تو مجھ سے خفا ہے تو زمانے کے لیے گا…


پسند نا پسند بعد کی بات ہے، ضروری نہیں کہ کوک اسٹوڈیو کا ہر نیا گانا میں سُن بھی لوں۔ مگر فیس بک کھولتے ہی جیسے ایک یلغار سی ہو جاتی ہے۔ بار بار یہ اسٹیٹس سامنے آتا ہے اور بڑی تعداد میں لوگ اس کو لائک کرتے ہیں یا شیئر۔ میں کیا کروں، میں سوچتا ہوں کہ چلو پہلے سُن لوں۔ لیکن سُننا بھی غضب ہو گیا۔

ویسے تو انھوں نے اب کی بار قومی ترانے کا جو حشر کیا ہے اس کے بعد فاتحہ پڑھ لینے کو جی چاہتا ہے۔۔۔ مگر ترانے پر نہیں! کوک سے کہیں زیادہ جدّت کا مظاہرہ ان تین فن کاروں نے کیا ہے جنھوں نے مقامی سازوں پر لوک دُھن کے انداز میں قومی ترانہ بجایا ہے۔ مگر ان لوگوں کا انداز یہ بن گیا ہے کہ بہت دھوم دھڑکے سے آتے ہیں اور کیا قوالی، کیا غزل سبھی کو تاراج کرکے لوگوں کی یادوں میں محفوظ دُھنوں کو گدلا کر کے چلے جاتے ہیں۔

اس بار بھی یہ ہو سکتا ہے، میں نے نہیں سوچا تھا۔ اصل میں علی سیٹھی کا نام دیکھ کر میں رُک گیا۔ اس نوجوان کی آواز میں ایک کچی کچی تازگی سی ہے جو دو ایک محفلوں میں سُنی تو داد دینے کو جی چاہا۔

اب سے دور ہمارے لڑکپن کے دنوں میں اس طرح گانے کا رواج تھا۔ کوئی نوجوان ترنگ میں آتا اور محمد رفیع، لتا، کشور کمار کے گانے اس سے ملتے جلتے انداز میں سنانے لگتا۔ باقی لوگ کبھی میز پر ہاتھ سے طبلہ بجاتے تو کبھی پلیٹ پر چمچے سے، خوش ہو کر داد دیتے۔ گانے میں تھوڑی بہت کسر رہ جاتی تو شوق کی فراوانی میں کوئی خیال بھی نہ کرتا۔ کالج کے دنوں میں میرا ایک ہم جماعت کتنے لہک کر سُنایا کرتا: ’میرے محبوب قیامت ہو گی۔۔۔‘‘ آج وہ کراچی کا نامی گرامی معالج ہے۔ جب بھی ملتا ہے پہلے حال پوچھتا ہے: سر میں ہلکا ہلکا درد تو نہیں ہوتا، آنکھوں کے آگے اندھیرا تو نہیں چھا جاتا؟ میں سوچتا ہوں کہ اس سے بڑھ کر قیامت اور کیا ہو گی؟

محبت واقعی بڑی سخت جان ہے۔ گلیوں میں رسوا ہونے سے رہ جاتی ہے۔ اب فرق یہ پڑ گیا ہے کہ جو بھی چاہے فوراً یوٹیوب پر آ سکتا ہے۔ کسی برانڈ کی سرپرستی بھی حاصل ہوسکتی ہے اور کوئی نہ کوئی تو پسند کر ہی لے گا۔

صبح کے وقت آئینے کے ساتھ کھڑے ہو کر بال بناتے ہوئے الٹا سیدھا میں بھی گنگنا سکتا ہوں۔ رات کے وقت لوڈشیڈنگ سے پناہ نہ ملے تو زور زور سے شعر پڑھ سکتا ہوں: ’کوئی امید بر نہیں آتی۔ کوئی صورت نظر نہیں آتی۔۔۔‘ ایسے مظاہرے محدود ہی رہیں تو اچھا۔ اپنے اوپر تو بس چلتا ہے، دوسروں کو کیا سمجھائیں؟

لیکن شوق حد سے بڑھ جائے تو درد سر بھی بن سکتا ہے۔ میرے اس عزیز نوجوان نے مہدی حسن کی گائی ہوئی احمد فراز کی مشہور غزل کو دوبارہ گادیا اور اپنے طور پر ٹھیک بھی کر دیا۔ یعنی مرمّت کردی۔

علی سیٹھی نے کوئی اور چیز گائی ہوتی تو شاید اس بار بھی میں سرہلاتا ہوا گزر جاتا۔ مگر اس بار پہلے پہل ’’واقفیت کا صدمہ‘‘ Shock of recognition ہوا پھر تبدیلی پر افسوس۔ مہدی حسن کی یہ غزل ان ہزاروں بار سُنی ہوئی آوازوں میں سے ہے جو ذہن پر نقش ہو جاتی ہیں۔ شاید ان کو دوبارہ سننے کے لیے کوئی شعوری کوشش نہیں کرنا پڑتی۔ یہ خود بخود یاد آئے چلی جاتی ہیں۔ اسی بانکپن کے ساتھ۔

ممکن ہے کوئی کہہ دے، حضرت آپ تو ناسٹلجیا کے مارے ہوئے ہیں۔ برسرالزام یہ بھی سہی۔ لیکن کوئی دیکھے اس نوجوان نے اس غزل کے ساتھ سلوک کیا کِیا ہے۔

اس گائکی کے دوران پیچھے مہدی حسن کی تصویر لگائی ہوئی ہے جو تین حصّوں میں تقسیم ہے۔ واقعی اندازہ ہوتا ہے کہ آج مہدی حسن کو بھی توڑ دیا۔

مہدی حسن تو بے چارے کہیں بہت دور پیچھے رہ گئے، سعادت حسن منٹو کی زبان میں اس غزل کا دھڑن تختہ ہوگیا۔

یہ نوجوان گلوکار اس وڈیو میں بہت مسکراتے ہوئے نظر آرہے ہیں مگر گایا اس طرح ہے کہ جیسے سُر سے بھی خفا ہیں اور لے سے بھی ناراض۔ شاید وہ ان چیزوں کو غیرضروری سمجھتے ہیں۔ سُرتال تو بنیادی عناصر ہیں جن کے بغیر موسیقی کا ظہور نہیں ہوسکتا۔ لیکن کوئی ان کو جا کر سمجھائے کہ غزل کی گائیکی کا بہت گہرا رشتہ الفاظ کے معنی سے ہوتا ہے۔ غزل کو اس طرح گایا جاتا ہے کہ الفاظ پوری طرح ادا ہوں، زور کی جگہ زور اور سکوت کی جگہ سکوت۔ موسیقی کو معنی سے الگ نہیں کیا جاسکتا۔ ہمارے یہ ممدوح اس طرح گانے کھڑے ہو گئے کہ کسی لفظ کو چبا لیا، کہیں پر بیچ میں زور دے دیا، کوئی لفظ دب گیا، کوئی لفظ کھڑا ہو گیا۔ غزل کے معنی ان کے نزدیک ثانوی اور ضمنی ہیں۔

گانا تو گانا، ہاتھ اس طرح چلا رہے ہیں جیسے بھالو مکھیاں اڑا رہا ہو۔ ایک بار ہاتھ چلانے پر آتے ہیں تو چلائے جاتے ہیں۔ کوئی ان کو یہ بھی بتائے کہ ہاتھ چلانے کے کچھ آداب بھی ہوتے ہیں۔

اس پر ایک پرانی بات یاد آگئی۔ ایک مرتبہ میرے والد مجھے کسی پروگرام میں لے کر گئے جہاں کجّن بیگم گا رہی تھیں۔ انھوں نے گانا کم کر دیا تھا اور شاذ و نادر نظر آتی تھیں۔ انھوں نے اپنے ساتھ کھڑی ہوئی ایک دبلی پتلی، سانولی سلونی لڑکی سے میرے والد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا، ڈاکٹر صاحب کو سلام کرو۔ پھر بتانے لگیں، اس نے گانا شروع کیا ہے، اس کو ساتھ لے کر آئی ہوں۔ لڑکی نے اپنا نام مہناز بتایا اور بہت بعد میں جب اس نے ’’چھاپ تلک‘‘ گایا تو میرے والد کو اُس وقت کی دعا اور مبارک باد یاد آجاتی تھی۔ کجّن بیگم نے شکایت کے انداز میں کہا، یہ ٹی وی والے کہتے ہیں بن سنور کر بیٹھو، پھر ہاتھ بھی چلائو۔ یہ کام ہم سے نہیں ہوتا۔ مجھے اب خیال آتا ہے ان کی تربیت ریڈیو کی تھی جہاں ہاتھ چلانے کی گنجائش کم سے کم تھی۔

اس پر مجھے ایک اور بڑے موسیقار کی نصیحت یاد آئی۔ قوالی محض لے کاری نہیں بلکہ اس کے پیچھے باقاعدہ علم ہوتا ہے، اس علم کا دوبارہ احساس دلانے والے فن کار ایاز فرید اور ابو محمد جو حضرت امیر خسروؒ کے قائم کردہ قوال بچّہ گھرانے کی سات سو سالہ روایت کو آگے لے کر چل رہے ہیں۔ وہ اپنے گھر پر رمضان کی راتوں میں ریاض کی محفل کرتے ہیں جس میں اپنے خاندان کے نوجوانوں کو تربیت دیتے ہیں۔ اس میں وہ پانچ سات لوگوں کو سننے کی اجازت بھی دے دیتے ہیں۔ ایک مرتبہ وہاں اتفاق سے صبین محمود کا ساتھ بھی ہو گیا۔ ایک نوجوان لڑکے نے تان بلند کرتے ہوئے ہاتھ اٹھا دیا۔ ایاز فرید صاحب نے اسے وہیں ٹوک دیا اور بتایا کہ اس جگہ ہاتھ اٹھانے کے بجائے فلاں موقع پر ہاتھ اٹھانا بہتر ہے۔ اس کی وجہ سے تان کا اثر بڑھ جاتا ہے۔ انھوں نے سمجھایا کہ قوالی کے دوران جسم کی حرکات اور ہاتھ اٹھانے کے بھی آداب ہوتے ہیں اور ان کا دھیان ضروری ہے۔ شاید یہ بہت چھوٹی چھوٹی باتیں ہیں مگر ان کو سمجھانے والے اور ان کا مطلب بیان کرنے والے ہمارے درمیان موجود ہیں۔

اس سے بھی دو ہاتھ آگے تو وہ اس غزل کے ساتھ گئے ہیں۔ شاید ان کو اتنا تو معلوم ہوگا کہ یہ کسی معمولی تُک بند کا کلام نہیں ہے جس کے ساتھ جو جی چاہا سلوک کر دیا۔ یہ اس دور کے معروف شاعر احمد فراز کا کلام ہے اور اس کے گانے کے لیے تھوڑا بہت فہم اور احترام ضروری ہیں۔ خدا جانے کیا سوچ کر انھوں نے فراز کی غزل کے دو اشعار کے بعد کسی اور کا شعر ٹانک دیا۔ بالکل جیسے مخمل میں ٹاٹ کا پیوند۔ یہ بھی نہیں سوچا کہ یہ مصرعے اس غزل کے ساتھ گائے بھی جا سکتے ہیں یا نہیں۔ لیکن شاید وہ غزل کی معنویت کے قائل ہی نہیں ہیں۔

یہ ضرور ہے کہ اردو شاعری میں غزل پر غزل کہنے کی روایت رہی ہے۔ اساتذہ کی زمین میں غزل لکھنا اپنی مہارت کا ثبوت سمجھا جاتا ہے۔ بعض لوگ اس طرح کی غزلوں کو آمیخت کرکے گاتے بھی ہیں۔ بیگم اختر، جگجیت سنکھ اور ٹینا ثانی نے بعض غزلیں اس انداز میں گائی ہیں۔ لیکن دونوں کے درمیان کوئی مناسب تو ہو۔

احمد فراز روایت سے آشنا تھے۔ انھوں نے جو زمین اس غزل کے لیے مُنتخب کی ہے اس کے پیچھے ہندوستان کی فارسی شاعری کی بہت بڑی شخصیت کی پرچھائیں نظر آتی ہے۔ بیدل جیسے صاحب مرتبہ شاعر کی مشہور غزل ہے:

ستم است اگر ہوست کشد کہ بہ سیرِ سرو و سمن در آ

تو زُغنچہ کم نہ دمیدہ ای درِ دل کشا بہ چمن در آ

فراز نے الگ لہجہ اور انداز اختیار کیا ہے۔ ان کی پوری غزل ایک کیفیت کی غزل ہے۔ اشعار میں ارتباط اور ہم آہنگی ہے۔ یہ نوجوان فراز کے مصرعوں میں زبردستی دوسرے کا کلام ٹھونس رہے ہیں بالکل جیسے آج کل ایس ایم ایس کے مزاحیہ بے تکے اور بے وزن لطیفوں میں فراز کا نام ڈال دیا جاتا ہے۔ لطیفہ مکمل کرنے کے لیے کسی معروف شاعر کا نام دینا ضروری ہے جس کے نام سے سب واقف ہوں۔ فراز سے بہتر اس مقصد کے لیے کون ہوتا۔ جو کام ایس ایم ایس کے لطیفہ گھڑنے والے نے کیا وہی ان صاحب نے بھی کیا۔ ان کو کیا سمجھائیں کہ یہ وہی فراز ہیں جن کی نظم محاصرہ ہمارے اجتماعی لاشعور میں صبح شام گھومتی رہنی چاہیے۔ ان کے نام کا احترام نہیں کر سکتے تو بدمذاقی سے وابستہ نہ کریں۔

ایک بات اور۔ یہ ویڈیو دیکھنے کے بعد بند کرنے لگا تو قومی ترانے کا نشان پھر سامنے آ گیا۔ نہیں، مجھ میں اس کو دوبارہ دیکھنے کی ہمّت نہیں۔ میرے ایک دوست نے فیس بک پر سوال درج کیا ہے: یہ سارے لوگ آخر اس قومی ترانے کے پیچھے کیوں پڑ گئے ہیں، جس کو دیکھ وہ اس کا مزاج درست کرنے پر تُلا ہوا ہے۔

ان سے کہیں زیادہ پُراثر وہ ویڈیو ہے جو ہندوستان سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کے Acapella گروپ Voxchorde نے تیار کی ہے۔ اپنے پڑوسی ملک کو سالگرہ کا تحفہ دینے کے لیے، وہ پہلے یہ بتاتے ہیں۔ پھر بڑی دل جمعی کے ساتھ وہ الفاظ ادا کرتے ہیں جو ان کے لیے یقیناً نامانوس ہیں۔

مجھ تک یہ ویڈیو اپنے دوست عامر مفتی کے ذریعے سے پہنچی ہے جو زبردست نقاد اور عالمی ادب کے بڑے نظریہ ساز نقاد اور استاد ہیں۔ عامر مفتی نے سوال کیا ہے کہ پاکستان میں کس میں اتنی طاقت اور جرأت ہے کہ اس موقعے کی مناسبت سے جواب دے؟ یا تو جن من گن گائے اور وہ بھی نہیں تو اقبال کا سارے جہاں سے اچھا ہندوستان ہمارا؟

اس نوجوان کی گائیکی نے تو مطلب خبط کر دیا ورنہ اگست کے اس مہینے میں جب آزادی اور تقسیم کی باتیں ہورہی ہیں تو پڑوس کی دیوار کی طرف مُنھ کرکے ہم بھی تو کہہ سکتے تھے: رنجش ہی سہی، دل ہی دکھانے کے لیے۔۔۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔