محمود اچکزئی۔۔۔ یہ کمپنی نہیں چلے گی


ماسٹر بھولا پرانے پیاک ہیں۔ انہیں سب دوست پیار سے بیوڑے میاں یا بیوڑے لالا کہتے ہیں۔ بلا نوش ہیں۔ رات کے آخری گھنٹے تک ٹھیک ٹھیک بتاتے ہیں کہ گلاس میں موجود مشروب کا نام کیا ہے؟ کوالٹی کیا ہے۔ کس پھل کا افشردہ کشید کیا ہے۔۔۔ اخروٹ کے کوئلے میں چھانا گیا ہے یا شیشم کا ستیاناس کیا ہے۔ اس محلول کے نتیجے میں رگ و پے میں دوڑنے والی کیفیت کو کیسے بیان کرنا ہے۔ ایک روز بھولا بھائی سے ہاتھ ہو گیا۔۔۔ کیسے ہوا؟ باقی بیان ایک مختصر وقفے کے بعد۔۔۔۔

محمود اچکزئی پاکستان کے چند بہترین دماغوں میں سے ایک ہیں۔ بجلی کے کڑکے جیسی رفتار سے ان کا ذہن کام کرتا ہے۔ ایک لمحے میں ان گنت جمع تفریق کر کے گنتی کے چند لفظوں میں اپنا مدعا ایسے نپے تلے انداز میں بیان کرتے ہیں کہ عقل حیران رہ جاتی ہے۔ ذہانت کا پیمانہ تو یہی ہے کہ ذہن انسانی کا کتنا حصہ کام میں لایا گیا۔

محمود خان اچکزئی کی کیا پوچھتے ہیں؟ ان کی سیاست پچاس برس سے زیادہ عرصے پر پھیلی ہے۔ ہر مسئلے کا پس منظر جانتے ہیں۔ دلائل سے آگاہ ہیں۔ اپنا موقف طے کر چکے ہیں۔ اپنی بات کہنے کا ڈھنگ بھی جانتے ہیں۔ عمر ایسی کہ ناتجربہ کاری کا الزام ان پر نہیں رکھا جا سکتا اور پیرانہ سالی کا مرحلہ ابھی شروع نہیں ہوا۔ محمود اچکزئی بین الاقوامی امور، معیشت، تجارت، جغرافیہ، تاریخ سب سمجھتے ہیں۔ مگر یہ کہ بندہ بشر ہے۔ بھول چوک لینی دینی۔۔۔

ایک ایسی تجویز حضرت محمود اچکزئی نے اپنے ذہن رسا سے پیدا کی ہے کہ عقل دنگ ہے۔ ستر برس سے اربوں انسان اپنا سر کھپا چکے۔ کاغذ پر لکھی دستاویزات موجود ہیں۔ پرانا جھگڑا ہے۔ پرانے جھگڑوں میں عقل ماؤف ہو جاتی ہے۔ آنکھوں پر ضد کی چربی چڑھ جاتی ہے۔ سامنے کی بات ماننا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔ محمود اچکزئی کہتے ہیں کہ کشمیر کا مسئلہ حل کرنے کے لئے ضروری ہے کہ پاکستان اپنا مقدمہ واپس لے لے۔ مہاتما گاندھی بھی حیات ہوتے تو کچھ ایسا ہی کہتے۔ مہاتما گاندھی تو قتل ہو گئے۔ خدا محمود اچکزئی کو لمبی زندگی دے۔ کشمیریوں کی امنگیں سلامت رہیں۔ اگر مسئلہ کشمیر حل ہو گیا تو باجا کیسے بجے گا۔۔۔ جب ہمارے پاس چنے ہی نہیں ہوں گے تو بھاڑ میں کیا جھونکیں گے؟ موٹا حساب کتاب کر کے دیکھ لیا ہے۔ محمود اچک زئی بہت اچھے سرمایہ کار ہیں۔ مگر لالا، “بیوپار کا ماملا” ہے۔ ایک سال میں ساٹھ ارب ڈالر سے اوپر کا کاروبار ہے ۔۔۔ ایسا کیسے تمہارے کہنے پر دیوالیہ نکال دیں۔۔۔۔ یہ کمپنی نہیں چلے گی۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔