پاک بھارت سرکار وں کی تعریف کرنی چاہیے ….


wisi 2 babaبھارتی وزیراعظم کے اچانک لاہور آنے نے اتنی امید نہیں بنائی تھی جتنی پٹھانکوٹ میں ہونے والی عسکری کارروائی نے دھول اڑا دی۔ پاک بھارت تاریخ بتاتی ہے کہ امن کی ہر کوشش دائرے کا سفر ہے جس میں امید کے ساتھ جڑا ایک حادثہ بھی ہوتا ہے۔ اس بار بھی سب کچھ پرانا تھا مختلف رہا تو دونوں حکومتوں کا طرزعمل۔
بھارتی حکومت نے اس کارروائی پر اپنا ریاستی ردعمل متوازن اور دھیما رکھا۔ میڈیا میں بھی اس کو جنگی جنون بننے سے روکنے کی شعوری کوشش کی گئی۔ پاکستانی وزیراعظم نے بھی غیر متوقع طور پر اس حملے کی تحقیقات کرانے اور حقائق سامنے لانے کا اعلان کیا۔ اتنا ہی نہیں بھارتی ردعمل کو متوازن رکھنے پر اپنے ہم منصب کا شکریہ بھی ادا کیا۔
متحدہ جہاد کونسل نے واقعے کی ذمہ داری قبول کر کے ایک طرح سے اپنی رکن عسکری تنظیم کو کچھ تحفظ دینے کی کوشش کی تھی لیکن جو اطلاعات آ رہی ہیں ان کے مطابق جہاد کونسل کی رکن تنظیم جیش محمد کے کارکنوں کی گرفتاریاں ہو رہی ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ عسکریت پسندوں کے پاکستان سے تعلق ہونے کے بارے میں کچھ شواہد سامنے آئے ہیں ابھی معاملے کی تفتیش ہو رہی ہے کوئی حتمی بات کہنا اس مرحلے پر ممکن نہیں۔
پاکستان کے حوالے سے جو بات نوٹ کی جا رہی ہے وہ اس معاملے سے متعلق ہونے والے تمام اجلاس میں سیاسی عسکری قیادت کا اکٹھے ہونا۔ ایسا کوئی سگنل نہیں دیا جا رہا جس سے لگے کہ طاقت کے مراکز میں کوئی اختلاف ہے۔ سنبھل کر چلنا معاملے کی حساس نوعیت کی وجہ سے وقت کا تقاضہ بھی ہے۔
دونوں ریاستوں کی جانب سے بحران کی اس صورتحال کو بہتر طور پر سنبھالنے کی کوشش امید دلاتی ہے۔ خطے کے ڈیڑھ ارب لوگوں کے لئے امن کا ایک دیا جلتا دکھائی دیتا ہے۔ مکمل امن پانے کی منزل دور ہے لیکن کچھ امکان دکھائی دے رہے ہیں کہ اس بار بندوق کی بجائے مل بیٹھ کر بات کرنے پر زور زیادہ ہے۔
اس سب پر پاک بھارت سرکار وں کی تعریف کرنی بنتی تو ہے ۔


Comments

FB Login Required - comments