کیا پاکستان میں فوج اور سیاست دان لڑ رہے ہیں؟


وزارت عظمیٰ سے معزول کئے جانے کے بعد نواز شریف کی تقریروں اور بیانات کا جائزہ لیں یا ان کے حامیوں کی تقریروں ، تبصروں اور آرا پر غور کریں تو اس بات میں کوئی شبہ باقی نہیں رہتا کہ ملک میں منتخب حکومت اور فوج کے درمیان رسہ کشی جاری رہتی ہے۔ منتخب لیڈر کو اپنی مرضی کے مطابق کام کرنے نہیں دیا جاتا۔ بات صرف اسی حد تک محدود نہیں ہے بلکہ اگر کوئی منتخب وزیر اعظم فوجی اسٹیبلشمنٹ کی رائے اور مرضی کے برعکس پالیسی مرتب کرنے کی کوشش کرے تو اس کی ٹانگ کھینچنے کی پوری کوشش کی جاتی ہے۔ اسی لئے نواز شریف نے نااہل ہونے کے بعد یہ کہا کہ ’ وہ بتا نہیں سکتے کہ انہوں نے کس مشکل سے چار برس حکومت کی ہے‘۔ اسی طرح بی بی سی کو ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ ’ اداروں کے ساتھ تصادم روکنے کی ذمہ داری صرف انہی پر عائد نہیں ہوتی‘۔ ان بیانات سے جو تصویر بنتی ہے، وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے اسے غلط قرار دینے کی کوشش کی ہے۔

وزیر اعظم عباسی نے آج کوئٹہ میں اخبار نویسوں سے باتیں کرتے ہوئے یہ تاثر دینے کی کوشش بھی کی کہ فوجی قیادت اور سول حکومت کے درمیان کشمکش کی کوئی حیثیت نہیں ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں اخبارات کی خبروں سے ایسے تضاد یا تصادم کا پتہ چلتا ہے جبکہ حقیقت میں ایسا نہیں ہے ۔ سب ادارے بخوبی کام کررہے ہیں۔ وزیر اعظم نے یہ بھی کہا کہ اصل اسٹیبلشمنٹ منتخب حکومت ہے۔ یعنی عام طور سے اس لفظ کو استعمال کرتے ہوئے فوج کی طرف جو اشارے کئے جاتے ہیں ، وہ بے بنیاد اور غلط ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کچھ روز پہلے پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی اسی قسم کی باتیں کی تھیں اور کہا تھا کہ ملک میں آئین کی عمل داری ہے اور تمام ادارے بخوبی کام کررہے ہیں۔

ملک کے ان دو اعلیٰ ترین عہدوں پر فائز حضرات کی رائے سے اختلاف تو ممکن نہیں ہے لیکن یہ سوال تو بہر صورت کیا جاسکتا ہے کہ اگر ادارے واقعی مناسب طریقے سے کام کررہے ہیں تو ملک کے سیاسی رہنما مسلسل کیوں یہ صدا بلند کرتے ہیں کہ ادارے تباہ ہو چکے ہیں۔ سپریم کورٹ بھی پاناما کیس کے حوالے سے یہ واضح کرچکی ہے ۔ اگر ادارے مناسب طریقے سے کام کررہے ہوتے تو سپریم کورٹ کو اس معاملہ میں مداخلت کرنے اور تحقیقات کروانے کی ضرورت محسوس نہ ہوتی۔ اور 28 جولائی کے فیصلہ کے مطابق احتساب عدالت میں نواز شریف اور ان کے بچوں کے خلاف ریفرنسز کی سماعت کی نگرانی کے لئے سپریم کورٹ کا ایک جج مقرر کرنے کا حکم جاری نہ کیا جاتا۔

اسی بارے میں: ۔  2 نومبر سے پہلے ریاستی جبر کا افسوسناک مظاہرہ

اس صورت حال میں تو یہی نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ یا تو اداروں کے درمیان کشمکش ہے۔ یعنی ان کی حدود کا تعین نہیں ہو سکا ہے اور ہر ادارہ اپنی حدود میں رہ کر کام کرنے کے لئے تیار نہیں ہے۔ اس کا زیادہ الزام فوج پر عائد کیا جاتا ہے جس کے بارے میں خیال ہے کہ وہ حکومت کی مفاہمانہ حکمت عملی کے مقابلے میں سرحدوں پر تصادم کی کیفیت برقرار رکھنے، افغانستان اور بھارت کے بارے میں پالیسی میں نرمی کرنے اور رعایت نہ دینے اور دہشت گردی کے خاتمہ کے لئے اپنے مقرر کردہ اہداف اپنے طریقے سے حاصل کرنے پر اصرار کرتی ہے۔ اسی کھینچا تانی میں اختلاف پیدا ہوتا ہے۔ فوج سول حکومت کے بارے میں بدظنی کا شکار ہوتی ہے اور سول حکومت یہ گلہ کرتی ہے کہ اسے آزادی سے کام کرنے نہیں دیا جاتا۔ گزشتہ برس کے دوران ڈان لیکس کے حوالے سے ہونے والی کشمکش فوج اور حکومت کے درمیان تصادم، اختلاف یا عدم تعاون کی اسی صورتحال کا پتہ دیتی ہے۔

اس تصویر کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ عوام کی رائے سے منتخب ہو کر اقتدار سنبھالنے کے بعد جمہوری لیڈر عوامی نہیں رہتے بلکہ وہ آمرانہ طریقے سے حکومت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک نہ اداروں کی خود مختاری کوئی اہمیت رکھتی ہے اور نہ وہ نظام میں کام کرنے والے ماہر افسروں کی رائے اور اختیارات کو تسلیم کرنے کے خواہاں ہوتے ہیں۔ اسی لئے اعلیٰ بیورو کریسی میں صرف ایسے افسروں کو تعینات کیا جاتا ہے جو خوشامد پسند ہوں یا اپنی مہارت کو حکمرانوں کی مرضی کے مطابق ڈھالنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ اسی طرح نیب اور دیگر اداروں کی کارکردگی کی نگرانی کا اہتمام کیا جاتا ہے اور جمہوری حکمران جمہوری اداروں کو خود مختاری سے کام کرنے کی اجازت دینے کے لئے تیار نہیں ہوتے۔ اس مزاج کی وجہ سے ایک طرف ادارے کمزور ہوتے ہیں تو دوسری طرف یہ تاثر مضبوط ہوتا ہے کہ حکومت سب اداروں کو قومی ایجنڈے کی بجائے ذاتی سیاسی مفاد کے لئے استعمال کرتی ہے۔

اسی بارے میں: ۔  عمران خان کا جلسہ: تمہی کہو یہ انداز سیاست کیا ہے؟

وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی عبوری مدت کے لئے وزیر اعظم بنے ہیں۔ وہ خود بھی نواز شریف کو ہی حقیقی اور عوامی وزیر اعظم سمجھتے ہیں۔ لیکن اگر وہ اپنی موجود حیثیت میں اداروں کے درمیان تصادم کا تاثر زائل کرنے کے لئے ان کی حدود کا تعین کرنے کے کام کا آغاز کرسکیں تو یہ ایک خوشگوار پیش رفت ہو سکتی ہے۔ ایسی حدود سب سے پہلے وزیر اعظم اور حکومت کے ادارے کے لئے مقرر ہونی چاہئیں۔ یہ طے ہونا چاہئے کہ وزیر اعظم اور کابینہ کے وزیر، امور مملکت چلانے میں من مانی کرنے کا اختیار نہیں رکھتے۔ وہ مملکت کے دیگر اداروں کی کارکردگی کے حوالے سے رہنما اصول بنا سکتے ہیں لیکن خود انہیں اپنے زیر نگیں رکھنے کے لئے اقدام نہیں کرسکتے۔ اسی طرح پارلیمانی نظام میں منتخب حکمران خواہ وزیر ہو یا وزیر اعظم پارلیمنٹ کے سامنے جوابدہ ہوتا ہے اور اسے وہاں موجود رہنا چاہئے۔ پارلیمنٹ کو غیر اہم یا کمزور کرنے اور اکثریت کی بنیاد پر منتخب ہو کر وزیر اعظم کو مطلق العنان بنانے یا سمجھنے کی کوششیں جمہوری نہیں کہلا سکتیں۔

ملک کی سول حکومت اگر ان خطوط پر کام کا آغاز کرسکے۔ اگر حکومت اور سول اداروں کے درمیان توازن اور اختیارات کی تقسیم اور دائرہ کار کا مناسب تعین ہوجائے اور اس کا احترام کیا جائے تو اس صورت میں فوج کو بھی اپنی حدود میں رہنے پر مجبور ہونا پڑے گا۔ پالیسی معاملات میں مداخلت کے حوالے سے فوج کی اصل طاقت یہی ہے کہ سول حکومتیں سول اداروں پر اپنی بالادستی قائم کرتی ہوئے انہیں جزو معطل بناتی رہی ہیں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 683 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali