نواز شریف کا قانونی موقف کیا ہے؟


خواجہ حارث صاحب نے سپریم کورٹ میں لارجر بنچ کے فیصلے کے خلاف نواز شریف صاحب کی طرف سے ریویو پٹیشنز داخل کی ہیں۔ ریویو پٹیشنز میں پانامہ کیس کے فیصلے پر تین پہلووں سے اعتراضات اٹھائے گئے ہیں جن میں سب سے اہم پہلو نااہلی کے مبینہ گراونڈ پر داخل کردہ اعتراضات ہیں۔

ریویو پٹیشن میں کہا گیا ہے کہ بنچ نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ ریسپانڈنٹ نمبر 1 نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ وہ تنخواہ کے حقدار تھے البتہ انہوں نے تنخواہ وصول نہیں کی حالانکہ ایسا کوئی اعتراف ریکارڈ پر نہیں ہے۔ نواز شریف صاحب کی طرف سے جمع کردہ جواب کا حوالہ دے کر کہا گیا کہ ریسپانڈنٹ نے صاف لکھا تھا کہ جنوری 2013 میں نواز شریف صاحب نے اپنے بیٹے کی کمپنی کو یقین دہانی کروائی تھی کہ وہ تنخواہ وصول نہیں کریں گے لہذا وہ تنخواہ کے حقدار ہی نہیں تھے اور عدالت نے اس جواب کو مکمل طور پر نظر انداز کر کے لکھ دیا کہ ریسپانڈنٹ نے اعتراف کر لیا ہے کہ وہ تنخواہ کا حقدار تھا۔

مزید اعتراض یہ کیا گیا ہے کہ اگر بالفرض تنخواہ کے حقدار بھی ہوتے تو وصول نہ کی جانے والی تنخواہ کو اثاثہ کہنا درست نہیں۔ یہاں یہ انتہائی اہم اعتراض داخل کیا گیا کہ عدالت نے اثاثہ کی تعریف کے لئے بلیک لا ڈکشنری کا حوالہ دیا ہے حالانکہ بلیک لا ڈکشنری کے کسی ایڈیشن میں اثاثہ کی وہ تعریف مقرر نہیں جو بنچ نے بیان کی ہے۔ اگر تشریح کرنی ہی تھی تو انکم ٹیکس آرڈیننس میں تنخواہ کی بیان کردہ تعریف کیوں نہ لی گئی جس کے مطابق تنخواہ وہی ہوتی یے جو وصول شدہ ہو۔ سپریم کورٹ کے سابقہ فیصلوں کا حوالہ دے کر کہا گیا کہ نااہلی کا معاملہ چونکہ ایک سزا ہے اس لئے اس میں فوجداری جیورسپروڈینس کے اصولوں کے مطابق جہاں قانون کی ایک سے زیادہ تشریحات ممکن ہوں تو وہ تشریح اختیار کی جائے گی جس سے ملزم کو فائدہ ہو۔

اسی پر مزید اعتراض یہ بھی کیا گیا کہ اگر تنخواہ کا حقدار بھی ماں لیا جائے اور اثاثہ کی تعریف بھی وہی مان لی جائے جو سپریم کورٹ نے بیان کی ہے تو پھر بھی ممبر پارلیمنٹ کی اس بنیاد پر نااہلی الیکشن قوانین کے تحت تب ہی ممکن ہے جب الیکشن ٹریبونل میں روپا کے متعلقہ سیکشنز کے تحت ملزم کا مکمل ٹرائل ہو اور وہاں اثاثہ جات کو چھپانا اور بعد ازاں ملزم کی بدنیتی ثابت ہو جائے۔ اس کے بعد ہی نااہلی کا فیصلہ ہو سکتا ہے۔

دوسرا بڑا اعتراض بنچ کی جانب سے نیب کو ریفرنسز دائر کرنے کا حکم دینا اور اس کی نگرانی کرنا ہے۔ ریویو پٹیشن کے مطابق نیب ریفرنس فائل کرنا قانون کے تحت چئیرمین نیب کا صوابدیدی اختیار ہے۔ سپریم کورٹ یہ اختیار استعمال نہیں کر سکتی کیونکہ آئین کے آرٹیکل 175 کے مطابق عدالتیں صرف وہی احکامات دے سکتی ہیں جن کا انہیں ائین یا قانون میں اختیار دیا جائے۔ اسی طرح نیب ریفرنسز اور ٹرائل کی نگرانی بھی آرٹیکل 175 کے خلاف ہے کیونکہ ایسی کوئی طاقت سپریم کورٹ کو ائین یا قانون نہیں دیتا۔ یہ نگرانی ائین کے آرٹیکل 10اے کے بھی خلاف ہے کیونکہ ایسی نگرانی فئیر ٹرائل کے تقاضوں کے منافی ہے۔ جب اعلی ترین عدالت جس کے پاس اپیل بھی جائے گی نگرانی کر رہی ہو تو نیب عدالت کیسے غیر جانبدار رہتے ہوئے بغیر کسی دباو کے ٹرائل کر سکتی ہے۔ عدالت کی جانب سے جے آئی ٹی اراکین کی تعریف پر بھی اعتراض کیا گیا ہے کہ ایسی حمد و ثنا کی موجودگی میں نیب عدالت دوران جرح ان اراکین کی کریڈیبیلیٹی اور کنڈکٹ کے اعتراضات کو اہمیت دینے کی جرات نہیں کرے گی۔

تیسرا اعتراض بنچ کے پانچ سے تین اور تین سے پانچ ہوجانے سے متعلق ہے۔ اعتراض کیا گیا ہے کہ جسٹس کھوسہ اور جسٹس گلزار نے 20 اپریل کو حتمی فیصلہ دیا اور 28 جولائی کو پھر سے حتمی فیصلہ دیا۔ مزید یہ کہ 28 جولائی کو جو فیصلہ دیا گیا وہ جے آئی ٹی رپورٹ ہر مبنی تھا جو ان دو حضرات نے دیکھی ہی نہیں تھی۔ اس پر بھی اعتراض کیا گیا ہے کہ جب 20 اپریل کے فیصلے میں عملدرآمد بنچ کو کاروائی آگے بڑھانے کا کہا گیا تو اس کے بعد دو ججز بنچ میں کیسے واپس آ گئے۔

یہ استدعا بھی کی گئی ہے کہ ریویو پٹیشن کے حتمی فیصلے تک پانامہ کیس کے فیصلے پر مزید عملدرآمد روک دیا جائے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

احمد علی کاظمی

احمد علی کاظمی پیشے کے اعتبار سے وکیل ہیں۔ جامعہ امدادیہ کے طالب علم رہے ہیں۔ پاکستانی سیاسی و آئینی تاریخ اور سیاسی اسلام و جمھوریت کے مباحث میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ فلم بین اور کرکٹ کے تماشبین اس کے علاوہ ہیں۔ سہل اور منقح لکھنے کے قائل ہیں۔

ahmedalikazmi has 13 posts and counting.See all posts by ahmedalikazmi