آسکر ایوارڈ کی مختصر تاریخ اور دلچسپ حقائق


zubair hussainگزشتہ 88 سال سے دنیا میں سب سے نمایاں اور مشہور ایوارڈ یا ٹرافی آسکر ہے۔ امسال اکیڈمی ایوارڈ یا آسکر کی تقریب 28 فروری کو لاس انجیلس میں ہالی ووڈ کے ڈولبی تھیٹر میں منعقد ہوئی۔ تقریب کے میزبان افریقن امریکن اداکار کرس راک تھے۔ یہ تقریب امریکن براڈکاسٹنگ کارپوریشن نے نشر کی اور دنیا کے 225 ملکوں میں لائیو دکھائی گئی۔ ڈولبی تھیٹر میں تین ہزار افراد کے بیٹھنے کی گنجاش ہے لیکن ٹی وی پر صرف امریکہ میں 34 ملین افراد نے یہ تقریب دیکھی۔ اس تقریب میں بہترین فلموں اور ان کی تیاری کے مختلف مراحل میں شاندار کارکردگی کو سراہنے کے لئے  25 مختلف اقسام کے اکیڈمی ایوارڈ یا آسکر تقسیم کئے گئے۔ فلم مڈ میکس فیوری روڈ کو سب سے زیادہ یعنی چھ، دی ریوینانٹ کو تین، اور سپاٹ لائٹ کو دو آسکر ملے۔ بہترین فلم کا آسکر بھی سپاٹ لائٹ لے گئی۔ ان کے علاوہ کارٹون فلم انسائڈ آوٹ، شرمین عبید کی فیچر فلم اے گرل ان دی ریور، آصف کپاڈیا اور جمیز گیریس کی فیچر فلم ایمی، غیر ملکی فلم سن آف سال، ڈينش گرل، اور سپیکٹر کو بھی آسکر ایوارڈ ملا۔ انفرادی حثیثت میں لیونارڈو دیکپریو بہترین اداکار، بری لارسن بہترین اداکارہ، مارک ریلانس بہترین معاون اداکار، الیسیا ویکنڈر بہترین معاون ادکارہ، اور الجنڈروگونزالیز بہترین ڈائریکٹر کے آسکر ایوارڈ لے گئے۔ خیال رہے لیونارڈو دیکپریو کو اپنا پہلا آسکر حاصل کرنے کے لیے بیس سال انتظار کرنا پڑا۔

01

پاکستانی نژاد کینیڈین شرمین عبید کو ملنے والا یہ دوسرا آسکر ایوارڈ تھا۔ ایک طرف پڑھے لکھے اور باشعور پاکستانیوں نے اپنی ہم وطن کو یہ اعزاز ملنے پر خوشی کا اظہار کیا تو دوسری طرف روایتی اور قدامت پرست دانشوروں نے اسے پاکستان کو بدنام کرنے کی امریکی صیہونی سازش تصور کرکے شور مچانا شروع کر دیا۔ ہم یہاں آسکر ایوارڈ کی مختصر تاریخ اور دلچسپ حقایق پیش کر رہے ہیں۔ قارئین خود فیصلہ کریں کہ آسکر ایوارڈ امریکی صیہونی سازش ہے یا کچھ اور۔

WEST HOLLYWOOD, CA - FEBRUARY 22: Actress Penelope Cruz arrives at the 2009 Vanity Fair Oscar Party hosted by Graydon Carter held at the Sunset Tower on February 22, 2009 in West Hollywood, California. (Photo by Alberto E. Rodriguez/Getty Images)

اکیڈمی اف موشن پکچر آرٹس اینڈ سائنسز کا قیام 1927 میں عمل میں آیا۔ موشن پکچر یا فلم کی تیاری کے تمام مراحل کے دوران اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کے لئے اعزاز عطا کرنے کے طریق کار وضع کرنا بھی اس کے اغراض و مقاصد میں شامل تھا۔ لاس انجیلس کے بالٹی مور ہوٹل کے کرسٹل بال میں منعقدہ ایک ڈنر اجلاس میں طے پایا کہ یہ ایوارڈ سالانہ دیا جائے۔ ایم جی ایم (میٹرو گولڈوین میر) مووی سٹوڈیو کے آرٹ ڈائریکٹر سڈریک گبونس نے اس اکیڈمی ایوارڈ کی ٹرافی کا ڈیزائن تیار کیا۔ اس کی شکل ایک چھوٹے مجسمے جیسی تھی۔ ایک نائٹ یعنی سورما صلیبی دور کی تلوار ہاتھ میں لیے فلم کی ریل پر کھڑا تھا۔ لاس انجیلس ہی کے ایک مجسمہ ساز جارج اسٹینلے نے اس ڈیزائن کو عملی شکل دے دی۔

اکیڈمی ایوارڈ (آسکر ایوارڈ) کی پہلی تقریب ہالی ووڈ روزویلٹ ہوٹل لاس انجیلس میں 1929 میں منعقد ہوئی۔ یہ ایک پرائیویٹ ڈنر تھا جس میں صرف 270 افراد شریک تھے اور داخلہ ٹکٹ کی قیمت صرف پانچ ڈالر تھی۔ صرف پندرہ منٹ جاری رہنے والی اس تقریب میں بارہ اقسام کے ایوارڈ دیئے گئے۔ سب سے زیادہ ایوارڈ تین فلموں ساتویں بہشت، صبح سویرے، اور دو انسانوں کا ایک گیت کو ملے۔ ایوارڈز کی تفصیل کچھ یوں ہے۔ بہترین فلم ونگز، بہترین کہانی انڈر ورلڈ، بہترین سکرین پلے (ساتویں بہشت)، بہترین پروڈکشن ڈیزائن ولیم کیمرون، بہترین ڈائریکٹر فرینک بورزاگ (ساتویں بہشت)، بہترین اداکار عمل جنننگس (دی لاسٹ کمانڈ)، اور بہترین اداکارہ گنٹ گینار۔ چارلی چپلن اور وارنر برادرز کو اعزازی اکیڈمی ایوارڈ ملے۔

اس اکیڈمی ایوارڈ کا نام آسکر کیسے پڑا؟ اس بارے میں بہت سے قصے مشہور ہیں۔ لیکن سب سے مصدقہ کہانی یہ ہے کہ اکیڈمی کی لائبریرین مارگریٹ نے پہلی دفعہ ایوارڈ کی ٹرافی دیکھی تو اس کے منہ سے بے ساختہ نکلا، “اس کی شکل تو میرے چچا آسکر سے ملتی جلتی ہے۔ ” اس دن سے لوگوں نے اکیڈمی ایوارڈ کی ٹرافی کو آسکر کہنا شروع کر دیا۔ اکیڈمی نے بھی یہ عرفی نام 1939 میں اپنا لیا۔

 

شروع میں آسکر ٹرافی یا مجسمہ ٹھوس کانسی سے بنا کر اس پر سونے کا ملمع چڑھا دیا جاتا تھا۔ بعد میں کانسی کی بجائے برٹانیا، جو کہ پیتل، نکل، اور چاندی کا مرکب ہے، کا استعمال شروع Winners for Best Documentary Shor "Saving Face," Daniel Junge and Sharmeen Obaid-Chinoy poses with the trophy in the press room at the 84th Annual Academy Awards on February 26, 2012 in Hollywood, California. AFP PHOTO / Joe KLAMAR ===NO INTERNET, EMBARGOED FROM INTERNET AND TELEVISION USAGE UNTIL THE CONCLUSION OF THE OSCARS TELECAST=== (Photo credit should read JOE KLAMAR/AFP/Getty Images)ہو گیا۔ آخر میں مجسمے پر 24 قیراط سونے کا ملمع یا غلاف چڑھا دیا جاتا ہے۔ یوں دیکھنے میں آسکر خالص سونے کا بنا ہوا نظر آتا ہے۔ مجسمے کا قد ایک فٹ ڈیڑھ انچ اور وزن ساڑھے آٹھ پونڈ ہے۔

دوسری جنگ عظیم کے دوران دھاتوں کی قلت کے سبب تین سال تک جو آسکر مجسے تقسیم کیے گئے وہ دھاتوں کی بجائے روغن شدہ پلاسٹر سے بنائے گئے تھے۔ جنگ عظیم کے خاتمہ کے بعد اکیڈمی نے انعام یا فتگان سے روغنی  پلاسٹر والے آسکر واپس لے کر انھیں سونے کے غلاف والے دھاتی آسکر دے دئیے۔

اکیڈمی ایوارڈز دینے والوں کے فرشتوں کی بھی علم نہیں ہوتا کہ امسال کتنے آسکر تقسیم ہوں گے۔ انھیں ایوارڈز کی اقسام کا تو پہلے سے علم ہوتا ہے لیکن جب لفافے کھلتے ہیں تو اکثر ایک ہی قسم کے ایوارڈ میں دو یا دو سے زیادہ افراد برابر کے حصہ دار نکل آتے ہیں۔ لہذا اکیڈمی ہر سال ضرورت سے کچھ زیادہ ہی آسکر مجسمے بنوا لیتی ہے۔ جو مجسمے بچ جاتے ہیں انہیں اگلے سال کی تقریب کے لئے محفوظ کر لیتے ہیں۔

اکیڈمی ایوارڈ کے اجرا سے اب تک کل 3001 آسکر تقسیم کئے جا چکے ہیں۔

آسکر ایوارڈ کی تقریب کو ٹی وی پر نشر کرنے کا آغاز 1953 میں ہوا۔

آسکر ایوارڈ حاصل کرنے والوں میں سب سے کم عمر دس سالہ معاون اداکارہ ٹیٹم اونیل تھیں جنہیں 1973 میں ریلیز ہونے والی فلم پیپر مون (کاغذی چاند) میں بہترین معاون اداکارہ کا کردار ادا کرنے پر یہ اعزاز ملا۔  سب سے زیادہ معمر بیاسی سالہ کرسٹوفر پلمر تھے جو کہ فلم بیگننرز (2010) میں  بہترین معاون اداکار ہونے کی وجہ سے اس اعزاز کے مستحق قرار پائے۔  03ہنری فونڈا کو 76 سال کی طویل عمر میں فلم آن گولڈن پونڈ (1981)  میں بہترین اداکاری پر آسکر ایوارڈ ملا۔ مرد اداکاروں میں سب سے کم عمر 29 سالہ ادرین بروڈی تھے جنہیں دی پینسٹ (2002) میں بہترین اداکاری کے جوھر دکھانے پر آسکر ایوارڈ سے نوازا گیا۔

والٹ ڈزنی 59 بار آسکر ایوارڈ کے لئے نامزد کئے گئے اور وہ سب سے زیادہ یعنی 22 آسکر لے اڑے۔ انھیں چار اعزازی آسکر حاصل کرنے کا شرف بھی حاصل ہے۔

اداکاروں میں جیک نکلسن سب سے زیادہ (بارہ دفعہ) آسکر ایوارڈ کے لئے نامزد ہوئے اور انہوں نے تین آسکر حاصل کر لئے، دو بار بہترین اداکار اور ایک بار بہترین معاون اداکار کا آسکر۔

مریل سٹریپ 18 بار آسکر ایوارڈ کے لئے نامزد ہوئیں لیکن صرف تین آسکر حاصل کر سکیں۔ انہوں نے دو آسکر سوفی کا چوائس (1983) اور دی آئرن لیڈی (2012) میں بہترین اداکارہ کی حثیثت میں جیتے اور ایک آسکر کرامر بمقابلہ کرامر (1980) میں بہترین معاون ادکارہ کا کردار ادا کرکے حاصل کیا ۔

ووڈی ایلن 24 بار آسکر ایوارڈ کے لئے نامزد ہوئے؛ ایک بار اداکار، سات بار ڈائریکٹر، اور 16 بار سکرین رائیٹر کی  حثیثت سے۔ وہ بہترین سکرین رائیٹر کے تین آسکر اور بہترین فلم ڈائریکٹر کا ایک آسکر حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔

بہترین اداکارہ کے سب سے زیادہ (چار) آسکر ایوارڈ کیتھرین ہپبرن نے حاصل کئے۔ انہیں یہ آسکر فلموں آن گولڈن پونڈ (1981)، دی لاین ان ونٹر (1968)، گیس ھو از کمنگ ٹو ڈنر (1967)، اور ما رننگ گلوری (1933) میں بہترین فنکاری پر دیئے گئے۔

بہترین اداکار کے تین آسکر ایوارڈ (1990، 2008، اور 2013) حاصل کرنے کا اعزاز دانیال ڈے لیوس کے پاس ہے۔ انھیں یہ آسکر فلموں مائی لفٹ فٹ، در ول بی بلڈ، اور لنکن میں بہترین اداکاری پر ملے۔

05موسیقار جان ولیمز 49 بار آسکر ایوارڈ کے لئے نامزد ہوئے اور پانچ آسکر لینے میں کامیاب ہو گئے۔

مرحوم ادکار پیٹر آوٹول آٹھ بار آسکر ایوارڈ کے لئے نامزد ہوئے مگر ایک بھی آسکر نہ لے سکے۔ آخر اکیڈمی نے ترس کھا کر 2003 میں انھیں ایک اعزازی آسکر سے نواز دیا۔

حتی میک دانیال پہلی افریقن امریکن تھی جس نے 1939 میں بہترین معاون اداکارہ کا آسکر جیتا۔ دوسرا نمبر اداکار سڈنی پویٹیر کا ہے جنہوں نے بہترین اداکار کا آسکر 1964 میں فلم للیز آف دی فیلڈ (1963) میں شاندار کارکردگی کی بنا پر حاصل کیا۔ اس کے بعد سے اب تک 32 افریقن امریکن اداکار، موسیقار، اور ڈائریکٹر آسکر
ایوارڈ لے چکے ہیں۔ ان میں ڈینزل واشنگٹن، جیمی فاکس، ہیلی بری، وھوپی گولڈبرگ، جینیفر ہڈسن، سٹیو ونڈر، اور پرنس نمایاں نام ہیں۔

مارلی مٹلن پہلی سماعت سے معذور ادکارہ ہے جس نے فلم چلڈرن آف اے لیسر گاڈ (1987) میں بہترین اداکاری پر آسکر ایوارڈ حاصل کیا۔

اداکارہ کیتھرین زیٹا جونز کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ پہلی بار آسکر ایوارڈ کے لئے نامزد ہوئیں اور اسے حاصل کر بھی لیا۔ انھیں یہ ایوارڈ فلم شکاگو (2002) میں بہترین اداکاری پر ملا۔

آسکر ایوارڈ کی 88 سالہ تاریخ میں سب سے زیادہ آسکر ایوارڈ حاصل کرنے والی فلمیں تین ہیں، بن حر (1959)، ٹائٹینک (1997)، اور لارڈ آف دی رنگز: دی ریٹرن آف دی کنگ (2003)۔ ان میں سے ہر فلم کو گیارہ آسکر ملے۔

سنسی خیز فلموں کے ڈائریکٹر الفرڈ ہچکاک پانچ بار بہترین ڈائریکٹر کی حثیثت سے نامزد ہوئے لیکن ایک بھی آسکر ایوارڈ حاصل نہ کر سکے۔

06آسکر ایوارڈ کی سب سے لمبی تقریب 2002 میں ہوئی جب میزبانی کے فرائض افریقن امریکن اداکارہ وهوپی گولڈبرگ نے ادا کئے۔ یہ تقریب چار گھنٹے اور 23 منٹ جاری رہی۔

سب سے زیادہ آسکر ایوارڈ حاصل کرنے والی غیر ملکی فلموں کا تعلق اٹلی سے ہے۔ گویا امریکی صیہونی سازش کا سب سے بڑا شکار اٹلی ہے۔

مڈنائٹ کوؤبوائے (1969) واحد ایکس ریٹڈ فلم ہے جسے آسکر ملا۔

آسکر ایوارڈ حاصل کرنے والی سب سے لمبی فلم گان ود دی ونڈ (1939) ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

4 thoughts on “آسکر ایوارڈ کی مختصر تاریخ اور دلچسپ حقائق

  • 06-03-2016 at 11:49 pm
    Permalink

    بہت خوب

  • 07-03-2016 at 12:58 pm
    Permalink

    gher zaroori tur par pictures ko shaya kiya gya,, oscar 2016 ki pics hoti tu acha tha,,

  • 07-03-2016 at 10:36 pm
    Permalink

    بہت خوب

  • 07-03-2016 at 10:36 pm
    Permalink

    بہت اچھے

Comments are closed.