کالکی کی ‘نیم برہنہ’ تصاویر اور سنی کی شہرت


آج کل بالی وڈ کی دو اداکارائیں خبروں میں ہیں۔ ایشا گپتا اور کالکی کوئچلن ان دونوں کی نہ تو فلم ہٹ ہوئی ہے اور نہ ہی انھیں کوئی بڑا پراجیکٹ مِلا ہے۔ دراصل ان دونوں اداکاراؤں نے اپنے اپنے انسٹاگرام پیجز پر اپنی ‘نیم برہنہ’ تصاویر شائع کی ہیں۔ ظاہر ہے سوشل میڈیا پر ٹرول عام فیشن سا بن گیا ہے تو دونوں ہی کو شدید طور پر ٹرول کیا گیا جا رہا ہے۔

ٹرول کرنے والوں کے بارے میں ایشا کہتی ہیں کہ مردوں کے لیے بولڈ انڈین لڑکیوں کو ہینڈل کرنے کا خیال ہی بہت مشکل ہے۔ ایشا کہتی ہیں انھیں ٹرولز سے پریشانی نہیں ہوتی کیونکہ اس سے دوسرے لوگوں کا صحیح کردار سامنے آتا ہے۔ انہوں نے ٹرول کرنے والوں کی ‘نفرت’ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا: ‘ہم اس وقت 2017 میں ہیں اور آپ لوگ دوسرے ایشوز کو چھوڑ کر میرے لباس پر بحث کر رہے ہیں’۔ ایشا گپتا کا خیال ہے کہ ہندوستان میں بولڈ لڑکیوں کو سنبھالنا لوگوں کے لیے مشکل ہے

کالکی کوئچلن جو حال ہی میں لیکمے فیشن ویک کا حصہ بنی ہیں انھوں نے بھی اپنی ‘برہنہ’ تصویر انسٹا گرام پر شیئر کی ہے اور اپنی اس تصویر کے نیچے انھوں نےانگریزی مصنف ورجینیا وولف کا جملہ لکھا: ‘زندگی سے نظریں چُرا کر سکون حاصل نہیں کیا جا سکتا۔’ کالکی نے روایتی سنیما سے ہٹ کر ‘مارگریٹا ود اے سٹرا’جیسی فلم کرکے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔

اس طرح کی تصاویر شائع کرنا معاشرے میں تبدیلی کا ایک پیغام بھی ہو سکتا ہے لیکن اس کا ایک اور مقصد بھی کہا جا رہا ہے کہ ‘بدنام جو ہوں گے تو کیا نام نہ ہوگا’۔

نام کی بات کی جائے تو اس وقت انٹرنیٹ پر سنی لیونی سے زیادہ مشہور شاید ہی کوئی ہو! ان کی شہرت کا کیا عالم ہے یہ انٹرنیٹ سے نکل کر بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ اس کے لیے زیادہ دور نہیں صرف انڈیا کے جنوبی مغربی ساحلی شہر کوچی چلیں جائیں۔ جہاں سنی لیونی کو دیکھنے کے لیے لوگوں کا سمندر اُمڈ آیا۔

سنی لیونی ایک تقریب میں شرکت کے لیے کوچی گئیں تھیں پھر کیا تھا سڑکوں، گلیوں اور بازاروں میں ہزاروں لوگ نکل پڑے۔ لوگ بسوں اور عمارتوں کی چھتوں پر چڑھ گئے کہ کسی طری سنی کا دیدار کر سکیں۔ پولیس کو لاٹھی چارج کرنا پڑی۔ ظاہر ہے سنی اس منظر کو دیکھ کر بے پناہ خوش ہوئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اپنی خوشی ظاہر کرنے کے لیے انھیں الفاظ نہیں مل رہے ہیں۔ یہ منظر دیکھنے کے بعد ایشا گپتا کی اس بات سے اتفاق کرنا مشکل لگ رہا ہے کہ انڈین مردوں کے لیے بولڈ انڈین لڑکیوں کو ہینڈل کرنے کا خیال ہی بہت مشکل ہے۔

سینٹرل بورڈ آف فلم سرٹفکیشن کے ذریعے بالی وڈ کی کئی فلموں کا بینڈ بجانے والے پہلاج نہلانی آخر کار رخصت ہوئے۔ لیکن لگتا ہے کہ بالی وڈ میں بھارتی سنسکار (تہذیب و اخلاقی قدروں) کو زندہ رکھنے کی ان کی روایت فی الحال تو برقرار رہے گی۔ کہا جا رہا ہے کہ بورڈ نے سدھارتھ ملہوترہ اور جیکلین فرنانڈیز کی فلم ‘جینٹلمین’ کے درمیان بوس وکنار کے مناظر کٹ کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اعتراض ہے کہ فلم کا یہ ‘کسنگ سین’ بہت لمبا ہے اور بورڈ کا کہنا ہے کہ اسے ستر فیصد کم کیا جانا چاہیے۔ بلکل اسی طرح جیسے فلم ‘جیمز بانڈ اور فلم ‘اے دل ہے مشکل’ میں لمبے لمبے کسنگ سینز کو کم کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

فلم 25 اگست کو ریلیز ہونے والی ہے۔ بہر حال بورڈ کا کیا فیصلہ ہوگا یہ تو معلوم نہیں لیکن ٹریلر میں ان مناظر کو پہلے ہی شامل کر دیا گیا ہے۔ ظاہر ہے فلم بھی تو بیچنی ہے!

(نصرت جہاں)


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 464 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp