ڈاکٹر روتھ فاؤ اور جنت و جہنم


ڈاکٹر روتھ فاؤ کی وفات پر انسانیت پر یقین رکھنے والے دوست احباب نے ان کی انتھک بلا فرق رنگ و نسل اور مذہب انسانی خدمات پر کھل کر خراج تحسین پیش کیا۔ مگر مخصوص مذہبی طبقہ حسب سابق کچھ چھپے لفظوں میں اور کچھ کھلے عام ان کے مسیحی ہونے کی بنیاد پر کفر اور جہنمی ہونے کی بشارتیں سناتا رہا۔

ہم جیسے عاصی و گناہگار جب بھی جہنم کے ان تقسیم کاروں کو دوسروں سے حسن ظن رکھنے کی التجا کرتے ہیں تو یہ طبقہ الہامی کتابوں کے عمومی احکامات لے کر اپنی اس مخصوص سوچ کو عین خدائی منشاء و درجہ باور کروا دیتے ہیں۔

اس تنگ نظری کا نتیجہ ہے کہ ہمارے معاشروں میں انسانی خدمت کے اصل مقصد کی بجائے سارا زور صرف اپنے اپنے خشک عقیدے کی مالا جپنے کو کامیابی سمجھا جاتا ہے۔ بھلا جہاں صرف مخصوص الفاظ کو ہی بالآخر اخروی نجات کے لئے کافی سمجھا جاتا ہو، وہاں انسانیت کے لئے ساری ساری زندگی وقف کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے؟

اس سارے معاملے کو ایک اور تناظر میں دیکھئے جس کی طرف ہماری مفتی و تقویٰ بریگیڈ دھیان دیتی ہے نہ سمجھنا چاہتی ہے۔ آپ نے کبھی دیکھا ہے کہ ہندوستان میں ٹیپو سلطان یا ابوالکلام آزاد کو خراج تحسین پیش کرنے کی بجائے ان کے بارے ہندوؤں نے یہ بحث چھیڑی ہو کہ یہ حضرات ان کے عقیدے کے مطابق نرک میں جائیں گے کیونہ وہ ہندو نہیں تھے؟ برطانیہ و امریکہ میں عبدالستار ایدھی کو لے کر مسیحیوں نے یہ شور مچایا ہو کہ ایدھی صاحب چونکہ مسیحی نہیں تھے اس لئے ان کا ٹھکانہ جہنم ہونا چاہیے؟ کبھی یورپ میں یہ بحث جاری ہو کہ علامہ اقبال یا محمد علی جناح کا ابدی ٹھکانہ وہ ہو گا جس سے پناہ مانگنی چاہیے کیونکہ یہ حضرات مسیحیت کی مروجہ الہامی بنیادوں کو نہیں مانتے تھے؟

اسی بارے میں: ۔  کچھ اپنے سیاسی سفر کے بارے میں

ابھی بھی سمجھ نہیں آئی تو فرض کیجئے کہ آپ کا کوئی عزیز فوت ہو جائے اور آپ کے پاس کوئی مسیحی دوست آئے اور تعزیت کے ساتھ ساتھ ارشاد فرمائے کہ موصوف بہت اچھے انسان تھے کاش کہ وہ مسیحی بھی ہوتے تو جنت میں جاتے۔ کیسا محسوس ہو گا جب کوئی ہندو دوست کہے کہ مرحوم نے بہت اچھی زندگی گزاری لیکن افسوس کہ نرک میں جائیں گے کہ اصلی دھرم ہندومت کی حقانیت سے محروم رہے۔ یقینی طور پر آپ کو اچھا نہیں لگے گا تو یہی بات دوسروں کے لئے کیوں نہیں سوچتے سمجھتے؟

تمام کے تمام مذاہب کی اپنی اپنی الہامی بنیادیں ہیں اور ہر مذہب کا ماننے والا اپنے ہی مذہب کو بہترین سمجھتا ہے۔ مگر جس طرح یہ ہرگز مناسب نہیں کہ کوئی مسیحی یا ہندو اٹھ کر اپنی الہامی و نظریاتی بنیاد کے مطابق ہمارے عزیز و اقارب کو اپنے اخروی عقائد و نظریات کی بھینٹ چڑھانے لگے، اسی طرح اپنی مانی ہوئی اسلامی بنیادوں کے مطابق دوسرے مذاہب و عقائد کے مرحومین پر کفر و جہنمی ہونے کی فتوے بازی انتہاء درجے کی لغویت ہے۔ یہ بات تو عام لوگوں تک کے لئے تسلیم کی جانی چاہیے الا یہ کہ ڈاکٹر روتھ فاؤ جیسی ہستیاں ایسی پھکڑ بازیوں کی زد میں ہوں جس کی ساری زندگی انسانی خدمت کا استعارہ ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔