لڑکیاں گھروں سے کیوں بھاگتی ہیں


پچھلے دنوں میں جنسی اور تولیدی صحت اورحقوق پر ایک تربیتی ورکشاپ میں شریک تھا۔ ورکشاپ میں شریک ایک خاتون نے آجکل کے حالات پر نوحہ خوانی کرتے ہوئے کہا کہ آجکل ماحول بہت خراب ہو گیا ہے جس کی وجہ سے دیہاتوں میں لڑکیوں کے گھروں سے بھاگنے کی شرح میں خطرناک حد تک اضافہ ہو گیا ہے۔ ورکشاپ میں موجود دوسرے شرکاء نے بھی ان کی تائید کی اور ماحول کی اس خرابی اور اخلاقیات کے اس مبینہ زوال کا سبب ہمارے مادرپدر آزاد میڈیا کو قرار دیا جو ہمارے معصوم اور بھولے بھالے بچوں کو گمراہ کر رہا ہے۔ اس پر جب میں نے ان سب سے سوال کیا کہ کیا ماضی میں ایسا نہیں ہوتا تھا اور لڑکے لڑکیاں گھروں سے نہیں بھاگتے تھے تو ان کا جواب تھا کہ نہیں ماضی میں بھی ایسے اکا دکا واقعات ہوتے رہتے تھے۔ میرا اگلا سوال تھا کہ اگر ماضی میں بھی کبھی کبھار ایسے واقعات ہوتے رہتے تھے تو یقیناً ان کا ذمہ دار میڈیا تو نہیں ہو سکتا کیونکہ اس وقت الیکٹرنک میڈیا کا وجود بھی نہ تھا۔ یقیناً اس وقت گھروں سے بھاگنے پر کچھ اور لڑکیوں کو اکساتا ہوگا۔ کیا یہ ممکن ہے کہ آج بھی وہی وجوہات ہوں اور ہم خواہ مخواہ میڈیا پر گرم ہو رہے ہوں۔ اس پر ان سب شرکاء کے پاس کوئی جواب نہ تھا۔ مگر یہ ہلکی پھلکی بحث میرے لئے سوچ کے بہت سے دروازے وا کر گئی۔

ہم میں سے سب کو کبھی نہ کبھی ایسی صورتِ حال کا سامنا کرنا پڑتا ہے جہاں ہمیں کچھ عرصے کے لئے اپنے آبائی گھر سے اور گھر والوں سے دوری اختیار کرنی پڑتی ہے۔ کبھی یہ تعلیم کی خاطر ہوتا ہے اورکبھی روزگار کی خاطر۔ ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ یہ جدائی عارضی ہے اور اس جدائی کے دوران بھی ہمارا گھر والوں سے رابطہ برقرار رہے گا۔ اس کے باوجود یہ عارضی جدائی ہمارے لئے کتنی بوجھل اور اندوہ انگیز ہوتی ہے۔ گھر سے رخصت ہوتے ہوئے ایک ایک قدم بھاری محسوس ہوتا ہے اور جی چاہتا ہے کہ لوگوں کو تو کیا درودیوار کو بھی لپٹ کر پیار کیا جائے۔ اب اس صورت کو سامنے رکھتے ہوئے ذرا اس لڑکی کے بارے میں سوچئے جو کہ اس طرح گھر سے باہر قدم رکھ رہی ہو کہ اسے معلوم ہو کہ آج کے بعد اس گھر میں دوبارہ قدم رکھنا تو درکنار اس گھر میں رہنے والوں کی شکل دیکھنے کا تصور بھی محال ہے۔ آج کے بعد محبت کے یہ سارے رشتے نفرت کی علامت بن جائیں گے۔ ماں کی گود کی گرمی اور باپ کی شفقت دوبارہ کبھی نصیب نہیں ہو گی۔ کبھی دوبارہ سامنا ہوا بھی تو محبتوں کے یہ مینار نفرتوں کے الاؤ بن چکے ہوں گے۔ اور پھر ذرا یہ خیال کیجئے کہ وہ حالات ہوں گے کہ جس کی وجہ وہ لڑکی زندگی کا اتنا بڑا قدم اٹھانے پر مجبور ہو گئی ہے جس کا انجام انتہائی غیر یقینی اور تباہ کن ہو سکتا ہے۔ وہ کیا نا امیدی اور بے بسی ہو گی کہ جس میں ایک لڑکی یا لڑکا زندگی کا اتنا بڑا اور خطرناک فیصلہ کرنے پر مجبور ہوتے ہوں گے۔

اسی بارے میں: ۔  نسیم حجازی ایک طعنہ کیوں بن گئے ہیں؟

یقیناً ہم میں کچھ یہ کہیں گے کہ نوجوانی کا دور ہی ایسا ہوتا ہے جس میں انسان کسی ایک چیز پر اپنی توجہ مرکوز کر لیتا ہے اور نتائج و عواقب سے بے پرواہ ہو کر قدم اٹھاتا ہے۔ اس دور میں نوجوان بہت جلدی بیرونی اثرات سے متاثر ہو کر قدم اٹھاتے ہیں اور غلطیاں کرتے ہیں۔ مگر رکئے غلطی، گناہ اور جرم میں فرق ہوتا ہے۔ اکثر نوجوان جن میں لڑکیوں کی اکثریت ہوتی ہے اکثر اس لئے گھروں سے بھاگتے ہیں کیونکہ ان کو یقین ہوتا ہے اس گھر میں ان کی خواہشات یا امیدیں ہرگز پوری نہیں ہوں گی۔ اور ہم وہ خواہشات یا امیدیں اس لئے پوری کرنے سے انکار کرتے ہیں کیونکہ ہمیں یقین ہوتا ہے کہ یہ غلط ہیں۔ مگر غلط ہونا گناہ یا جرم ہونے کی دلیل تو نہیں۔ چلیں میں ایک مثال سے اس بات کو واضح کرتا ہوں۔ فرض کیا ایک لڑکی اپنی مرضی سے شادی کرنا چاہتی ہے۔ اس کے والد کی نظر میں اس کا فیصلہ غلط ہو سکتا ہے۔ مگر آپ کا مذہب اور آپ کا قانون اس کو پورا حق دیتا ہے کہ وہ اپنی پسند سے شادی کرے۔ لہذا اس کی خواہش آپ کی نظر میں غلط تو ہو سکتی ہے مگر مذہب کی نظر میں گناہ نہیں اور قانون کی نظر میں جرم نہیں۔

ہم اپنے گھروں میں ایسا ماحول پیدا کر دیتے ہیں کہ جس میں بچوں اور خاص طور پر لڑکیوں کو یقین ہوتا ہے کہ ان کی جائز خواہشات کہ جن کا حق انہیں مذہب نے اور قانون نے دیا ہے وہ کبھی پوری نہیں ہوں گی۔ اب یہ خواہشات شادی بیاہ سے متعلق بھی ہو سکتی ہیں اور کرئیر کے انتخاب سے متعلق بھی۔ اس کی ایک دوسری شکل بھی ہے ہم اپنے بچوں اور خاص طور پر لڑکیوں پر اپنے ایسے فیصلے مسلط کرتے ہیں جو ہماری اور معاشرے کی نظر میں درست ضرور ہوں مگر وہ مذہب کی نظر میں بھی غلط ہوتے ہیں اور قانون کی نظر میں بھی۔ اس کو بھی ایک مثال سے واضح کیا جا سکتا ہے۔ فرض کریں میں ایک والد ہوں اور اپنی بیٹی کی شادی چودہ یا پندرہ سال کی عمر میں کرنا چاہتا ہوں۔ اب میری نظر میں یہ فیصلہ بے شک ایک درست فیصلہ ہو کیونکہ میں بروقت اپنی ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہو جاؤں گا مگر یہ فیصلہ قانون کی نظر میں ایک جرم ہے اب اس صورت حال میں میں نے اپنی بیٹی لئے کیا آپشن چھوڑا ہے۔ یہ کہ وہ میرے جرم پر قربان ہو کر اپنی ساری زندگی برباد کر دے یا پھر کسی طرح بھاگ کر اپنی جان بچانے کی اپنی سی کوشش کر دیکھے۔ ابھی بھی ہمارا معاشرہ اس قسم کا ہے کہ سو میں سے ننانوے بیٹیاں اپنے والدین کی ناجائز اور غیرقانونی خواہشات کی بھینٹ چڑھ کر اپنی ساری زندگی سسک سسک کر گزارنے پر راضی ہو جاتی ہیں مگر کوئی ایک ان ناجائز اور غیرقانونی خواہشات پر قربان ہونے کی بجائے اپنے جائز اور قانونی حق کے تحفظ کے لئے گھر سے نکل جاتی ہے تو ہم اسے گھر سے بھاگنے والی غلیظ اور بد کردار لڑکی قرار دے کر میڈیا کو کوسنے دینا شروع ہو جاتے ہیں کہ میڈیا نے اسے یہ راہ دکھائی مگر یہ بھول جاتے ہیں کہ اسے یہ انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور ہم نے کیا۔

اسی بارے میں: ۔  یہ رہا دوپٹہ، کھینچ لیجیے

ہم سب اپنی زندگیوں میں بہت سے فیصلے کرتے ہیں۔ ان میں سے چھ فیصلے صحیح ثابت ہوتے ہیں اور کچھ غلط۔ یہ عمل ساری زندگی جاری رہتا ہے۔ ادھیڑ عمری میں بھی آکر بے شمار لوگ غلط فیصلے کرتے ہیں کیوں کہ عام طور پر ہمیں اندازہ نہیں ہوتا کہ کہ ہمارے فیصلے کی کیا نتائج ہوں گے۔ گویا صحیح یا غلط فیصلوں کا عمر سے تعلق تو ہے مگر اتنا زیادہ نہیں جتنا ہم نے سمھ رکھا ہے اگر ایسا ہوتا تو جناب عمران خان اور جناب نواز شریف اپنی ساٹھ ساٹھ عمروں کے ساتھ اور اپنے عمر رسیدہ مشیروں کے ساتھ ایسی بونگیاں ناں مار رہے ہوتے جیسی کہ ہمیں پر روز دکھائی دیتی ہیں۔ تو ہم اپنے بچوں کو یہ حق دینے پر کیوں آمادہ نہیں ہوتے کہ وہ اپنی زندگیوں کے فیصلے خود کریں اور اس میں صحیح یا غلط ہونے کے امکان کی ذمہ داری اٹھائیں۔

اس سے بھی بدتر صورتِ حال وہ ہوتی ہے جس میں ہم اپنے بچوں کی خواہشات کو اس لئے نہیں مسترد کرتے کہ ان کا یہ فیصلہ صحیح یا غلط ہے بلکہ اس لئے رد کرتے ہیں کہ ان کا فیصلہ ہماری رسوم روایات اور رواجوں یا جعلی معیارات کے خلاف ہے چاہے وہ اسلام اور قانون کی نظر میں درست ہی کیوں نہ ہو۔ برادری سے باہر شادی نہ کرنے کی روایات ہوں یا اپنے سے معاشی اور سماجی لحاظ سے کم تر طبقات میں شادی کرنے سے انکار، دونوں ہی اسلام اور قانون دونوں کی نظر میں غلط ہیں۔ گویا جرم ہم کریں اور توقع یہ کریں کہ سزا ہامرے بچے اور خاص طور پر بیٹیاں ہنسی خوشی بھگتیں۔ ورنہ نافرمان کا لقب پائیں اور بدکردار کہلائیں۔

قصہ مختصر یہ کہ جناب بچوں اور خاص طور پر اٹھارہ سال سے زیادہ عمر کے بچون کو اسلام اور قانون یہ حق دیتے ہیں کہ وہ اپنی زندگیوں سے متعلق فیصلے کریں چاہے وہ غلط فیصلے ہی کیوں نہ ہوں کیوں کہ یہ ان کی زندگیاں ہیں۔ اور ہم کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ ہم ان کی نام نہاد بھلائی کے نام پر اپنی مرضیاں تھوپیں۔ یقیناً والدین اور خیر خواہان کی حیثیت سے ہمارا فرض بنتا ہے کہ ان کو سمجھائیں ان کو کو برا بھلا بتائیں اور ان کو اپنے فیصلوں کے نتائج اور عواقب سے آگاہ کریں مگر اس کے بعد ان کو فیصلہ کرنے کا حق دیں اور اسے قبول کریں۔ اگر ہم ایسا کریں گے تو ہمیں میڈیا کو الزالم دینے کی کوئی ضرورت نہیں ہو گی کہ اس نے ہمارے بچے بگاڑ دیے اور انہیں گھروں سے بھاگنے پر اکسایا۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔