باکرہ لڑکیوں کی عزت کو موٹر سائیکل سے خطرہ


 قدیم مصری معاشرے میں دوشیزگی یا کنوار پن پر بے پناہ اہمیت دی جاتی تھی یہاں تک کہ شاہی خاندان کی شہزادیوں کو تو ایک مخصوص بیلٹ جسے مقفل کیا جاسکے ‘ پہنا کر رکھا جاتا تھا۔ دوشیزگی کی جانب ایسے ہی کچھ تصورات ہمیں قدیم ہندی معاشرے میں بھی ملتے ہیں جہاں ایک مرد کی ایک بیوی کا تصور رائج تھا اور اسی لیے لڑکی کی دوشیزگی پر بے پناہ زور دیا گیا لیکن جب ہم تاریخِ عرب پر روشنی دوڑاتے ہیں تو وہاں یہ تصور کسی خاص توجیہ کے ساتھ موجود نہیں تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ہمیں بیوہ اور طلاق یافتہ خواتین کی شادی کا جابجا ذکر ملتا ہے۔

پاکستان گو کہ کہنے کو ایک اسلامی معاشرہ ہے لیکن کیونکہ یہ خطہ صدیوں ہندو مت کے زیرِ اثر رہا لہذا یہاں کی معاشرت پر اسی مذہب کے اثرات آج بھی دیکھے جا سکتے ہیں حالانکہ خطہ پاکستان کے عوام کو اسلام قبول کیے اب کئی صدیاں بیت چکی ہیں تاہم اب بھی ہمارے معاشرے میں کنوارپن یا دوشیزگی اس قدر اہمیت کی حامل ہے کہ اگر کوئی لڑکی شبِ عروس اپنے کردار کا ثبوت دینے میں ناکام ہوجائے تو اکثر اوقات نوبت قتل تک آجاتی ہے اور اگر اس کا پالا کسی انتہائی رحم دل شخص سے پڑا ہے تو بھی طلاق سے کم پر بات نہیں ہوتی۔ اور ہمارے معاشرے میں کسی لڑکی کا شادی کے فوراً بعد طلاق یافتہ کے درجے پر فائز ہونا شاید قتل سے بھی بڑی سزا ہے۔

ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہم ایک خالصتاً مردانہ معاشرے میں رہتے ہیں جہاں خواتین کی نفسیات، ان کے مسائل اور ان کی معاشرت کو سمجھنے کی شاید کوشش ہی نہیں کی گئی اور اگر کسی نے یہ کوشش کی بھی تو اسے راندہ درگاہ قرار دیا گیا جیسا کہ اس تحریر کی اشاعت کے بعد مجھے قرار دیا جائے گا۔

مجھے بچپن سے ایک بات ستاتی تھی کہ پاکستان جیسے معاشرے میں جہاں خواتین تعلیم بھی حاصل کرتی ہیں، نوکری بھی کرتی ہیں یہاں تک کہ سیاست میں بھی حصہ لیتی ہیں آخر کیا وجہ ہے کہ وہ موٹر سائیکل پر ویسے نہیں بیٹھ سکتیں جیسا کہ مرد بیٹھنے کا حق رکھتے ہیں یا کھیل کے میدانوں پر صرف مردوں کی ہی اجارہ داری کیونکر قائم ہے جبکہ کھیل اور اس جیسی دیگر سرگرمیاں خواتین کی جسمانی نشونما کے لیے بھی اتنی ہی ضروری ہیں جتنی کہ یہ مردوں کے لیے ہیں۔

سوال کا کشکول اٹھائے میں پہلے گھر کے بزرگوں کے پاس گیا لیکن کوئی شافی جواب نہ ملا۔ اس کے بعد تلاش کا دائرہ وسیع ہوا۔ علمائے کرام اور اپنے ارد گرد موجود ان افراد سے بھی سوال کیا جو بہت سی باتوں پر انتہائی معقول رائے رکھتے ہیں۔  لیکن ہر جگہ مایوسی نے منہ چڑایا اور کئی نے یہاں تک کہہ دیا کہ تمہیں کیا مسئلہ ہے۔ جب خواتین کو موٹر سائیکل پر اس طرح بیٹھنے پر اعتراض نہیں ہے۔

ڈھونڈنے بیٹھو تو خدا مل جاتا ہے۔ یہ تو ایک معمولی سوال تھا جس کا معقول جواب بھی موجود تھا لیکن نجانے کیوں معاشرے کے اعلیٰ دماغ اس جواب کو طاقِ نسیاں پر رکھ کر بھول گئے اور اس موضوع پر بات کرنا بھی ممنوع قرار دے دیا گیا جس کے سبب نجانے کتنی بے قصور لڑکیا ں شبِ عروس اپنے عروسی جوڑے میں ملبوس اپنے ہی خون میں نہلا دی گئیں اور جرم یہ بتایا گیا کہ وہ باکردار نہیں ہیں۔

گوہرِ عفت کے موضوع پر انٹرنیٹ پر دستیاب کئی مضامین پڑھ کر اندازہ ہوا کہ یہ وہ نازک آبگینہ ہے جو ذرا سی ٹھیس سے ضائع ہوسکتا ہے اور موٹر سائیکل پر مردوں کی طرح بیٹھنا، گھڑسواری، کرکٹ اور دیگر اقسام کے کھیل اس نایاب شے کے اولین دشمنوں میں سے ہیں تو نتیجہ نکالا کہ یہی وہ جواب ہے جس کی شاید ایک طویل عرصے سے تلاش تھی اور جسے شرم کے سبب معاشرے کے بزرگ بتانے سے قاصر تھے۔

ہمارے معاشرے میں قدیم ہند کی پرچھائیاں اس قدر گہری ہیں کہ ان سے چھٹکارا حاصل کرنا شاید طویل عرصے تک ممکن نہ ہو۔ شاید ہمارے بزرگ اور ہم خود بھی آئندہ کئی سال تک لڑکیوں کو یہ بتانے سے قاصر رہیں گے کہ آخر وہ کون سی وجہ ہےجس کے سبب ان پر کئی دروازے بند ہیں اور نجانے کب ہم اپنے نوجوانوں کو یہ بات باور کرانے میں کامیاب ہوں گے کہ لڑکی کا باکردار ہونا محض اس کے دامن سے چند قطرہ ہائے لہو کے نچڑنے سے تعبیر نہیں کیا جاسکتا بلکہ اس کے لیے اور بھی عوامل ہیں جنہیں مدِ نظر رکھنا انتہائی ضروری ہے۔

اسی موضوع پر جب کچھ مذہبی کتب سے رجوع کیا گیا تو معلوم ہوا کہ ہم جس دینِ مبین کے ماننے والے ہیں وہاںِ محض گوہرِ عفت کو کردار کی شرط ہرگز ہرگز قرار نہیں دیا گیا بلکہ ایک کتاب میں تو صاف صاف لکھا تھا کہ ’’اگر شبِ عروس خون نہ بہے تو کسی بھی قسم کے نتیجے میں پہنچنے پر جلدی نہ کرو بلکہ پہلے لڑکی کے خاندان‘ اس کے اہلِ محلہ اور دیگر ملحقہ افراد سے اس کے کردار کی تصدیق کرو کہ اکثر اوقات بچپن میں کھیل کود کے دوران پردہ  بکارت زائل ہوجاتا ہے اور لڑکیوں کو اس کی خبر بھی نہیں ہوتی‘‘۔ ایک سائنسی جریدے سے یہ معلوم چلا کہ کچھ لڑکیاں پیدائشی طور پر گوہرِ عفت سے محروم ہوتی ہیں۔

اب کیا کیا جائے‘ مذہب اور سائنس ایک جانب کھڑے ہیں اور ہم اور ہمارا شرمیلا معاشرہ دوسری جانب موجود ہے‘ مکالمہ یہ ہے کہ آیا خواتین کو موٹر سائیکل پر باعزت طریقے سے بیٹھنے، کرکٹ اور دیگر کھیل کھیلنے کی اجازت ملے گی یا نہیں۔ میرا ذاتی خیال ہے کہ اس مکالمے کو معاشرے میں عام ہونے میں ابھی خاصا وقت درکار ہے لیکن ایک نہ ایک دن تو اس کا آغاز ہونا ہے۔ ہم اپنی مشرقی شرم پر ایسے ہی اپنی بیٹیاں قربان نہیں کرسکتے اور نہ ہی زندگی کہ کئی میدان محض اس لیے ان پر بند کرسکتے ہیں کہ وہ لڑکیا ں ہیں۔

 لہذا میرا خیال ہے کہ دو اقدامات فی الفور کرنے چاہییے اور وہ یہ کہ نوجوانوں کی ذہن سازی شروع کرنی چاہیے تاکہ ہم مستقبل میں کسی بے قصور کی زندگی بچا سکیں اور دوسرا یہ کہ کم از کم شادی شدہ خواتین کو موٹر سائیکل پر تمیز سے بیٹھنے کی اجازت دے دینی چاہیے انہیں یہ بتا کر کہ شادی سے قبل اس لیے تمہیں ایسا کرنے سےروکا جاتا تھا اور اب اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔ تو کیا خیال ہے کیا آپ خواتین کو مردوں کی طرح موٹر سائیکل پر بیٹھا دیکھنے کے لیے تیار ہیں؟


اسی بارے میں

ویلنٹائن ڈے اور مدنی تکیہ


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔