امریتا پریتم، ساحر لدھیانوی اور امروز کی محبت


امریتا پریتم پنجابی ادب کی عظیم شاعرہ تھی۔ اس نے اپنے محبوب کے نام آخری خط لکھا تھا، وہ محبوب کون تھاَ اس کا نام جاننا چاہیے۔ اس کے علاوہ امریتا پریتم کی حقیقی محبت کے بارے میں بھی کچھ منفرد باتوں کا ذکر ہو گا لیکن سب سے پہلے میں امریتا کا وہ آخری خط سناتا ہوں جو مجھے بہت دلکش لگتا ہے۔ یہ خط نہیں ایک شاہکار ہے۔ ملاحظہ فرمایئے۔۔۔۔ میں تجھے پھر ملوں گی، کہاں، کیسے، پتہ نہیں، شاید تمہارے خیالوں کی چنگاری بن کر، تمہارے کینوس پر اتروں گی، یا شاید تمہارے کینوس پر ریکھا بن کر، خاموش تمہیں دیکھتی رہوں گی، میں تجھے پھر ملوں گی، کہاں، کیسے، پتہ نہیں، یا سورج کی رو بن کر، تیرے رنگوں میں گھلتی رہوں گی، یا رنگوں کی بانہوں میں بیٹھ کر، تیرے کینوس پر بچھ جاؤں گی، پتہ نہیں، کیسے، کس طرح، پر تجھے ضرور ملوں گی۔ یا پھر ایک جھرنا بنوں گی، جیسے جھرنے سے پانی اڑتا ہے، یہ پانی کی بوندیں تیرے جسم پر ملوں گی، اور ایک شیتل احساس بن کر، تیرے سینے سے لگوں گی، میں اور کچھ نہیں جانتی، پر اتنا جانتی ہوں، کہ وقت جو بھی کرے گا، یہ جنم میرے ساتھ ملے گا، یہ جسم ختم ہوتا ہے، تو سب کچھ ختم ہو جاتا ہے، یہ یادوں کے دھاگے، کائنات کی لمحوں کی طرح ہوتے ہیں، میں ان لمحوں کو چنوں گی، اور ان دھاگوں کو سمیٹوں گی، میں تجھے پھر ملوں گی، کہاں، کیسے، پتہ نہیں، پر میں تجھے پھر ملوں گی۔۔۔

یہ خط پڑھ کر میں امریتا پریتم پر لکھنے کے لئے مجبور ہو گیا۔ امریتا نے صرف تاریخ کا مطالعہ نہیں کیا، بلکہ تاریخ کا جبر اور ظلم بھی برداشت کیا۔ تاریخ کو لاش کی طرح دیکھا اور اس تاریخ کے چلتے پھرتے انسانوں کو لاشوں کی صورت میں دیکھا۔ امریتا اس تاریخ کا حصہ بنی، جس نے 1947ء میں لاکھوں انسانوں کو بغیر کسی گناہ کے مار دیا۔ مرنے والوں کے بارے میں منٹو نے کہا تھا۔ “یہ مت کہو کہ ایک لاکھ مسلمان اور ایک لاکھ ہندو مارے گئے۔ یہ کہو دو لاکھ انسان مارے گئے”۔ امریتا نے تقسیم ہند کے دوران مرنے والے انسانوں کے درد کو اپنی ایک لازوال اور شاہکار پنجابی نظم میں بیان کیا تھا۔ اس درد سے مزین نظم میں اس نے کہا تھا تھا، اج آکھاں وارث شاہ نوں۔ کتوں قبراں وچوں بول، تے اج کتاب عشق دا، کوئی اگلا ورقا کھول۔

امریتا پریتم ایک خوبصورت اور معصوم خاتون تھی، جو بدقسمتی سے یا خوش قسمتی سے اس علاقے میں پیدا ہوئی جو اب پاکستان کا حصہ ہے۔ 1919ء میں پاکستان میں پیدا ہوئی اور تقسیم ہند کا قتل عام دیکھتے دیکھتے دلی جا بسی۔ اس انوکھی اور لاڈلی لڑکی کی شادی سولہ سال کی عمر میں پریتم سنگھ سے کردی گئی۔ شادی کے بعد امریتم کور امریتا پریتم بن گئی۔ اب شادی ہوگئی، جس میں امریتا کی مرضی شامل نہیں تھی۔ محبت کے بغیر شادی نے امریتا کو لفظوں سے کھیلنے کا ہنر دے دیا۔ شادی شدہ تھی، لیکن محبت کر بیٹھی اور وہ بھی اردو ادب کے ایک عظیم شاعر اور نغمہ نگار سے۔ ایسی بے پناہ محبت کی کہ غم اور درد میں اضافہ ہوگیا۔ اپنے شوہر کو چھوڑ دیا۔ یہ 1960 کا زمانہ تھا۔ پریتم سنگھ سے ان کے دو بچے تھے۔ دو بچے تھے تو کیا ہوا، کہتی تھی، محبت تو وہ اس شاعر سے کرتی ہیں، جس کے لئے شوہر سے طلاق لی ہے۔ مرتے دم تک امریتا نے اس شاعر سے محبت نبھائی اور خوب نبھائی۔ کہا جاتا ہے کہ امریتا کو یک طرفہ محبت تھی، لیکن اس شاعر نے بالی وڈ کے لئے جتنے بھی نغمے لکھے، ان تمام نغموں میں امریتا کا عکس تھا۔ وہ شاعر بھی ان سے محبت کرتا تھا۔ اس شاعر نے کسی اور خاتون سے بھی دل لگایا، اس وجہ سے امریتا کا دل ٹوٹا اور ایسا ٹوٹا کہ امریتا دنیا کی عظیم ادبی شخصیت بن گئیں۔

اس کے بعد امریتا کی زندگی میں ایک اور انسان آیا۔ وہ اس سے محبت تو نہیں کرتی تھی، لیکن بغیر شادی کے ان کے ساتھ پنتالیس برس رہیں، اس پر انہیں گالیاں بھی پڑیں، دھمکیاں بھی دی گئیں، لیکن وہ اس انسان کے ساتھ رہیں۔ کہانی میں اس انسان کا بھی ذکر آنے کو ہے۔ ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ جس کے ساتھ امریتا پنتالیس سال رہیں، اس کے ساتھ جسمانی رشتہ بھی نبھایا اور وہ شخص جانتا تھا کہ امریتا کو فلاں شاعر سے محبت ہے۔ اس کے باوجود وہ امریتا سے بے پناہ محبت کرتا ہے۔ 1980ء میں وہ شاعر جس سے امریتا کو عشق تھا، وہ دل کا دورہ پڑنے سے مر گیا، اس شاعر کا مرنا امریتا کے لئے عظیم ترین سانحہ تھا۔ وہ تنہا ہو گئی تھی، وہ خود کہتی تھی کہ اب وہ برباد ہو گئی ہیں۔ امریتا ایک خوبصورت خاتون تھی، لیکن ان کے الفاظ بھی بہت خوبصورت تھے۔ پنجابی ادب اور امریتا  ایک دوسرے سے جڑے ہیں۔

کیا کمال خاتون تھی، گیارہ برس کی عمر میں ماں مر گئی، باپ سنیاسی بن گیا، ان کے باپ کا نام کرتار سنگھ تھا۔ سولہ برس کی عمر میں شادی ہو گئی۔ کہا جاتا ہے کہ ان کا رنگ سفید تھا، پتلے پتلے ہونٹ تھے، چال میں مستی اور شرارت تھی اور بدن میں محبت کی آگ تھی اور روح میں روحانیت تھی۔ سردار پریتم سنگھ بچپن کا رشتہ تھا، وہ ساری عمر رہا، اس کی وجہ یہ ہے کہ پریتم کا نام امریتا کے نام کے ساتھ ہمیشہ چمٹا رہا، بلکہ امریتا کی پہچان امریتا پریتم تھی۔ 1960ء میں دو بچوں کی ماں امریتا پریتم چالیس برس کی ہو چلی تھی، اج اکھاں وارث شاہ نوں، ان کی یہ نظم پاکستان میں بھی بہت مقبول ہوئی۔ احمد ندیم قاسمی نے اس نظم پر تبصرہ کیا تھا کہ تقسیم سے دکھی لاکھوں لوگ یہ نظم اپنی جیبوں میں رکھتے تھے اور دن میں دس دس بار پڑھتے تھے اور روتے تھے۔ یہ نظم پاکستانی فلموں میں بھی استعمال کی گئی۔

تقسیم کے بعد امریتا پاکستان سے دلی چلی گئیں تو دل پاکستان میں اس عظیم شاعر کے سپرد کر کے آئیں جسے دنیا ساحر لدھیانوی کہتی تھی۔ تقسیم ہند کے بعد امریتا دلی میں براڈ کاسٹر بن گئی، پنجابی میں شاہکار نظمیں، کہانیاں لکھنا شروع کر دیں، اتنی خوبصورت اور حسین شاعرہ تھی کہ نوجوان ان سے ملنے کے لئے ٹرپتے رہتے تھے۔ کئی ایوارڈ سمیٹے، 1986ء سے 1992ء تک بھارتی راجیہ سبھا کی رکن رہی۔ امریتا جب لاہور میں رہتی تھی تو پنجابی ادب میں ان کا ڈنکا بجتا تھا۔ وہ لاہور میں بھی بہت مقبول تھی۔ ان کے نام کے لاہور کے علاوہ پاکستان کے ان علاقوں میں بھی چرچے تھے جہاں پنجابی بولی اور سمجھی جاتی تھی۔

لاہور کے پاس پریت نگر نام کا ایک علاقہ تھا۔ امریتا کسی تقریب میں یہاں گئی اور محبت کر بیٹھی۔ شاید اس گاؤں میں انہوں نے ساحر کو پہلی مرتبہ دیکھا تھا۔ امریتا کہتی ہیں کہ ساحر کے لفظوں میں جادو تھا یا اس کی خاموش نظروں کا اثر کہ انہیں ساحر سے عشق ہو گیا۔ لاہور میں جب بھی ان سے ملتا تھا۔ خاموش بیٹھا رہتا تھا۔ وہ چپ چاپ سگریٹ پیتا، اور آدھی سگریٹ پی کر بجھا دیتا، اور پھر ایک نیا سگریٹ سلگا دیتا۔ جب وہ چلا جاتا تو سگریٹ کے ٹکڑے وہاں اس کے گھر میں رہ جاتے، وہ ان سگریٹ کے ٹکڑوں کو سنبھال کر الماری میں رکھ دیتی تھی۔ پھر اکیلے میں ایک ایک ٹکڑے کو ہاتھ لگاتی تھی اور ایسا محسوس ہوتا، جیسے وہ ساحر کے ہاتھ کو چھو رہی ہو۔ ساحر اور امریتا کا مسئلہ یہ تھا کہ دونوں ذاتی زندگی کے بوجھ میں دبے تھے۔ ساحر نے ایک نظم لکھی تھی اور فریم کرا کر امریتا کو بھجوا دی تھی۔ اس نظم کا نام تھا تاج محل۔ امریتا نے مرتے دم تک وہ نظم سینے سے لگا کر رکھی۔ اک شہنشاہ نے دولت کا سہارا لے کر۔۔۔ ہم غریبوں کی محبت کا اڑایا ہے مذاق۔۔۔

ساحر اور امریتا ملتے رہے، لیکن خاموش رہے۔ دونوں کشمکش میں رہے، دونوں زندگی سے تنگ تھے، لیکن مجبور تھے۔ امریتا خود کہتی ہیں کہ ان کے اور ساحر کے درمیان نوسو میل کا فاصلہ تھا، یہ نوسو میل لمبا ایک ریگستان تھا جو ہم دونوں کے سامنے تھا۔ اس وجہ سے دونوں اپنے آپ سے لڑتے رہے۔ 1960ء میں شوہر سے علیحدہ ہوئی، بھاگی بھاگی فون کرنے گئی، لیکن راستے میں ایک اخبار کی سرخی پڑھ لی، جس میں یہ لکھا تھا کہ اردو کے عظیم شاعر ساحر لدھیانوی کی زندگی میں ایک اور حسینہ آگئی ہیں۔ یہ خبر امریتا پریتم پر پہاڑ بن کر ٹوٹی۔

پھر امریتا کی زندگی میں ایک اور انسان آیا۔ اس کا نام تھا امروز۔ امروز جانتا تھا کہ امریتا کو ساحر سے عشق تھا، لیکن وہ پروا نہیں کرتا تھا۔ وہ کہتا تھا کہ اگر اس کو ساحر سے عشق ہے تو مجھے اس سے عشق ہے۔ اس میں امریتا کا کیا دوش۔ پھر یہ تینوں آپس میں ملتے بھی تھے، اکھٹے بیٹھ کر پیتے بھی تھے۔ امریتا کہتی تھی خدا مارنا مجھے چاہتا تھا مار ساحر کو دیا۔ ساحر کی موت پر امریتا بکھر کر رہ گئی۔ اندر جیت جسے دنیا امروز کہتی ہے، یہ امروز ایسا عاشق بنا کہ جس کی کوئی مثال نہیں۔ یہ بھی فلمی انداز میں امریتا کی زندگی میں داخل ہوا۔ امریتا پریتم کہتی ہیں کہ ان کے اور ساحر کے درمیان دو دیواریں تھی جس کی وجہ سے وہ اکھٹے نہ ہو سکے۔ ایک خاموشی کی دیوار تھی، جو ہمیشہ برقرار رہی، دوسری دیوار زبان کی دیوار تھی، میری زبان پنجابی تھی، میں پنجابی کی شاعرہ تھی اور ساحر اردو زبان کا شاعر تھا۔ ان دیواروں نے ہمیشہ ہمیں جدا کئے رکھا۔ اس رشتے کا اس سے دردناک انجام اور کیا ہوسکتا تھا۔

امروز عظیم مصور تھا اور امریتا پنجابی ادب کی عظیم شاعرہ۔ دونوں کی خوب نبھی۔ امروز سکوٹر پر امریتا کو آل انڈیا ریڈیو چھوڑنے جاتا تھا اور کہتا تھا کہ امریتا اس کی پیٹھ پر اپنی انگلیوں سے ساحر ساحر لکھتی رہتی تھی۔ وہ کہتا تھا پاگل پن کی حد تک امریتا کو ساحر سے عشق تھا۔ سکوٹر سے دونوں پھر کار پر آگئے، پھر اکھٹے رہنے لگے، پھر جسمانی تعلقات استوار ہوئے، اکھٹے کھانا بناتے، اکھٹے رہتے۔ لیکن امروز کہتا امریتا کو عشق صرف ساحر سے تھا اور اس حقیقت سے وہ واقف تھا۔ اور اس حقیقت کو انجوائے کرتا تھا۔ اس کے بعد دنیا نے امریتا کی شہرت کا دور دیکھا۔ دولت تھی، شہرت تھی، امریتا کے قلم کا جھنڈا دنیا بھر میں لہرا رہا تھا۔ نظمیں عام و خاص میں مشہور تھیں۔ لیکن ساحر کی موت نے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے امریتا کو غم زدہ کر دیا تھا۔ امریتا کا ایک دلچسپ جملہ ہے۔ وہ کہتی ہیں دنیا کے تمام انسانوں میں روحانیت ایک ہوتی ہے، لیکن مذہب کئی ہوتے ہیں۔

امریتا پریتم نے شاید 1990 میں کسی تقریب کے دوران کہا تھا، “اس جدید دنیا میں انسان اور انصاف کے درمیان ابھی بہت لمبا فاصلہ ہے۔ اس لئے تمام انسانوں کے لئے انصاف کا خواب دیکھنا ناممکن ہے”۔ نئی صدی آ رہی تھی، پرانی صدی جا رہی تھی، امریتا پریتم اب اسی سال کی ہو چکی تھی۔ امروز ان کے ساتھ تھا۔ 31 اکتوبر 2005 کو وہ انتقال کر گئی۔ امریتا نے آخری خط امروز کے نام لکھا تھا۔ میں تمہیں پھر ملوں گی، کہاں، کس طرح، نہیں جانتی۔ یہ دن امروز کے لئے بہت دردناک تھا۔ امریتا نے جس سے عشق کیا، وہ پہلے مر چکا تھا اور جس نے امریتا سے عشق کیا، اسی کی گود میں امریتا نے دم توڑ دیا۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

سخاوت حسین (ملتان)۔ کی دیگر تحریریں
سخاوت حسین (ملتان)۔ کی دیگر تحریریں