ترکی کی اسلامی تحریک – تیسرا حصہ


فتح اﷲ گولن کے نظریات

اسلام اور مغرب کے درمیان رابطہ کی تشکیل

adnan Kakar

گولن صاحب کا ایک اہم مقصد مغرب اور مسلم دنیا میں روابط کی تشکیل ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جس طرح ترکی نے صدیوں تک مسلمانوں کی سیاسی اور مذہبی قیادت کی ہے، اسی طرح اب وہ بیسویں اور اکیسویں صدی میں مسلم دنیا کی قیادت کرنے کی طرف گامزن ہے اور اس کا بنیادی طریقہ برداشت، بات چیت، سائنس اور تعلیم ہوں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ سب مسالک کی بنیاد قرآن و حدیث ہی ہیں، لیکن وہ دور جدید میں تاریخی، ثقافتی اور معاشرتی تناظر میں ان مواخذ کی تفہیم میں اختلاف کو تسلیم کرتے ہیں۔ گولن صاحب اسلام کی جدید تشریح کا دفاع کرتے ہیں جس میں اسلام اور مسلم اقوام کا دنیا سے سائنس، تعلیم، فلسفے ، معاشریات اور ٹیکنالوجی کا اشتراک دیکھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اسلام شروعات سے ہی مختلف تاریخی اور ثقافتی حالات سے نبردآزما رہا ہے اور مسلم اس وقت پیچھے رہ گئے جب وہ بڑھتی ہوئی گلوبل دنیا میں مقابلہ کرنے میں ناکام رہے۔

وہ خلافت کی واپسی کی بات نہیں کرتے مگر خلافت عثمانیہ کی ان اہم ثقافتی روایات اور اطوار کو مرکز نگاہ بناتے ہیں:
۔1۔ مکالمہ
۔2۔ یہ حقیقت کہ عثمانی سلظنت میں کئی زبانیں، نسلیں اور مذاہب تھے
۔3۔ خواتین کا احترام
۔4۔ علمی اور ثقافتی تعلقات جو کہ عثمانی اور مغربی معاشرے میں انیسویں صدی میں شروع ہوگئے تھے۔

وہ ان روایات کی واپسی کی بات کرتے ہیں اور ترکی کو اس کے جمہوری نظام حکومت اور محل وقوع کی وجہ سے ممالک اسلامیہ کا راہنما اور سمجھتے ہیں جو مشرق و مغرب میں پل کا کام دے کر فاصلہ کم کرسکتا ہے۔ وہ ایک سنہری نسل کی بات کرتے ہیں جو کہ اعلٰی تعلیم یافتہ اور ذمے دار جوانوں پر مشتمل ہوگی جو کہ بین الاقوامی تناظر میں سوچنے کی صلاحیت رکھتے ہوں گے۔ اس نئی نسل کی دنیا کا سفر کرنے، مختلف زبانیں سیکھنے، مختلف تعلیمی ماحول میں سماجیات اور طبعی سائنس سیکھنے اور مختلف مذاہب سے مکالمے کرنے کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے۔

gulenتعلیم

گولن صاحب کے مطابق آج کی دنیا کا بنیادی مسئلہ علم کی کمی ہے، جس میں علم کی نمو اور اس کا کنٹرول اور جدید علم کا حصول بھی شامل ہے۔ اچھی تعلیم ہی ایک فرد کو مفید اور پیداواری شخص بناتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ “زندگی کا بنیادی مقصد اور فرض علم کا حصول ہے۔ اسے حاصل کرنے کو کوشش، جو کہ تعلیم کے نام سے جانی جاتی ہے، ایک تکمیلی عمل ہے جس کے ذریعے ہم روحانی، عقلی اور طبعی جہتوں میں کمائی کرتے ہیں، جس سے ہمیں اپنا مخلوق کامل کا درجہ ملتا ہے”۔ وہ ذہن پر اخلاقی اقدار کی گہری چھاپ کی وکالت کرتے ہیں اور اس کے ساتھ سیکولر سائنس کی ایک بہترین تربیت کی بھی۔

وہ روایتی مدارس پر تنقید کرتے ہوئے یہ کہتے ہیں کہ وہ جدید زندگی کی ضروریات کو پورا نہیں کرتے کیونکہ وہ ان جدید طرائق اور آلات سے محروم ہیں جو کہ طلبا کو جدید دنیا کا ایک شہری بنانے میں مدد کرتے ہیں کیونکہ وہ سائنس اور ٹیکنالوجی کو اپنے نصاب کا حصہ بنانے میں ناکام رہے ہیں۔ وہ سیکولر سکولوں پر تنقید کرتے ہیں کیونکہ وہ طلبا کو روحانی اور اخلاقی تربیت دینے میں ناکام رہے ہیں گو کہ وہ سائنس اور ٹیکنالوجی سکھانے کی بھرپور اہلیت رکھتے ہیں۔ اس کی کمی کو پورا کرنے کے لیے وہ ایک ایسے نظام تعلیم کا تصور دیتے ہیں جو کہ سائنسی علوم اور اخلاقی اقدار کو یکجان کرسکے۔

ان کی رائے میں مذہب اور سائنس نہ صرف ایک دوسرے سے مطابقت رکھتے ہیں، بلکہ یہ ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں۔ وہ اپنے معتقدین کو روایتی مدارس کی بجائے جدید سکول کھولنے کے لیے کہتے ہیں۔ حتی کہ انہوں نے مساجد کی بجائے سکول بنانے کا مشورہ دیا ہے۔ وہ نوجوانوں کو اسلامی علوم کی تربیت روایتی نصاب سے دینے کی بجائے تصنیفات، واعظات اور گھر میں دینے کی وکالت کرتے ہیں۔

وہ سکولوں کو سیاست سے دور رکھنے پر زور دیتے ہیں۔ کئی سیاسی جماعتوں کی طرف سے سرپرستی کرنے کی درخواست کے باوجود انہوں نے ہمیشہ ایک غیر جانبدار رویہ رکھا ہے اور اپنے معتقدین کو سیاست میں براہ راست شمولیت سے منع کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ترکی پہلے ہی مختلف قسم کی تقسیموں سے دوچار ہے اور وہ تعلیم کو انفاق کی بجائے اتحاد کا ایک ایسا جزیرہ دیکھنا چاہتے ہیں جو کہ سیاسی عزائم سے پاک ہو۔

خدمت اور خیرات کی روح کے تحت فلاحی منصوبوں کی سرمایہ کاری

انہوں نے اس چیز کی تبلیغ کی کہ اہل ایمان کو اپنے کاروبار کو پھیلانا چاہیے، خاص طور پر بین الاقوامی تجارت کو، اور وہ اپنے مال کو بڑھائیں تاکہ اس کا ایک حصہ تعلیم کے فروغ اور جہالت اور غربت کے خاتمے کے لیے استعمال ہو۔ سن اسی کی دہائی میں ترگت اوزال کی قیادت میں ترکی کی معاشی آزادی کے بعد سرمایہ داروں کے ایک نئے طبقے نے زور پکڑا جنہوں نے ترکی میں اور باہر کاروبار میں پیسہ لگا کر دولت حاصل کی تھی۔ ان میں سے بہت سوں کے لیے گولن صاحب کا یہ خیال بہت پرکشش تھا کہ تجارت اور دولت کا فروغ کیا جائے اور ساتھ ساتھ سماجی اور مذہبی ذمہ داری لے کر عوامی خدمت کے منصوبوں کی مدد کی جائے، خاص طور پر بہترین تعلیمی منصوبوں کی۔ ان میں سے بہت سے سرمایہ داروں کے نزدیک اس دور میں ایک سکول بنانا ایسا ہی ہے جیسا کہ پچھلے ادوار میں ایک مسجد بنانا ہوا کرتا تھا۔

گولن صاحب ان اداروں کے مالی معاملات سے بالکل الگ رہے اور خود مالی لحاظ سے تہی دست ہی رہے، انہوں نے مالی وسائل فراہم کرنے والوں کو اپنی رقم کا استعمال خود کرنے کا حکم دیا۔ اس سے گولن صاحب کی دیانت و صداقت پر بہت اعتماد پیدا ہوا۔ وہ حضرت علی کے اس قول پر عمل پیرا رہے کہ سارے انسان ایک دوسرے کے بھائی ہیں اور اعلی ترین مخلوق ہیں، اور اگر کوئی اپنی عزت میں اضافہ کرنا چاہتا ہے تو اسے انسانوں کا احترام کرنا چاہیے۔ گولن صاحب کی نظر میں خدمت کے جذبے کے ساتھ انسانوں کو ایک اچھی تعلیم سے آراستہ کرنا، احترام انسانیت کی بہترین شکل ہے۔ انہوں نے لوگوں کے ذہن تبدیل کردیے اور بتایا کہ ترکی اور دنیا کو قوت برداشت کے حامل بے غرض خدمت کرنے والے لوگوں کی ضرورت ہے جو کہ روشن خیالی کی قدر کریں، اور سائنس اور ریسرچ کے قائل ہوں اور اﷲ کے بنائے ہوئے قانون قدرت کا ادراک کرسکیں۔

بین المذہبی اور بین الثقافتی مکالمہ

گولن صاحب بین المذہبی و بین الثقافتی مکالمے کی بات کرتے ہوئے سلطنت عثمانیہ کے اس دور کی بات کرتے ہیں جس میں مختلف مذاہب اکٹھے رہتے تھے۔ سلطنت میں نہ صرف مسلم، بلکہ عیسائی، یہودی اور مجوسی بھی پرامن اور پیداواری ماحول میں اکٹھے رہتے تھے۔ یہ ماحول صوفیا کی ایک دوسرے کو برداشت کرنے کی تعلیم سے طاقت پکڑتا تھا۔ گولن صاحب کے نظریات کی بنیاد محبت اور اخلاص ہیں۔ اور مسلسل برداشت اور معاف کرنے کی اسلامی تعلیمات کی وکالت کرتے ہیں جن کی جڑ انکسار میں ہے۔

دنیا کو ایک گلوبل ویلیج قرار دیتے ہوئے وہ یہ کہتے ہیں: مختلف عقائد، نسلیں، رسوم و رواج اس دنیا میں اکٹھے رہیں گے۔ ہر فرد ایک الگ دائرے کی طرح ہے۔ اس لیے یہ خواہش کہ ساری انسانیت ایک جیسی ہوجائے بالکل ناممکن ہے۔ اسی وجہ سے اس ارضی گاؤں کا امن ان اختلافات کا احترام کرنے پر ہی منحصر ہے، خاص طور پر یہ پیش نظر رکھتے ہوئے کہ یہ اختلافات ہماری فطرت کا نتیجہ ہیں اور لوگوں کو ان کی قدر کرنا چاہیے۔ ورنہ اس سے مفر نہیں ہوگا کہ دنیا اس لڑائی جھگڑوں اور خونریز جنگوں کا شکار ہوجائے گی، اور اس طرح اپنے اختتام کو پہنچے گی۔

اسلام دہشت گردی کی ترویج اور قبولیت نہیں کرسکتا

نائن الیون کے بعد انہوں نے کہا کہ وہ سخت ترین الفاظ میں ریاست ہائے متحدہ امریکہ پر ہونے والے دہشت گرد حملے کی مذمت کرتے ہیں، اور تہ دل سے امریکی لوگوں کے دکھ کو محسوس کرتے ہیں۔ اسلام دہشت گردی کو کراہت کی نظر سے دیکھتا ہے۔ ایک ایسا مذہب جو کہ کہتا ہے کہ ‘جس نے کسی بے گناہ کی جان لی اس نے گویا ساری انسانیت کو قتل کردیا’، وہ ہزاروں لوگوں کا ظالمانہ انداز میں قتل برداشت نہیں کرسکتا۔ ہمارے خیالات اور دعائیں ستم رسیدہ لوگوں اور ان کے اہل خانہ کے ساتھ ہیں۔ ان کے ایک فقرے کی ان کے معتقدین نے بہت تکرار کی جو کہ یہ تھا ‘کوئی دہشت گرد مسلم نہیں ہوسکتا اور کوئی حقیقی مسلم دہشت گرد نہیں ہوسکتا۔’

انہوں نے امریکہ سے بھی اپیل کی کہ وہ رد عمل میں ایسی طاقت استعمال نہ کرے جو کہ چند مجرموں کو سزا دینے کی خاطر معصوم لوگوں کو نقصان پہنچانے کا سبب بن جائے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس طرح کے اقدامات صرف اور صرف دہشت گردوں کو مضبوط کرنے کا سبب بنیں گے کیونکہ موجودہ ناپسندیدگی زور پکڑے گی اور اور زیادہ دہشت گرد اور تشدد جنم لیں گے۔

انہوں نے ان مسلم راہنماؤں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا جو کہ اپنے مفادات اور طاقت کی خاطر اسلام کو استعمال کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ چند مذہبی راہنما اور ناپختہ مسلم، اسلام کی انتہا پسندانہ تعبیر کو استعمال کرکے لوگوں کو اس جدوجہد میں شامل کرلیتے ہیں جس کا مقصد صرف ذاتی مفادات ہوتے ہیں۔ اسلام میں مقصد جائز ہونا چاہیے اور اس مقصد کے حصول کے ذرائع بھی جائز ہونے چاہییں۔ اسی لیے کوئی شخص کسی دوسرے کو قتل کرکے جنت حاصل نہیں کرسکتا۔ ایک ایسا شخص جو کہ اسلام کو قبول کرتا ہے کبھی بھی جانتے بوجھتے دہشت گردی کا حصہ نہیں بنے گا۔

دہشت گردی کے خاتمے کے لیے صرف تعلیم ہی سب سے طاقت ور اور براہ راست علاج ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دین کے بنیادی اصول مکمل طور پر ایسے سیاسی اور نظریاتی اعمال اور تعبیرات کے خلاف ہیں جو کہ دہشت گردی کے مذموم مقاصد کی ترغیب و پرورش کرتے ہیں۔ یہ بنیادی اصول سب مسلمانوں اور دوسرے لوگوں کو نظام تعلیم کے ذریعے سکھائے جانے چاہئیں۔ جوانوں کو ایک اچھی تعلیم دینے سے ان میں بالیدگی پیدا ہوگی کہ وہ دہشت گردی کو ایک تباہ کن، غیر اخلاقی اور انسانیت کے خلاف جرم کی حیثیت سے دیکھ سکیں۔

ریاست اور مذہب کے درمیان تعلق

گولن صاحب ایک اسلامی سیاسی نظام کی حمایت نہیں کرتے اور اپنے معتقدین کو مسلسل تلقین کرتے ہیں کہ وہ سیاست کے جال میں نہ پھنس جائیں، لیکن وہ یہ یقین محکم رکھتے ہیں کہ مذہب کو افراد کی نجی زندگی تک محدود نہیں ہونا چاہیے اور یہ ان کی عوامی زندگی کا حصہ ہونا چاہیے۔ وہ دور حاضر کے مسلم معاشروں میں دین اور سیاست کی مکمل علیحدگی کے حامی ہیں۔ وہ سیکولر ریاست کے حامی ہیں اور ان کے خیال میں مذہبی امور میں ریاست کی دخل اندازی سے اسلام کو نقصان پہنچتا ہے اور اس وجہ سے دین کو ریاستی کنٹرول سے باہر ہونا چاہیے۔

یہ تحریک قومیت، تعلیم اور فری مارکیٹ پر زور دینے کی وجہ سے دوسری اسلامی اور نورسی تحریکوں سے الگ وجود رکھتی ہے۔ گولن صاحب کی رائے میں اسلام ایک سیاسی منصوبہ نہیں ہے جس کا نفاذ کیا جائے بلکہ یہ علم اور عمل کا ایک خزانہ ہے جو کہ ایک انصاف پر مبنی اور اخلاقی معاشرے کی تشکیل کرنے میں مدد دیتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ‘اسلام اور جمہوریت ایک دوسرے کے خلاف نہیں ہیں۔ پچانوے فیصد اسلامی اصول نجی زندگی اور خاندان کے بارے میں ہیں۔ صرف پانچ فیصد امور ریاست سے متعلق ہیں۔ اور یہ انتظام صرف جمہوریت کے دائرے میں رہتے ہوئے قائم ہوسکتے ہیں۔ اگر کچھ لوگ کچھ اور سوچ رکھتے ہیں، جیسا کہ ایک اسلامی ریاست کا قیام، اس ملک کی تاریخ اور معاشرتی حالات اس کی اجازت نہیں دیتے۔ ترکی میں جمہوریت ایک ناقابل تنسیخ عمل ہے۔’ وہ مزید کہتے ہیں کہ لوگوں کو حکومت کی عزت کرنا چاہیے اور مخالفت کو اس طرح ظاہر کرنا چاہیے جس طرح کے ترقی یافتہ ، جمہوری، مغربی ملکوں میں ووٹ کے ذریعے ہوتی ہے۔

جاری ہے۔

ترکی کی اسلامی تحریک – پہلا حصہ

ترکی کی اسلامی تحریک – دوسرا حصہ

ترکی کی اسلامی تحریک – چوتھا حصہ 


Comments

FB Login Required - comments

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 328 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar