کیا پختونخوا میں ڈینگی کی روک تھام وزیر صحت پنجاب کی ذمہ داری ہے؟


خیبر پختون خوا میں پاکستان تحریک انصاف کے کچھ کارکنوں کو یہ اعتراض ہے کہ ڈینگی کے معاملے پر پنجاب حکومت سیاست کررہی ہے۔ پنجاب حکومت ٹیمیں بھجوا کر اور وفاقی حکومت مرنے والے کے لواحقین کو دو دو لاکھ روپے دے کر سیاست کررہے ہیں۔ لیکن سیاست کا ایک مطلب خدمت بھی تو ہوتا ہے تو اگر کوئی دور سے آکر ایسی سیاست کرتا ہے تو ہمیں ہمیشہ ایسی سیاست کو خوش آمدید کہنا چاہیے۔

یہاں یہ بات واضح کرنا ضروری ہے کہ پنجاب اور وفاق کو خیبر پختون خوا میں موقع دینے والے کوئی اور نہیں بلکہ خود خیبر پختون خوا حکومت ہے۔ یکم اگست کو محکمہ صحت خیبر پختون خوا کی جانب سے ایک مراسلہ ارسال کیا جاتا ہے جس میں ڈینگی وائرس کی موجودگی کا انکشاف کرتے ہوئے کہا گیا کہ گزشتہ تین ہفتوں میں ڈینگی کے 115 مشکوک کیسز رپورٹ ہوئے ہیں اس لئے اراکین اسمبلی اور ضلع ناظم ڈینگی کی روک تھام کے لیے اقدامات اٹھائیں۔

اس کے بعد 2 اگست کو خبر سامنے آئی کہ پشاور میں ڈینگی وائرس متحرک ہوا ہے اور پشاور کے خیبر ٹیچنگ ہسپتال میں ڈینگی سے متاثرہ 74مریض لائے گئے جن میں سے ایک مریض دم توڑ گیا ہے۔ مریضوں کا تعلق تہکال سے تھا۔

یہ خبریں سامنے آتی رہی لیکن صوبائی حکومت ٹس سے مس نہ ہوئی۔ مریضوں کے لئے طبی سہولیات اور ڈینگی لاروا کو تلف کرنے کے لئے اقدامات تو دور کی بات صوبائی حکومت ڈینگی کا وجود تسلیم کرنے کو ہی تیار نہیں تھی۔

3 اگست کو جمعیت علماء اسلام پشاور نے ڈینگی وائرس کو پہلی بار سیاسی مقصد کے لئے استعمال کرنا شروع کیا اور تہکال میں ڈینگی کے وبا کے پھیلنے کی طرف نہ صرف توجہ دلائی بلکہ حکومتی اقدامات کو ناکافی قرار دیتے ہوئے صورت حال کو بہتر بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔ لیکن تین یوم میں صورتحال بہتر نہ ہوئی تو باقاعدہ احتجاج کیا اور یونیورسٹی روڑ کو بھی بلاک کیا گیا لیکن حکومت نے کچھ نہیں کرنا تھا تو نہ کیا۔

وائرس پھیلتا رہا لیکن صوبہ خیبر پختون خوا کے وزیر صحت اس دوران ملائشیا میں رہے اور صوبہ وزیر صحت کے بغیر رہا۔ مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا گیا لیکن حکومت نے کوئی توجہ نہ دی۔ ایسے میں پشاور سے تعلق رکھنے والے سینئر وکیل محب اللہ کاکا خیل نے رٹ جمع کرائی کہ اور عدالت میں حکومتی بے حسی کا رونا رویا۔ جس پر پشاورہائی کورٹ نے ڈینگی کے خاتمے کے لئے محکمہ صحت کی جانب سے ٹھوس اقدامات نہ کرنے پر متعلقہ حکام سے جواب طلب کیا ہے۔

نوٹسز ملنے کے بعد پشاور کے علاقے تہکال میں سپرے مہم شروع کی گئی اور انتطامات کیے گئے لیکن یہ وہ وقت تھا جب ڈینگی سے متاثرہ افراد کی تعداد 5 سو سے تجاوز کر چکی تھی اور ڈینگی کے باعث مرنے والوں کی تعداد 10 تھی۔

اس دوران قومی میڈیا نواز شریف کے پانامہ کیس میں معزول ہونے کے بعد سے لے کر اسلام آباد سے رائے ونڈ تک مارچ میں مصروف تھا اور صبح سے رات اور رات سے صبح تک صرف نواز شریف اور پانامہ کی خبریں چلتی رہی۔

ان اوقات میں شہرام ترکئی بھی وطن واپس آگئے تھے اور اس کے بعد اپنے اور وزیر اعلی خیبر پختون خوا کے ساتھ سیاسی معاملات اور گلے شکووں کے حل کے لئے اسلام آباد میں مقیم رہے۔ اگر کسی نے ڈینگی کے حوالے سے رابطہ کرنے کی کوشش کی تو شہرام صاحب نے کوئی جواب نہ دیا۔ ڈپٹی کمشنر پشاور ڈینگی کے حوالے سے صحافیوں کو ”مس گائیڈ“ کرتے رہے اور کہتے رہے کہ صرف ایک شخص اب تک ڈینگی سے مرا ہے۔ اس دوران مقامی افراد مسلسل مجھ سے رابطے میں رہے اور اس معاملے کو جیو نیوز کے پلیٹ فارم سے اٹھانے کی درخواست کرتے رہے جس میں پاکستان تحریک انصاف کے ممنتخب بلدیاتی نمائندے بھی شامل تھے۔

وائرس پھیلتا رہا اور میڈیا اسلام آباد سے روانہ نواز شریف کے قافلے اور اس کے بعد یوم آذادی کی خبریں دینے میں مصروف رہا۔ چودہ اگست کو میں نے ایک سینئیر سے اس معاملے پر بات کی اور کہا کہ عوام اپنا حق سمجھ کر یہ معاملہ جیو نیوز کے پلیٹ فارم سے اٹھانے کی درخواست کر رہے ہیں جس پر انھوں نے یقین دہانی کرائی اور جیو نے اس خبر کو مناسب کوریج دی۔ یہ کوریج عوام کے اصرار پر تھی جو کہ ہم کم از کم 15 دن تاخیر سے دے رہے تھے۔ اس کے بعد دیگر میڈیا نے بھی جیو نیوز کو فالو کیا اور تمام قومی اخباروں اور نیوز چینلز پر معاملہ اٹھایا گیا۔

بلدیاتی نمائندوں نے پنجاب حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ آکر ڈینگی کے حوالے سے ان کی مدد کرے جس پر پنجاب حکومت کے نمائندے ”محمد بن قاسم“ کی طرح موبائل یونٹ لے کر پشاور پہنچے اور سیاست شروع کردی۔ تو یہ موقع خود خیبر پختون خوا حکومت نے پنجاب کو فراہم کیا ہے۔ حکومت کی جانب سے اب بھی ”سب اچھا“ کی رپورٹ دی جارہی ہیں۔ اور اسپتالوں کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ ڈینگی کے مریضوں کے معاملات کسی سے شئیر نہ کرے۔

ڈینگی سے متاثرہ افراد کی تعداد پشاور میں ایک ہزارسے تجاوز کرگئی ہے۔ صوبائی حکومت اس کو قابو کرنے میں کس حد تک سنجیدہ ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ آج گورنر ہاوس میں ڈینگی کے حوالے سے ہونے والے اجلاس میں بھی وزیر صحت شہرام ترکئی شامل نہ ہوئے جبکہ اجلاس میں وزیر صحت پنجاب نے خیبر پختون خوا حکومت کے نمائندوں سے ملاقات کی۔ اجلاس میں پنجاب حکومت کی جانب سے ڈینگی کے بچاؤ کی سہولیات اور آلات فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی اورمتاثرہ علاقوں میں جیو ٹیگنگ کے حوالے سے پنجاب حکومت کے اقدامات سے آگاہ کیا گیا۔ پنجاب کے وزیرصحت نے پیش کش کی کہ اگرخیبر پختون خوا حکومت ایسا نظام قائم کرنا چاہتی ہے تو ہم سہولیات فراہم کرنے کو تیار ہیں۔ پنجاب حکومت ماسٹر ٹرینرز فراہم کرے گی۔ ڈپٹی کمشنر پشاور نے لوڈ شیڈنگ کوڈینگی پھیلنے کی بڑی وجہ قرار دیا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ موبائل یونٹ ہر ویلج کونسل میں دو روز تک لگائے جائیں گے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

آفتاب احمد کی دیگر تحریریں
آفتاب احمد کی دیگر تحریریں