ایک صدی بعد باپ بننے والا شخص: رام جیت راگھو


تقریباً ایک صدی کے انتظار کے بعد رام جیت راگھو کے گھر میں ان کے اپنے بچوں کی کلکاری کی آواز گونج رہی ہے، ایک بچہ ان کی گود میں ہے اور ایک کمر پر۔ رام جیت یادو کی عمر تقریباً چھیانوے سال ہے اور ان کے بارے میں ذرائع ابلاغ میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ انہوں نے دنیا میں سب سے زیادہ عمر میں باپ بننے کا ریکارڈ قائم کیا ہے۔

لیکن خود انہیں اس کی خبر نہیں۔ میں ان سے ملنے شمالی ریاست ہریانہ کے کھرکھودا گاؤں پہنچا تو وہ بخار کی گرفت میں تھے۔ چھوٹے سے ایک کمرے میں روئی کے گندے گدے پر لیٹا ایک بوڑھا شخص جسے دیکھ کر ایسا نہیں لگتا کہ ان کی جنسی زندگی سے متعلق جو دعوے ان سے منسوب کیے جارہے ہیں وہ سچ ہو سکتے ہیں۔

میں نے ذکر چھیڑا تو مجھے حیرت ہوئی کہ سیکس کے بارے میں بات کرنے سے انہیں کوئی پرہیز نہیں۔ رات کیسے گزرتی ہے اور وہ کیا کارنامے انجام دیتے ہیں، وہ پوری داستان فخر سے بتاتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ ان دعوؤں کی تصدیق تو ممکن نہیں لیکن ان کے ایک پڑوسی شو رام کہتے ہیں کہ ’ لوگ طرح طرح کی باتیں کرتے ہیں لیکن یہ بات اہم نہیں ہے کہ وہ دنیا میں سب سے زیادہ عمر میں باپ بنے ہیں یا نہیں، بلکہ آپ یہ دیکھیے کہ یہ شخص اس عمر اور اس غربت میں بھی دو بچوں کو پالنے کی ہمت رکھتا ہے۔‘

کھرکودا میں ایک مزار سے ملحق رام جیت راگھو کا ایک کمرے کا گھر ہے۔ کچھ ٹوٹا پھوٹا سامان اور پھٹے پرانے کپڑے ہی ان کی زندگی کا سرمایہ ہیں۔ لمبے انتظار کے بعد پہلا بیٹا بکرم دو سال پہلے پیدا ہوا تھا، اس وقت وہ چورانوے سال کے تھے۔ دوسرے بیٹے کی پیدائش سرکاری ہستال میں ہوئی جہاں سے خبر پھیلنا شروع ہوئی اور اب مقامی اور غیر ملکی اخباروں کے نمائندے بھی رام جیت سے ان کا ’راز‘ معلوم کرنے کے لیے ان کے گاؤں پہنچ رہے ہیں۔

رام جیت کا کہنا ہے کہ انہیں جوانی میں پہلوانی کا شوق تھا۔’میں دن میں آدھا کلو بادام اور آدھا کلو گھی، تین لیٹر دودھ کے ساتھ لیتا تھا۔۔۔اس وقت میرے جسم میں اتنی طاقت تھی کہ بھینس کو پٹخ دیتا تھا، میں نہ گوشت کھاتا ہوں اور نہ مچھلی یا انڈا، نہ شراب پیتا ہوں۔ بس سادہ کھانا کھاتا ہوں، اب پہلے جیسی خوراک نہیں ملتی لیکن جوانی میں جو کھایا پیا تھا وہ کام آ رہا ہے۔‘

ہریانہ میں بزرگوں کو ماہانہ ساڑھے پانچ سو روپے پینشن دی جاتی ہے۔ پینشن کی کتاب کے مطابق سنہ دو ہزار میں وہ نوے سال کے تھے۔ رام جیت کا کہنا ہے کہ’ بہت زمانہ پہلے‘ ان کی پہلی بیوی بھی حاملہ ہوئی تھیں لیکن زچگی کے دوران ماں اور بچے دونوں کی موت ہوگئی۔ ’پھر میں پہلوانی میں لگ گیا، بہت سال بعد میں نے اپنی سالی شکونتلا سے شادی کی اور اب اٹھارہ سال سے ہم ساتھ ہیں۔‘ رام جیت کے مطابق شکونتلا کی عمر پچاس سال ہے لیکن ان کے پاس ایسی کوئی دستاویز نہیں ہے جس سے ان کی عمر کی تصدیق کی جا سکے۔

اخبار ٹائمز آف انڈیا کے مطابق دو ہزار سات میں راجستھان میں نانو رام جوگی نام کے ایک شخص نے نوے سال کی عمر میں باپ بننے کا دعویٰ کیا تھا۔ لیکن یہ ان کا اکیسواں بچہ تھا۔

میرے ذہن میں سوال تھا کہ اس عمر میں کوئی بھی شخص بچے کیوں پیدا کرنا چاہے گا؟ ’مجھے اس بات کی بہت فکر رہتی تھی کہ میرے بعد میری نسل ختم ہو جائے گی۔۔۔نام پر تو دنیا جان دیتی ہے، پھر بہت سے لوگ یہ بھی کہتے تھے کہ دونوں بانجھ ہیں، میں نے بھگوان کے آگے ہاتھ پھیلایا اور اس نے مجھے ایک کی جگہ دو بیٹے دے دیے۔‘ میں نے پوچھا کہ آپ کو کبھی اس بات کی فکر نہیں ہوتی کہ آپ کے بعد ان بچوں کا کیا ہوگا؟ ان کا جواب تھا کہ وہ کبھی کسی بات کی فکر نہیں کرتے، یہ ہی ان کی صحت کا راز ہے۔ میں ابھی نہیں مرنے والا، بچوں کو وہاں پڑھاؤں گا جہاں وہ پڑھنا چاہیں گے، بینک میں بھی کچھ پیسہ ہے، میرے بعد بھی ان لوگوں کا گزر بسر ہو جائے گا۔۔۔ لیکن میں کسی بات کی فکر نہیں کرتا، وہ ہی بناتا اور وہی بگاڑتا ہے۔‘

’کبھی کبھی بچے رات بھر جگاتے ہیں لیکن میں کبھی انہیں ڈانٹتا نہیں۔۔۔ بچے پالنا آسان کام نہیں ہے۔ ان کی ہر ضرورت ہماری ضروریات سے پہلے آتی ہے۔‘ رام جیت کو لگتا ہے کہ ان کی فیملی پوری ہوگئی ہے۔ ’اب مجھے اور بچے نہیں چاہئیں۔۔۔دو کافی ہیں، ایک اور ہو گیا تو بات بگڑ جائے گی۔۔۔‘ لیکن وہ اپنا نہیں اپنی بیوی کا آپریشن کروائیں گے کیونکہ ’وہ محنت مزدوری کرتے ہیں اور آپریشن سے ان کا جسم کمزور پڑ جائے گا۔‘

اور جب میں ان سے اجازت لینے لگا تو یہی مشورہ انہوں نے مجھے بھی دیا!


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 482 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp