا۔ میں نے نظریں نیچے کر لیں اور اس نے میرے آگے گرم گرم تلے ہوئے پکوڑوں کی پلیٹ ایسے رکھی جیسے کوئی بھوکے کتے کے آگے راتب رکھتاہے

پتہ نہیں کوئی اور کاکا اس گلی سے گزرا یا نہیں۔ پتہ نہیں آپا جی کی بھوک مٹی کہ نہیں مگر میں اس کے بعد پکوڑے نہیں کھا سکا۔ جب بھی کھاتا ہوں، پیٹ میں گیس بھر جاتی ہے۔ گھر میں جب بھی پکوڑے تلے جاتے ہیں تو میں خود کو اپنے کمرے میں بند کر لیتا ہوں۔ جب محترمہ پکوڑے کھانے کو کہتی ہیں تو ایسے لگتا ہے کہ آپا جی کہہ رہی ہے کاکا مجھے بہت بھوک لگی ہے اور میرے منع کرنے کے باوجود بھی جب وہ میرے آگے پکوڑوں کی پلیٹ رکھتی ہے تو ایسے لگتا ہے ٹھیلے والا بھائی کسی بھوکے کتے کے آگے راتب پھینک رہا ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

One thought on “آپا جی، پکوڑے اور ایک معافی نامہ

  • 07-03-2016 at 12:09 am
    Permalink

    ہور کھاؤ پکوڑے مسعود قمر صاحب!

Comments are closed.