امیر صاحب پر بیٹھی شوریٰ اور پشاوری عرب کھجور کا بوٹا


تبلیغی مرکز میں لڑکھڑاتی لہراتی ڈولتی کراہتی ہوئی ایک چارپائی داخل ہوئی۔ اینٹری اتنی کلاسک تھی کہ مرکز کے نگران سارے کام چھوڑ کر کھڑے ہو گئے۔ ان کے پاس پہنچ کر چارپائی رکھ کر جوانوں نے پسینہ پونچھنا شروع کیا ہاتھ جھاڑے اور تابعدار کھڑے ہو گئے۔ چارپائی پر پڑی چیز کے رونے کرُلانے کی آوازیں برابر آ رہی تھیں۔

مرکز کے نگران نے جائزہ لیا صورتحال کا اور کہا۔ او ظالمو یہ کیا کیا ہے اسے تمھارا امیر بنا کر بھیجا تھا۔ تم سب کو ہدایت دی تھی کہ مل جل کر امن سے رہنا۔ کوئی اختلاف ہو تو آپس میں مشورہ کر لینا۔ یہ کس نے کیا ہے کیوں مارا ہے جوانوں نے سن کر جواب دیا۔ امیر صاحب یہ ہم سب نے مل کر مشورے سے اپنے دل کی تسلی کی ہے۔ تبلیغی حضرات ہی جانتے ہیں کہ مشورے کی کیا اہمیت ہےاور مشورے سے کسی امیر کو کٹ لگانے کا کیا ثواب ہے۔

یہودیوں کے کلاسیکی ادب سے اقتباس آج پڑھا۔ جیوری، آپ جرگہ سمجھ لیں یا عدالت کہہ لیں جب کوئی متفقہ فیصلہ کرے تو اس کا سیدھا سادہ ایک ہی مطلب ہے کہ انہوں نے کوئی بے گناہ ٹنگ دیا ہے۔

اب اطلاع یہ ہے کہ کپتان آج کل پہاڑوں پر گیا ہوا ہے۔ ٹھنڈے نیلے پانیوں کی جھیلوں کی سیر کرتا پھر رہا ہے۔ اس پر کڑی ( جن کے دل زیادہ جلے ہوئے ہیں وہ اس کڑی پر پیش ڈال کر پڑھیں افاقہ ہوگا ) نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ ہو سکتا ہے وہ اپنی سیاستوں کے ایسے نتائج نکلنے پر کسی جھیل میں اچانک چھلانگ نہ مار دے۔ اب اس بلاگ کی دم باندھتے ہیں۔

آج کل کے پی میں ایک عرب درخت یعنی پوری ایک کھجور لگنے پر کل عالم میں کہرام بپا ہے۔ جو درخت دکھائے جا رہے ہیں ان کے سائے میں ہمارے عزیز از جان دوست محترم عامر خاکوانی پورے کے پورے بیٹھ سکتے ہیں۔ اس کارنامے پر کے پی حکومت کو داد دینی بنتی ہے۔ کاش کلاسرہ صاحب آج کل حکومت کی گیس نہ نکال رہے ہوتے۔ وہ فارغ ہوتے تو کے پی حکومت کے ایک عرب درخت میں دس ارب کا دھواں ضرور نکال دیتے۔

اس بلاگ کو نہایت سنجیدگی سے پڑھیں۔ ہو سکتا ہے فاضل مصنف کا دل کر رہا ہو کہ وہ کپتان کے متوالوں تبلیغی جماعت کے رکھوالوں اور میڈیا کے جرنیلوں سے اکٹھی عزت کرانا چاہ رہا ہو۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

وسی بابا

وسی بابا نام رکھ لیا ایک کردار گھڑ لیا وہ سب کہنے کے لیے جس کے اظہار کی ویسے جرات نہیں تھی۔

wisi has 244 posts and counting.See all posts by wisi