عدالتی و سیاسی بحران کا حل


اس بات سے شاید ہی کوئی اختلاف کرے گا کہ ملک اگر پہلے ہی ایک بحرانی کیفیت میں مبتلا نہیں ہو چکا تو اس طرف تیزی سے بڑھ ضرور رہا ہے۔ اور بدقسمتی سے اس بحران کی وجہ ملک کی سب سے بڑی آئینی عدالت کا فیصلہ بنا ہے۔ جب پانامہ سکینڈل آیا تو ہر دردمند شہری کو ایک امید نظر آئی کہ اب اشرافیہ کی لوٹ مار کے آگے بند باندھا جائے گا۔ لیکن پانامہ کیس لینے پر پہلے بغیر کسی ٹھوس آئینی و قانونی رکاوٹ کے ہچکچاہٹ، پھر مخصوص حالات پیدا کیے جانے کے بعد اس کیس کی غیر ضروری عجلت میں تاریخ نکلنا، پھر جے آئی ٹی میں سیکیورٹی ایجنسیوں کی غیر ضروری شمولیت، پھر جے آئی ٹی کے معاملات کے بارے میں پریشان کن اطلاعات، ، پھر تین رکنی اور پانچ رکنی بنچ کا تنازعہ، پھر عجلت میں کیس کا ٹھوس وجوہات سے عاری سخت ترین سزا یعنی تا حیات نا اہلی کا فیصلہ، ان ساری باتوں سے نہ صرف اس فیصلے کی ساکھ پر سوالات اٹھے بلکہ غیبی قوتوں کی ”امداد“ کے الزامات بھی سامنے آنے لگے۔

چار ساڑھے چار براہ راست مارشل لاؤں اور لاتعداد پسِ پردہ مارشل لاؤں کی ڈسی ہوئی قوم کی اشاروں کی زبان سمجھنے کی حس قدرتی طور پر بہت زیادہ پھڑکتی ہے اور قوم نے جو اشارے محسوس کیے، انمیں بقول شاہ جی ”میٹھا تیز“ کرتے کرتے میٹھا اتنا تیز ہو گیا کہ چائے الٹا کڑوی لگنے لگی۔ غرض، پانامہ کیس کا مقدمہ ایک خالصتا قانونی مقدمے سے ہٹتا ہٹتا پہلے اقتدار اور اختیارات کی کشمکش اور پھر سول ملٹری عدم توازن کا ٹیسٹ کیس بنتا گیا۔ رہی سہی کسر شیخ رشید اور ایک لال ٹوپی والے صاحب کے عسکری حوالے دے دے کر جاری ہونے والے بیانات نے پوری کر دی۔ پانامہ کیس کے پیچھے کارفرما اصل محرکات کے بارے میں جو تاثر سیاست میں عسکری اداروں کی دخل اندازی کے ناقدین دینے کی کوشش کر رہے تھے، وہ معرکہ ان دو اصحاب نے کہیں زیادہ کامیابی سے سر کر لیا جن کا اندازِ تکلم ایسا ہوتا ہے گویا وہ ان اہم قومی اداروں کے ترجمان ہوں۔

پانامہ کیس کا بہترین فیصلہ بھی آتا، تو شدید سیاسی مخالف کی فضا میں اسے متنازع ہونا ہی تھا۔ لیکن جو فیصلہ آیا اس سے تو غیر سیاسی اور غیر جماعتی مبصرین اور قانون دانوں کے لئے بھی اتفاق کرنا مشکل دکھائی دیا۔ اوپر سے جلتی پر تیل کا کام نواز شریف کے اس فیصلے کے خلاف بیانات کو توہین عدالت کا رنگ دینے پر مصر لوگ کر رہے ہیں۔ چند ماہ پہلے اسلام آباد ہائیکورٹ میں ابصار عالم کے ایک بیان کے خلاف توہین عدالت کی درخواست آئی تو معزز جج اطہر من اللہ نے بہت خوبصورت فیصلہ دیا کہ عدالت کی توہین بیانات سے نہیں ہوتی بلکہ عدالت کی توہین اس وقت ہوتی ہے جب اس کے فیصلوں پر عمل درآمد نہ کیا جائے۔ نواز شریف نے فیصلے پر عمل درآمد کر دیا، اب اس فیصلے پر تنقید اور دوران کارروائی شفافیت پر اعتراض کرنا ان کا حق ہے۔ جمہوریت میں کسی شخص یا ادارے کو اس طرح تقدیس کا درجہ حاصل نہیں ہے جس طرح بادشاہتوں اور آمریتوں میں ہوتا ہے۔ جمہوریت میں تو حاکمیت نہ مقننہ کی ہے، نہ عدلیہ کی اور نہ انتظامیہ کی، جمہوریت میں تو یہ سارے ادارے عوام کے ماتحت ہیں۔ اور ہر شہری کو آزادی رائے کا حق حاصل ہے۔ اور آزادی رائے کے حق کا بنیادی تصور ہی یہ ہے شہریوں کو معاشرے کے بالا دست طبقات اور طاقتور افراد اور اداروں پر تنقید کا حق حاصل ہے۔ اگرججوں، جرنیلوں، سیاستدانوں اور بیوروکریسی پر تنقید نہیں ہو سکتی تو پھر یہ کونسی آزادی رائے ہے؟

خیر اب بحران پیدا ہو چکا ہے۔ جو ہونا تھا، ہو چکا۔ اب اس بحران سے نکلنے کی کنجی بھی سپریم کورٹ کے پاس ہے۔ نواز شریف کی جانب سے نظر ثانی کی درخواستیں دائر ہو چکی ہیں۔ اٹھائیس جولائی کے فیصلے میں کم از کم دو تبدیلیاں نہ صرف آئینی اور قانونی اعتبار سے ضروری ہیں بلکہ وہ ملک کو بحرانی کیفیت سے بھی نکال سکتی ہیں۔ ایک تو قابِل وصولی اثاثے کو بنیاد بنا کر نواز شریف کو نا اہلی کی جو سزا دی گئی ہے اسے ختم کرنا چاہیے یا کم از کم نا اہلی کے تاحیات پہلو کو ضرور ختم ہونا چاہیے۔ اور دوسرا نیب عدالت کی کارروائی کے اوپر سپریم کورٹ کے معزز جج کی نگرانی والا حصہ ختم ہونا چاہیے۔ فیصلے میں یہ دونوں تبدیلیاں تبھی ہو سکیں گی اگر سپریم کورٹ ایک لارجر یا فل بنچ بنائے۔ میری ناقص رائے میں تو یہ اتنا اہم مسئلہ ہے کہ اس پر فل بنچ بننا چاہیے جو نہ صرف فیصلے کے اندر موجود واضح سقم دور کرے بلکہ وہ آرٹیکل باسٹھ اور تریسٹھ کے تقاضے، معیار، اطلاق اور دیگر متعلقہ امور کی جامع تشریح کرے تاکہ ان آرٹیکلز کو گناہ گار انسانوں پر لاگو کرنے کے قابل بنایا جا سکے۔ اس طریقے سے ہو سکتا ہے کہ ان آرٹیکلز کو تبدیل نہ کرنے پر سیاسی اتفاقِ رائے ہو سکے۔

یہ توقع رکھنا عوام کا حق ہے کہ ان کے منتخب نمائندے مناسب حد تک صادق اور امین ہوں۔ کچھ مذہبی حلقے جو جنرل ضیا کے ہم رکاب تھے، ایسی زبان استعمال کر رہے ہیں گویا ابھی بھی غاصب ضیا کا سیاہ دور ہو جب ڈنڈے کے زور پر آئین کا حلیہ بگاڑا گیا تھا۔ زبان اور دھمکی آمیز لہجے سے قطع نظر اس حد تک ان کی بات میں وزن ہے کہ کیا عوامی نمائیندوں کو صادق اور امین نہیں ہونا چاہیے؟ لیکن ایسے حلقے یقینا اس بات سے وہ بھی انکار نہیں کریں گے کہ صرف عوامی نمائیندے کو ہی نہیں بلکہ ججوں، جرنیلوں، بیورکریٹس کو بھی صادق اور امین ہونا چاہیے۔ سو ان آرٹیکلز کا دائرہ کار دیگر سرکاری عہدیداروں تک وسیع کرنے میں انہیں بھی کوئی اعتراض نہیں ہو گا۔ ضیا نے صادق اور امین کی تلوار آئین میں صرف سیاستدانوں کو کنٹرول میں رکھنے کے لئے ڈالی اور جرنیلوں اور ججوں کو اس سے ماورا رکھا۔ اگلا غاصب مشرف آیا تو اس نے احتساب کی تلوار سیاستدانوں اور بیوروکریسی کو قابو کرنے کے لئے استعمال کی لیکن جرنیلوں اور ججوں کو اس نے بھی نیب کے قوانین سے استثنا دے دیا۔ نواز شریف عوام سے آئین و قانون میں ان بنیادی تبدیلیوں کے لئے فریش مینڈیٹ لینے کی بات کر رہے ہیں۔ انہیں چاہیے باسٹھ تریسٹھ کی طرح احتساب کے قوانین کا دائرہ کار بھی ججوں اور جرنیلوں تک وسیع کیا جائے۔ ان اقدامات سے موجودہ بحران تو ٹل سکتا ہے لیکن کرپشن کا مسئلہ حل نہیں ہو سکتا۔

کرپشن کے ناسور کو روکنے کے لئے نہ صرف شریف خاندان کو اپنے غیر ملکی اثاثوں کا حساب دینا ہو گا بلکہ اپنی ساکھ بچانے کے لئے عدلیہ کو ان سے حساب ہر صورت لینا ہو گا۔ نہ صرف یہ بلکہ سپریم کورٹ کو چاہیے کہ وہ پانامہ سکینڈل کے دیگر سینکڑوں ملزمان کے خلاف بھی اسی تندہی سے کارروائی کرے جیسے شریف خاندان کے خلاف کی ہے، چاہے اس کی زد میں عدلیہ کا کوئی اپنا رکن ہی کیوں نہ آئے۔ تبھی ملک میں جاری خوفناک کرپشن کے سدباب کی کوئی صورت نکل سکے گی۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔