کچھ جنسی معاملات کے بارے میں (2)


درویش کو اپنی شکل و صورت اور جسمانی طاقت کے بارے میں کبھی خوش فہمی نہیں رہی۔ شمع دل بجھ سی گئی رنگ حنا کے سامنے، کا مضمون ماضی میں بھی درپیش تھا اور صورت حال اب بھی کچھ مختلف نہیں۔ جسمانی طاقت کا یہ عالم کہ ایک دفعہ ایک موٹے تازے لڑکے کو مکا مار دیا۔ ایک لمحے کے ہزارویں حصے میں اندازہ ہوگیا کہ یہ غلطی بہت مہنگی پڑے گی۔ کئی روز بعد اس شریف لڑکے نے گھر آ کر سمجھایا کہ جھگڑا اتنا سنجیدہ نہیں تھا۔ اب اسے بھول جاؤ۔ اگر کم عمری میں بہادری کا یہ عالم تھا تو اب یہ خطرہ مول لینا بعید از قیاس ہے۔ روپے پیسے کے بارے میں عقل مند کہتے ہیں کہ جن افراد میں پیسہ کمانے کی صلاحیت ہوتی ہے وہ چند برس کے اندر اندر دولت مند ہو جاتے ہیں۔ باقی لوگ ساری زندگی دوسروں کو بددیانت سمجھتے ہیں یا اپنی باری کا انتظار کرتے ہیں۔ باری تو ایک دن آ جائے گی۔ اس پس منظر میں اپنی روداد پر ایک نظر ڈالتا ہوں تو اس میں نوجوانوں کے لئے بہت سی اچھی خبریں موجود ہیں۔

جنسی خوشی میں خوبصورت خدوخال، سڈول ترشے ہوئے بدن اور روپے پیسے کی ریل پیل کو کچھ زیادہ دخل نہیں۔ تسلیم کہ بعض صورتیں دل میں کھب جاتی ہیں۔ کوئی آواز کانوں میں رس گھولتی ہے۔ کچھ نگاہیں دل میں اتر جاتی ہیں۔ روپیہ پیسہ ایسی چیز ہے کہ موجود نہ ہو تو معمولی ضروریات کے لئے بھی انسانی احترام داؤ پر لگ جاتا ہے۔ لیکن اس سب کے ہوتے ہوئے بھی کوئی ضمانت نہیں کہ جنسی تسکین، مسرت اور اندر کی خوشی کا سامان ہو سکے گا۔ سلیم احمد کہتے تھے ۔۔۔ زور وہ اور ہے، پاتا ہے بدن جس سے نمو۔۔۔۔ پورا شعر کہیں دیکھ لیجئے گا۔ بربنائے یک لفظی شوخ چشمی شعر کا مصرع ثانی لکھنے سے گریز ہے۔ کیوں نہ ایک خوشگوار بات یاد کی جائے۔

ٹھیک ایک سو برس گزر گئے۔ بمبئی کی عدالت نے ایک نوعمر لڑکی رتی ڈنشا سے پوچھا کہ آپ کو بیرسٹر جناح کیوں اچھے لگتے ہیں۔ بمبئی کا پھول کہلانے والی رتی پٹیٹ نے اٹھلا کر کہا کہ ابھی کچھ دیر پہلے مسٹر جناح کو چھینک آئی تھی۔ آپ نے دیکھا کہ انہوں نے کس نفاست سے رومال نکال کر ناک پر رکھا۔ مجھے ان کی مہذب شخصیت اچھی لگتی ہے۔ اب دیکھیے، بمبئی اور پھر پارسی طبقے میں تعلیم یافتہ افراد کی کیا کمی تھی؟ روپے پیسے کا سوال ہی نہیں تھا۔ نوجوان بھی ایک سے بڑھ کر ایک موجود تھا۔ لیکن درون خانہ ہنگامے کی کس کو خبر ہے؟

سودا جو ترا حال ہے، اتنا تو نہیں وہ

کیا جانیے تو نے اسے کس آن میں دیکھا

اب اسی تصویر کا دوسرا رخ دیکھیے۔ تاریخ کے معمولی طالب علم بھی جانتے ہیں کہ رتی اور جناح کی رفاقت میں آسودگی پیدا نہ ہو سکی۔ یہ ایک یکسر علیحدہ مضمون ہے۔ عشق اول نمود آساں، ولے افتاد مشکل ہا۔۔۔ گویا نسخہ محبت کے سب اجزا یک جا کر لئے تو بھی قوام پیدا نہ ہو سکا۔ قوام سے مراد حسب خواہش نتیجہ ہے۔

ایک خاتون نے خاص اہتمام سے خوبصورت لباس پہن رکھا ہے۔ بہت سوچ سمجھ کر بناؤ سنگھار کیا ہے۔ پاؤں اٹھاتی ہیں تو خوشبوئیں ہمراہ سفر کرتی ہیں۔۔۔۔ زاہد قسم ہے تجھ کو، جو تو ہو، تو کیا کرے؟ اس خاتون کے ساتھ ڈنر طے پا گیا۔ ایک دوسرے کو سمجھنے پرکھنے کا ایک مناسب اور محتاط ڈھنگ ہے۔ نشست گاہ میں بیٹھتے ہی ہوٹل کے ملازم کو طلب کیا تو معلوم ہو گیا کہ اپنے سے کم سماجی رتبے والے انسان کو حقیر سمجھتی ہیں۔ وہاں موسیقی کا اہتمام تھا۔ خاتون نے ایک ایسے گیت کی فرمائش کر دی جو ذوق سماعت پر نوکدار پتھر کی طرح اترا۔ لیجئے جلوت اور خلوت کے نیم روشن درمیانی منطقے ہی پر اختلاف طبیعت کے زاویے نمودار ہو گئے۔ دوسری طرف وہ خاتون بھی بت کافر ہیں، بت سنگی تو نہیں۔ آنکھ ہے، دل تو نہیں، ساری خبر رکھتی ہے۔ انہوں نے مشاہدہ کیا کہ صاحب نے کھانا سامنے آتے ہی آؤ دیکھا نہ تاؤ، ایک کے بعد ایک قاب اپنے سامنے گھسیٹی۔ افراتفری میں گوشت کے سب پارچے اپنی پلیٹ میں رکھ لئے، کھانا تناول فرمانے میں ایسا جوش و خروش دکھایا کہ منہ چلانے کی آواز تیسری میز تک سنائی دی۔ کھانے کا بل دیکھ کر ایک معمولی رقم پر ایسی تکرار کی کہ ہوٹل کے مینجر نے مداخلت کر کے معاملہ ختم کیا۔ اس کامیابی پر اس طرح اتراتے ہوئے رخصت ہوئے کہ جس خاتون کو رجھانے کے لئے سارا کشٹ کاٹا تھا، اس کے لئے دروازہ کھولنے کی زحمت تک نہیں کی۔ شام کے ایک کھانے میں اس قدر بدمزگی ہوئی کہ خوشی کا خواب غارت ہو گیا۔

یہاں حسن و جمال بھی تھا، مالی وسائل بھی موجود تھے۔ ظالم سماج نے کھاٹ بھی اوندھی نہیں کی۔ صاحب بہادر کا رگ پٹھا اس قدر کسا ہوا ہے کہ بیک وقت دو کمزور جوانوں کو پیٹ سکتے ہیں یا ایک اوسط شخص سے خود پٹ سکتے ہیں۔ لیکن ہوا کیا؟ دوستی کی دہلیز ہی پر سخن گسترانہ بات آن پڑی۔ عصائے شیخ کی آزمائش کا سوال ہی نہیں اٹھا۔ خطائے نسواں کے امتحان تک نوبت ہی نہیں پہنچی۔

اب اس حکایت سے نتیجہ نکالتے ہیں۔ محبت کے تین نکات بزرگوں نے سمجھائے۔ برابری، عزت اور مودت۔ مودت تو بہت مشکل عربی لفظ ہے۔ آسان اردو میں ایک دوسرے کے دکھ درد کی پروا کرنا۔ ایک دوسرے کی بھلائی چاہنا۔ اب اس کو دیکھ لیا جائے۔ حقوق، رتبے اور آزادیوں کی مساوات اور برابری کے بغیر محبت نہیں ہو سکتی۔ مجبوری کی بات دوسری ہے۔ مجبوری میں خوشی ممکن نہیں ہوتی۔ محتاجی۔ ضرورت، خوف، دباؤ اور لالچ میں بے لباس ہوئے تو گویا اپنے ہاتھوں خوشی کا گلا گھونٹ دیا۔ از رہ کرم سمجھیے کہ زنا بالجبر میں جسمانی مسرت نہیں بلکہ دوسرے پر اختیار کے عارضی وقفے سے مریضانہ لطف اٹھایا جاتا ہے۔ زبردستی جرم ہوتا ہے، محبت نہیں۔ جبر، زور آوری، زبردستی، استحصال اور مجبوری کا مطلب آپ مجھ سے بہتر جانتے ہیں۔ اس سے ندامت پیدا ہوتی ہے، ایسی خوشی کا کوئی امکان نہیں ہوتا جس سے دل کھل اٹھے۔

احترام صرف آیک دوسرے سے مخاطب ہونے کا سلیقہ نہیں۔ اس میں جسم اور خواہش کا احترام بنیادی چیز ہے۔ کبھی کسی بچے کو دیکھا ہے کہ کس حیرانی سے پھول بوٹے اور پرندے دیکھتا ہے۔ انسانی جسم میں تو اس سے کہیں زیادہ حیران کن امکانات پوشیدہ ہیں۔ ان کی مسلسل کھوج کرنے، ان امکانات کی قدر کرنے اور انہیں جائز سمجھے بغیر یہ اپسرا اپنے بھید بھاؤ نہیں کھولتی۔ اگر مسہری سے نیچے پاؤں رکھتے ہی اس تجربے کو بھول جانے اور اسے ایک عارضی گمراہی سمجھنے کا رویہ موجود ہے، اگر جنسی خواہش کے بارے میں مسلسل شعوری غور و فکر کی ہمت نہیں تو جنس سے خوشی حاصل نہیں ہو گی۔ اکتاہٹ اور بیزاری پیدا ہو گی۔ ذہنی اور جسمانی تکلیف پیدا ہو گی۔ غلطی کا احساس کرنا قابل تعریف ہے لیکن غلطی اور حقیقت میں فرق کرنا بھی اہمیت رکھتا ہے۔ مسلسل دو کشتیوں میں سواری نہیں کی جا سکتی۔ جسم کی خواہشات کو ختم کر دیا جائے یا ان خواہشات کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھنا سیکھا جائے۔ زبان کی معمولی لغزش سے معلوم ہو جاتا ہے کہ جنسی فعل کو خوشگوار تجربے کے طور پر جانا ہے یا اس پھول کو نوچ کر دھوپ میں پھینک دیا تھا۔ مسلسل خود الزامی سے نہ تو خوشی حاصل ہو گی تو نہ یک سوئی۔

ایک دوسرے کی مشکلات، تحدیدات اور کمزوریوں کو سمجھنے سے یہ گنجائش ہپیدا ہوتی ہے کہ مواقع کی کمی کو زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کی کوشش میں تبدیل کیا جائے۔ اگر آج کا دن گزرے ہوئے کل کی اذیت میں گزارنا ہے آج کے بارے میں آنے والے کل کا نقشہ بھی بہتر نہیں ہو سکے گا۔ اس میں محترمہ لینہ حاشر کی تحریر سے فائدہ اتھانا چاہیے۔ اگر موصوف اتنا وقت عریاں مواد دیکھنے میں صرف کرتے ہیں تو واضح ہو گیا کہ جنسی خواہش موجود ہے۔ شریک حیات میں کشش باقی نہیں رہی۔ غور کرنا چاہیے کہ کیا ابتدا ہی میں جنسی معاملات پر بات چیت اور ممکنہ پیچیدگیوں پر مشاورت کی کوئی صورت پیدا کی تھی یا جنسی فعل کو رات کے اندھیرے کی ایک قابل فراموش واردات قرار دے دیا تھا؟ سچ یہ ہے کہ جنسی کشش برقرار رکھنا ایک شعوری فعل ہے۔ اس کے لئے ایک دوسرے کے ساتھ بات کرنے کی ثقافت پیدا کرنا پڑتی ہے۔ چوک میں کھڑے ہو کر جنسی تفصیلات بیان کرنا لاحاصل ہے بلکہ ایک دوسرے کی توہین کے مترادف ہے۔ استاد محترم علی عباس جلالپوری فرماتے تھے کہ انسان کی کم ظرفی کی انتہا یہ ہے کہ کسی سے تنہائی میں یکجائی کے راز افشا کر دے۔ یہ تو اعتماد کے دھوکے کی بدترین مثال ہے۔ اسی سوچ کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ باہم صاف گوئی اور ابلاغ کا کوئی راستہ نکالنا چاہیے۔ اگر ہاں کا مطلب ہاں ہے اور نہیں کا مطلب نہیں ہے تو پھر ہاں اور نہیں کی لکیر بھی واضح کرنا ہو گی۔

اگر کسی اور شخص میں خوشی تلاش کی جا رہی ہے تو کیا اس کی کوئی معاشی، سماجی یا مادی وجہ ہے؟ اگر ایسا ہے تو اسے بھی تسلیم کرنا چاہیے۔ انسانی دلچسپیاں لامحدود ہیں۔ اس سے ایک نہ ایک فریق کو تکلیف ضرور ہوتی ہے لیکن مجبوری اور ناخوشی میں زندگی گزارنے کی بجائے خوشی کی کوئی صورت نکالنی چاہیے۔ ایک نکتہ عرض کئے دیتا ہوں، ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ جنسی کارکردگی میں اونچ نیچ کا سبب جسمانی ہو۔ اس کے علاج معالجے کی ضرورت بہت کم حقیقی اور اکثر نفسیاتی ہوتی ہے۔ جب آپ حقیقی خوشی سے دوچار ہوتے ہیں تو گھڑی کی طرف دیکھنے کی حاجت باقی نہیں رہتی۔ دنیا کا کوئی آلہ یا دوا “مردانہ نفس” مین تین انچ بڑھانے پر قادر نہیں۔ اس نفس میں نفاست ہونا کافی ہے۔ جنسی زندگی پر حقیقت پسندی سے غور کرنا چاہیے۔ اگر جنسی سرگرمی کے فکری، نفسیاتی اور معاشی زاویے بہتر کر لئے جائیں تو غم زندگی کا بوجھ کم کیا جا سکتا ہے۔ باقی قصہ یہ ہے کہ افسردہ ہونے سے  کچھ حاصل نہیں، سیلاب کا ماتم کرنے کی بجائے پل باندھنا چاہیے۔ زمانے میں ایک ہی شخص نہیں ہوتا۔ اور یہ بھی سچ ہے کہ جس شخص کو بھی چنا جائے گا اس سے برابری پیدا کرنا پڑے گی، اس کا احترام کرنا ہو گا اور اس کی خیر خواہی کرنا پڑے گی۔ دوسری صورت میں وقت ضائع ہو گا۔ استاد محترم فرماتے تھے کہ کہیں تو ہوں گی بہاریں، جو گلستاں میں نہیں۔ جنس ایک اہم، بنیادی اور لازمی معاملہ ہے۔ اسے خوشی کا منبع بنانا ہے تو اسے تسلیم بھی کرنا ہو گا۔ اگر کوئی ان باتوں کو بے شرمی سمجھتا ہے تو اسے اپنے آپ سے بات کرنی چاہیے۔ کوئی دوسرا اس کی مدد نہیں کر سکتا۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔