ابا … ایک دوست کی کہانی


 

کالم نگاری میں کلاسیک سنہرا اصول ایک لفظ سے پرہیز کرنا ہے۔ استاد کہتے تھے کہ “میں” سے بچا جائے۔ ایک سے زیادہ مرتبہ یہ لفظ تحریر میں استعمال کرنا یا اپنے ذاتی قصے اس طرح چھیڑنا جن سے کالم میں میں کا مربہ بن جائے، فاش غلطیوں میں شمار ہوتا تھا۔ اس کے پیچھے سب سے بڑی رمز یہ تھی کہ اپنے پیسوں سے اخبار خرید کر پڑھنے والا آپ کے ذاتی حالات میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتا، نہ ہی وہ یہ جاننا چاہتا ہے کہ آپ کی انا کا پہاڑ کتنا اونچا ہے، وہ غریب تو آپ کو اس لیے پڑھتا ہے کہ مختلف معاملات پر آپ کی رائے اسے درکار ہوتی ہے تاکہ اپنی عقل کے مطابق ان سے کوئی نتیجہ نکال سکے۔ وہ اخبار کو اخبار دیکھنا چاہتا ہے، بہت شوق ہے تو میں پرستی کے لیے کوئی کتاب لکھ لیجیے یا ذاتی روزنامچہ (ڈائری) پمفلٹ کی شکل چھپوا دیجیے۔ اب بھی کچھ ہم عصر شد و مد سے اس پابندی کو تاحیات برقرار رکھے ہوئے ہیں، فقیر انہیں کا پیرو ہے لیکن ایکسیپشنز ہر وقت موجود ہوتی ہیں۔ بعض جگہوں پر دل چاہتا ہے کہ سب پابندیاں اتار کے پڑھنے والے کے سامنے آیا جائے، دوستی یاری ہو، کچھ اپنی باتیں کی جائیں۔

 

پہاڑوں پر موسم بہت زبردست تھا، نہ اتنی سردی کہ دانت بجیں، نہ اتنی گرمی کہ آنے کا فیصلہ کرنے پر افسوس ہو۔ وہاں پہنچے دوسرا دن تھا کہ صبح صبح ٹرین کی گھنٹی بجی اور لگا جیسے کوئی ٹرین دھواں اڑاتی پلیٹ فارم سے گزر رہی ہو۔ یہ سافٹ وئیر ابا نے دکھایا تھا۔ ایک دن ساتھ بیٹھا تھا تو ان کا فون بجا، ایسی آواز تھی جیسے ٹرین کے اکانومی ڈبوں کے اندر سفر کرنے پر چھک چھک کی مستقل گردان ہوتی ہے۔ انہوں نے بات کر لی تو پوچھا کہ مرشد یہ کیا معاملہ ہے۔ ایسی اور رنگ ٹونز بھی ہیں تو سنائیے بلکہ بھیج دیجیے۔ انہوں نے دکھایا، پوری بیس آوازیں تھیں، نوسٹیلجیا سے بھری ہوئی ٹرین کی آوازیں، وہ آوازیں جو ایک بار سفر کرنے والا بھی تمام عمر یاد رکھتا ہے۔ ٹرین میں تو دس گھنٹے سے زیادہ کا سفر ہو جائے تو کچھ چہرے بھی بعض اوقات کبھی نہیں بھولتے، یہ تو آوازیں تھیں۔ پھر انہوں نے ڈاؤن لوڈ کرنے کا طریقہ بتایا، وہ دن آج کا دن فون جیسے ہی بجتا ہے پہلا چہرہ ابا کا سامنے آتا ہے، ٹرین بعد میں ایک لمبی سی کوک بھرتی گزر جاتی ہے۔

 

لیکن آج صبح ان پہاڑوں پر بجنے والا فون کوئی اچھی خبر نہیں لایا تھا۔ جس ہوٹل میں قیام رہا وہاں سگنل نہیں آتے تھے، صرف ہوٹل کا وائی فائی چلتا تھا۔ تو واٹس ایپ پہ گھر سے فون آیا اور یہ بری خبر ملی کہ ابا کی طبیعت کچھ خراب ہے اور وہ ہسپتال میں ہیں۔ اس ایک فون سے اس تحریر کے دوران ہزاروں تکلیف دہ صدیاں ہیں جو ختم ہونے کا نام نہیں لے رہیں۔ خدا انہیں صحت دے، جمال یٰسین الحمدللہ ایک روایتی باپ کبھی نہیں بن سکے۔ ایک دو معاملوں میں کوشش کی لیکن پھر نکمی اولاد کو اسی کے حال پر چھوڑ دیا، آج کے دن تک فون آتا ہے تو سامنے والا اس بات پہ حیران ہوتا ہے کہ یہ باپ کا فون تھا یا کسی جگری دوست کا، عرض کی جاتی ہے کہ باپ نما دوست کا۔ تو سفر ہے کہ طویل تر ہے اور باپ ہسپتال میں ہے، کچھ وقت گزارا جائے۔

 

ابا جس دن پرانی نوکری سے ریٹائر ہوئے اسی دن وردی کے ساتھ پرانا جمال یٰسین بھی اٹھا کے ایک طرف رکھ دیا۔ وہ جمال گھڑی پہ چلتا تھا، یہ جمال گھڑی کو اس وقت چابی دیتا ہے جب باہر نکلنا ہو۔ وہ جمال گھر کے کھانے اور ٹھنڈے یخ برفیلے پانی کا شوقین تھا، اس جمال کو باہر کا کھانا ڈھونڈتے ڈھونڈتے خود گھر آ جاتا ہے۔ وہ جمال بیوروکریٹک قسم کی تلوار کی دھار جیسی کریز کا شوقین تھا، چمڑے کے جوتے پہنتا تھا، یہ جمال جینز اور آرام دہ کپڑوں کے ساتھ کینوس کے جوتے (سنیکرز) پہنتا ہے۔ وہ جمال بچوں کو سکھاتا تھا کہ خبردار کسی سے کہیں بھی ڈانٹ پھٹکار نہیں کرنی، طریقے سے بات کرنی ہے، یہ جمال خطرناک حد تک سفید بالوں کا فائدہ اٹھانے لگا ہے، کہیں بھی کسی کی بھی کلاس لے لے گا، بلڈ پریشر آسمانوں پر ہو گا۔ اس جمال کے پاس ہمارے بچپن میں گن کے دس بارہ گانوں کی کیسیٹیں ہوتی تھیں، یہ والا جمال اپنا لیپ ٹاپ ہر نئی فلم سے بھرا رکھتا ہے، بلکہ حسب فرصت دیکھتا بھی ہے۔ گزشتہ جمال کو پتہ چلا کہ بیٹا سگریٹ پیتا ہے تو اسے ٹکا کے پھینٹی لگائی تھی، یہ والا جمال ساتھ بیٹھ کر سیگرٹ پیتا ہے بلکہ بیٹوں کے دیکھا دیکھی دن میں ایک آدھ خود بھی پینے کی مشق کرتا ہے۔ وہ ہفتے کی چار کتابیں پڑھتا تھا، یہ ہفتے میں چار فلمیں دیکھتا ہے۔ وہ کبھی کبھار تصویریں بنانے یا خطاطی کر لینے کا شوقین تھا، یہ والا کبھی کبھار احسان کر کے ایک آدھ بلاگ لکھ دیتا ہے۔ وہ سامنے والے کی طویل بات سے بھی کوفت میں مبتلا ہو جاتا تھا، یہ والا اب خود بھی بات کرنے کا شوقین ہو گیا ہے۔ وہ کچھ بھی کرنے سے پہلے گھبراتا تھا کہ سامنے والا کیا سوچے گا، اس سے اب سامنے والے گھبراتے ہیں۔ اس جمال نے ایک مرتبہ فقہی مسئلے مسائل پر کوئی کتاب بھیجی تھی، یہ والا جمال چن چن کے سریلے گانے بھیجتا ہے، فلمیں ریکمینڈ کرتا ہے۔ ہاں اس جمال کے بال گھنے سیاہ تھے، اس کے کچھ کم تو ہوئے ہیں، سفیدی بھی ساتھ آ گئی ہے لیکن یہ جمال سفید بالوں کے ساتھ اپنی اولاد سے زیادہ جوان دل کا مالک ہے، خدا جلدی ٹھیک کرے، رپورٹس میں بھی معاملہ دل کا ہی نکل آیا ہے۔

 

ہم لوگ سب اکٹھے رہتے تھے۔ ابا کا بیرون ملک ٹرانسفر ہوا، فقیر کی بھی پوسٹنگ آئی، چھوٹے کی نوکری لگی، سب الگ ہو گئے۔ چار برس بعد ابا وہیں واپس آ گئے اور ہم دونوں اس بیج کی مانند گھومتے رہے جسے بوڑھی مائی کہتے ہیں، ذرا سی ہوا آئی تو ادھر، تھوڑی زیادہ آئی تو ادھر، خدا جانے کہاں گرنا ہے، رابطہ لیکن مسلسل رہتا ہے۔ ابا کی ہدایات بھی ملتی رہتی ہیں کہ فلاں کالم خشک تھا، فلاں بہت اچھا تھا۔ ابھی کچھ دن پہلے گلزار صاحب کا تذکرہ کیا تو ابا کو وہ کالم اتنا زیادہ پسند آیا کہ باقاعدہ لمبا چوڑا فون کیا اور دل بھر کے داد دی، کہنے لگے فیس بک پر پوسٹ کرو گے تو وہاں بھی کمنٹ کروں گا۔ فرصت ملتے ہی پوسٹ کیا تو پہلا کمنٹ ان کا آیا، جیسے انتظار میں بیٹھے تھے، خوب داد دی اور جوش جذبات میں لکھ دیا کہ جا یار‘ میری عمر بھی تجھے لگ جائے۔

وہیں نیچے فوراً لکھ دیا کہ بھئی اپنی عمر اپنے پاس ہی رکھیے، بلکہ ایک دو برس فقیر کے بھی لے لیجیے، ابھی آپ کو دنیا گھومنی ہے، تازہ تازہ من چاہا ملٹی پل ویزا لگا ہے لیکن فرشتے اس بابری دعا کو ناحق سیریس لے گئے۔ تین چار دن کے بعد ہی یہ سارا سین ہو گیا۔ سوال یہ ہے کہ دنیا میں کتنے باپ ایسے ہوں گے جنہوں نے اولاد کو رج کے سب کچھ پڑھنے دیا ہو، جو بچوں کو اپنی پسند کی فلمیں ریکمینڈ کرتے ہوں، انہیں مزے مزے کے گانے واٹس ایپ کرتے ہوں، ٹرین کی آواز والی رنگ ٹونز بھیجیں، اکٹھے بیٹھ کر پرانے سٹیج شو دیکھتے ہوں، صبح پانچ بجے سے گپ لگائیں تو دس بج جائیں باتیں نہ ختم ہوں، جس باپ نے پانچویں چھٹی کے بچے کو سب رنگ ڈائجسٹ پر لگا دیا ہو، پھر اپنی باقی بھی سب کتابیں چکھائی ہوں، شروع میں اچھا برا بتا کے بعد میں خود پارٹنر ان کرائم بن گئے ہوں، کتنے ہوں گے ؟ خدا جانتا ہے دو چار لفظ جو گھسیٹے جاتے ہیں انہیں کی جوتیوں کا صدقہ ہے۔ ان کی صحت یابی اور درازی عمر کے لیے دعا کر دیجیے، کسی سے کچھ بھی اور، نہ کبھی مانگا نہ خواہش ہے !

 


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

اسی بارے میں: ۔  انسانی اعضا کا عطیہ: ایک نیا زاویہ نظر

حسنین جمال

حسنین جمال کسی شعبے کی مہارت کا دعویٰ نہیں رکھتے۔ بس ویسے ہی لکھتے رہتے ہیں۔ ان سے رابطے میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں۔ آپ جب چاہے رابطہ کیجیے۔

husnain has 335 posts and counting.See all posts by husnain