شہر مجھے مار کر ہی چھوڑے گا


naseer nasirمیں جہاں جاتا ہوں
شہر میرے ساتھ جاتا ہے
کسی دوست سے ملنے اس کے گھر جاؤں
تو میرے ساتھ ڈرائنگ روم میں داخل ہو کر
صوفوں، کرسیوں، قالینوں
یہاں تک کہ فرش پر
ہر جگہ تجاوزات کی طرح پھیل کر بیٹھ جاتا ہے
اور اٹھنے کا نام نہیں لیتا
اپنی گنجان آبادیوں، ہجوم زدہ سڑکوں
جابجا ناکوں، متبادل راستوں، رکاوٹوں، تلاشیوں،
وارداتوں، بم دھماکوں،
دھرنوں اور جلسوں جلوسوں کی باتیں سنا سنا کر
سارے ماحول کو بوجھل کر دیتا ہے
گفتگو میں یوں مخل ہوتا ہے
کہ کھانے کی میز پر بھی کان کھاتا رہتا ہے
پتا نہیں یہ سوتا کب ہے!

دفتر جاتا ہوں
تو وہاں بھی
فائلوں سے نکل کر
میز پر پھیل جاتا ہے
اور ہر جائز ناجائز کام کے لیے مجبور کرتا ہے
انکار پر
برا بھلا کہتا ہے
گالیوں پر اتر آتا ہے
سفارشیں کرواتا ہے
رشوت کی پیش کش کرتا ہے
شہر کے مسئلے لاینحل ہیں
میرے محدود اختیارات سے باہر
لیکن شہر یہ سب باتیں نہیں سمجھتا
وہ تو بس من مانی کرنا
اور ہر وقت کوئی نہ کوئی ہنگامہ بپا رکھنا چاہتا ہے
شہر بھی عجیب ہے
کوئی سچا عذر قبول نہیں کرتا
اور آوارہ کتوں کی طرح بھونکتا چلا جاتا ہے

کسی پارک میں چلا جاؤں
یا کسی ریستوران میں
تماشا گھر میں بیٹھا ہوں یا سنیما ہال میں
شہر میری جان نہیں چھوڑتا
میری پسند کے برعکس
ایکشن اور ہارر موویز کا بڑا شوقین ہے
لیکن آرٹ فلمیں دیکھتے ہوئے
بور ہوتا ہے
اور اکثر میرے کاندھے پر سر رکھ کر سو جاتا ہے
میرے ساتھ پاپ کارن اور کرکرے کھاتا ہے
کافی پیتا ہے، کشمیری چائے کا لطف لیتا ہے
شہر میری طرح دل کا مریض ہے
لیکن برگر اور پیزے
فرائڈ چکن، فش اینڈ چپس، شاورما
ہر مضرِ صحت چیز ہڑپ کر جاتا ہے
اور دن میں کئی بار دوائیوں کا پھکا لینا نہیں بھولتا
شام کو جب سیرکے لیے نکلتا ہوں
تو گڈولنے میں چلتے، سیر گاڑی میں بیٹھے بچے کی طرح
چپکے سے ساتھ ہو لیتا ہے
دم لینے کے لیے رکوں
تو بینچ پر مجھ سے پہلے براجمان ہو جاتا ہے
شہر کہیں بھی، کسی بھی طرح
خود چین لیتا ہے نہ مجھے چین سے بیٹھنے دیتا ہے

قبرستان جاؤں
تو قبرین گننے میں مصروف ہو جاتا ہے

کتبوں کی عبارت اور زندوں کا جنازہ پڑھنے لگتا ہے
اور میرے سرداب میں کسی اور کا مردہ اتار دیتا ہے
میرے لیے مرنے کی جگہ بھی نہیں بچتی
مجذوب مست شہر
ننگ دھڑنگ گھومتا ہے
اور مزاروں کے احاطوں میں دھمالیں ڈالتا ہے
عدالتوں کچہریوں میں
ہتھکڑیاں پہنے ہوئے
بڑھکیں مارتا ہے
جھوٹے گواہوں، مفروروں، قاتلوں، ڈاکوؤں
رشوت خور سرکاری اہل کاروں

اور پیشیوں سے تنگ آئے ہوئے،

ضمانتوں پر رہا شہر کے جوتے پھٹ جاتے ہیں، جیبیں خالی ہو جاتی ہیں
لیکن فیصلے نہیں ہو پاتے
دُروس گاہیں جو شہر کے باہر ہوا کرتی تھیں
اب اس کے درمیان سکڑ سمٹ گئی ہیں
شہر اب دلوں، ذہنوں اور کتابوں میں نہیں
بینکوں، پلازوں، سپر مارکیٹوں اور نئی رہائشی اسکیموں میں بستا ہے
اور اس کی قدیم لائبریریوں میں
چمگادڑیں پھڑپھڑاتی اور الو بولتے ہیں

شہر میرا ازلی و ابدی دشمن،
گاؤں سے نکلتے ہی میرے ساتھ چپک گیا تھا
لگتا ہے مجھے مار کر ہی چھوڑے گا
شادی ہو یا مرگ
یہ ہر موقعے پر جمع ہو جاتا ہے
اور کسی باتونی سمروت کی طرح پرانے قصے چھیڑ دیتا ہے
آہیں بھرتے ہوئے کہتا ہے
طلاکوب خاک بسر ہیں
شہر بھی یادِ ایام کے عارضے میں مبتلا ہے
گھر واپس آتا ہوں
تو دروازے تک مجھے چھوڑنے آتا ہے
جیسے میں کہیں بھاگ ہی جاؤں گا
میں خوش ہوتا ہوں
کہ شہر سے جان چھوٹ گئی
اور گنگناتے ہوئے سیڑھیاں چڑھتا ہوں
لیکن لاؤنج میں قدم رکھتے ہی
ٹی وی اسکرین پر نظر پڑتی ہے
جہاں شہر کے بارے میں
کوئی نہ کوئی بریکنگ نیوز چل رہی ہوتی ہے
شہر مجھ سے پہلے گھر میں داخل ہو جاتا ہے !


Comments

FB Login Required - comments

2 thoughts on “شہر مجھے مار کر ہی چھوڑے گا

  • 07-03-2016 at 5:36 am
    Permalink

    ھمیشہ کی طرح شاندار فکرانگیز ۔۔۔۔
    چار سال سے بستر مرگ پر موت کے انتظار میں لیٹا رہا مگر زندگی ایسی ہے کہ موت کی گنتی ختم ھونے کا نام نہیں لیتی تھوڑی سی صحت بہتر ھوتی ہے تو کسی نہ کسی دوست کو مجھ پر کیۓ احسان یاد آجاتے ہیں۔ خیر ایک دوست نے دو ماہ پہلے فون کیا کہ مجھے کاروبار میں تمھاری مدد در کار ہے ، مجھ سے انکار نہیں ھو سکا۔
    دوست کی شاپ کے باہر شام کو ایک بھیکاری اپنے کتّے کے ساتھ فٹ پاتھ پر بیٹھا کرتا تھا ، میں روز شام کو جب کام ختم کرکے شاپ سے باہر نکلتا تو سب سے پہلے بھیکاری سے واسطہ پڑتا کیونکہ انتہائی بزی روڈ کراس کرنے سے پہلے ٹرائیفک لاٹس پر پیدل روڈ پار کرنے والوں کی گرین لائٹس کا انتظار کرنا پڑتا تھا اور ٹھیک وہی پر بھیکاری اپنے کتّے کے ساتھ بیٹھا ھوتا ہے ۔ ۔ خیر ٹرائیفک لائثس کے انتظار کے دوران میں جیب ٹٹولتا جو کچھ ھوتا اسے دے دیتا۔ حسب معمول شاپ سے کام حتم کرکے نکلا تو بھیکاری پر نظر پڑی اور میں اپنی پاکٹس میں دونون ہاتھ ڈالے تو پاکٹس کو خالی محسوس کر کے بڑا شرمندہ ھوا خیر میں نے بھیکاری سے وعدہ کیا کل ان شاءاللہ تمھاری ضرور مدد کرونگا ۔ اتنے میں میرے موبائل پر ایک جاننے والے کی کال آگئ اور میں اس سے باتوں میں مگن ھوگیا ۔۔ اور روڈ پار کرنے کے لیے چل پڑا تو اچانک بھیکاری کے کتّا بھونکا میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو بھیکاری مجھے اشارہ کر رہا تھا کہ تمھاری ٹرائیفک لاٹس آن نہیں ھوئی انتظار کرو ۔۔
    پچھلے چھ ماہ سے میں نے پاکستان میڈیا کا بائیکاٹ کیا ھوا ہے یعنی اب مسلسل ٹی وی آف رہتا ہے ۔ پاکستان میڈیا سے میرا صرف سوشل میڈیل کی حد تک رابطہ رہ گیا ہے ۔ اس کا فائدہ یہ ھوا ہے کہ اب کتّوں کے ساتھ ان کے مالکان سے بھی لگاؤ ھوگیا ہے ۔ جب متواتر پاکستان میڈیا سے سے واسطہ پڑتا تھا تو مزاج تلخ ھونے کی وجہ سے بعض دفعہ یوں محسوس ھوتا تھا کہ مجھ میں اور کتّے کی فطرت میں کچھ خاص فرق نہیں ہے ۔ شاید اسی وجہ سے کتّے جب بھی مجھے دیکھتے تھے تو بلا وجہ بھونکتے تھے ۔ اوراب جہاں کہیں کتّوں سے واسطہ پڑتا ہے تو ان سے چند لمحوں میں دوستی ھو جاتی ہے ۔

  • 08-03-2016 at 8:00 pm
    Permalink

    Wonderful piece sir

Comments are closed.