بھائی نے چار سال فون نہیں کیا، اب بھٹوازم کی سیاست کریں گے: زرداری


سابق صدر اور پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کا کہنا ہے کہ میری دوستی جمہوریت کےساتھ تھی میاں صاحب کےساتھ نہیں، ہم نے پچھلی بار میاں صاحب کا نہیں، حکومت کا ساتھ دیا تھا، جمہوریت بچائی تھی۔

لاہور میں اپنے صاحبزادے اور پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کل بھی جمہوریت کے ساتھ تھے، آج بھی جمہوریت کے ساتھ ہیں۔

آصف زرداری کا کہنا ہے کہ ہم پارلیمنٹ، جمہوریت کےساتھ ہیں، جمہوریت کو پروان چڑھتا دیکھنا چاہتے ہیں،جمہوریت کے علاوہ پاکستان کا کوئی مستقبل نہیں۔

انہوں نے کہا کہ کافی دن ہوئے میڈیا سے ملاقات نہیں ہوئی، جب سے لاہور آیا ہوں گہما گہمی بڑھ گئی ہے، کچھ لوگوں کو غلط فہمی تھی کہ ہم نے پچھلی بار میاں صاحب کا ساتھ دیا تھا۔ آصف زرداری نے مزید کہا کہ سیاست میں کوئی بات آخری نہیں ہوتی، یہ کہا جائے کہ کوئی سیاسی جماعت ختم ہوجائے گی ایسا نہیں ہوسکتا۔

سابق صدر کا کہنا ہے کہ میاں صاحب اپنی چار سال کی حکومت میں سیاسی جماعت کو ساتھ لے کر نہیں چلے، میرے دور میں کوئی سیاسی قیدی نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ میاں صاحب سے کبھی کوئی ذاتی فائدہ نہیں لیا اور نہ کبھی لینےکاارادہ ہے،ابھی ریفرنسز آئے ہیں، ریفرنس جائزہ نہیں لیا، قانونی ماہرین کی رائے سے میڈیا کو آگاہ کریں گے۔

آصف زرداری کہتے ہیں کہ تعلقات وہ ہوتے ہیں جس میں رابطے برقرار رہیں، جب آپ چار سال تک بھائی کو فون نہ کریں تو وہ بھی فون نہیں اٹھاتا۔ ان کا کہنا ہے کہ عمران خان صاحب فل ٹاس پر کھیل رہے ہیں، نو بال پر آئیں گے تو دیکھیں گے، این اے120شروعات ہے۔ آصف زرداری نے مزید کہا کہ پچھلی دفعہ جب الیکشن ہوئے تھے تو میں صدر تھا اور کسی نے انتخابات کا خیال نہیں کیا، اب پیپلزپارٹی کی قیادت لاہور میں ہے تو فرق پڑے گا۔

اسی بارے میں: ۔  سانحہ بلدیہ کی رپورٹ عدالت میں پیش : واقعہ دہشت گردی قرار

ان کا مزید کہنا ہے کہ میاں صاحب اور ان کے خاندان کو مستقبل میں سیاست میں نہیں دیکھ رہا، بلاول کی والدہ نے 22سال کی عمرمیں سیاست شروع کی تھی، خان صاحب غیرسیاسی آدمی ہیں انہیں کیا سمجھاؤں۔

شریک چیئرمین پی پی پی نے کہا کہ میرےچیئرمین نے کہا ہے عمران خان اورنوازشریف ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں، جو میرے چیئرمین نے کہہ دیا، میں  نے کہہ دیا، ایک ہی بات ہے۔

آصف زرداری نے مزید کہا کہ ہر فیصلہ پارٹی مشاورت سے کرتے ہیں، ہماری سوچ نہیں کہ کسی سیاسی جماعت کےساتھ مل کر چلیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ابھی ہمیں بھٹوازم اوراپنی سوچ کےتحت سیاست کرنی ہے، حکومت اوراپوزیشن میاں صاحب کی ہے، یہ ایک نیا مذاق ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔