لاہور ہائیکورٹ پر وکلا نے دھاوا بول دیا، دروازہ توڑ ڈالا گیا


لاہورہائیکورٹ فل بینچ کےتوہیں عدالت کے مرتکب وکیل شیر زمان قریشی کو گرفتار کرنے کے حکم  پر وکلا بپھر گئے اور احتجاج کرتے ہوئے عدالت کا ایک گیٹ توڑ دیا، وکلانےہائیکورٹ کی عمارت پر پتھراؤ بھی کیا، پولیس کو وکلا کو منتشر کرنےکے لئےآنسو گیس کی شیلنگ اور واٹرکینن استعمال کرنا پڑی، وکلاء کے احتجاج کے باعث مال روڈ پر نظامِ زندگی درہم برہم ہو کر رہ گیا۔
چیف جسٹس لاہورہائیکورٹ سید منصورعلی شاہ کی سربراہی میں 5رکنی فل بینچ، ہائیکورٹ بار ملتان بینچ کےصدرشیر زمان قریشی اور قیصر کاظمی کی جانب سےملتان بینچ کےسینئر جج کےساتھ بدتمیزی اورتوہین عدالت کیس کی سماعت کی۔

عدالت نےدونوں وکلاء کےلائسنس معطل کر دیےاورناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئےآر پی او ملتان کوحکم دیاکہ شیز زمان قریشی کو گرفتار کرکے 22اگست کوعدالت میں پیش کیاجائے، وکلا یہ حکم سنتےہی بپھر گئےاور احاطہ عدالت میں شدیدہنگامہ آرائی کرتے ہوئےگیٹ توڑ دیا۔

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے ریمارکس دیےکہ عدالت کا تقدس سب سے اہم ہے، اس پر کوئی سمجھوتانہیں کریں گے، عدالت نے ہنگامہ آرائی کرنےوالے وکلا کے خلاف بھی کارروائی کا حکم دیتے ہوئےکارروائی 22اگست تک ملتوی کر دی۔

عدالت کے حکم کے بعد سی پی اوصدربارشیرزمان قریشی کی گرفتاری کے لیے ہائیکورٹ ملتان بینچ پہنچ گئے تاہم صدر ہائیکورٹ بار شیرزمان قریشی ڈسٹرکٹ بارسےموٹرسائیکل پربیٹھ کرفرارہوگئے۔
یہ خبر بھی پڑھیے: ’’گرفتار ہوجاؤں تودرخواست ضمانت دائر نہ کی جائے‘‘

اس دوران احاطہ عدالت میں چیف جسٹس کےحامی اور احتجاجی وکلا کےآمنےسامنےآنےسےصورتحال کشیدہ ہو گئی۔ رینجرز اورپولیس کی بھاری نفری بھی احاطہ عدالت میں موجود تھی، وکلا احتجاج کرتے ہوئے مال روڈ پر نکل آئےاورٹریفک بلاک کر دی، ہائیکورٹ کےججز گیٹ کےسامنے دھرنا دےکرشدید نعرے بازی کی۔ وکلانے ہائیکورٹ کی عمارت پر بھی پتھراؤ کیا، پولیس نےمشتعل وکلا کو منتشرکرنےکے لیےآنسوگیس کی شیلنگ کی اورواٹرکینن سے پانی پھینکا۔

وکلاکےاحتجاج کےباعث شہر کی مصروف ترین شاہراہ مال روڈ پرزندگی معطل ہوکر رہ گئی، شہریوں، تاجروں، طلباء وطالبات اورمیواسپتال لائےجانےوالے مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ وکلا کا مطالبہ ہے کہ لاہور ہائی کورٹ فوری طور پر ملتان بار کے صدر شیرزمان قریشی کی گرفتاری کا حکم واپس لے اور اس کیس کو مزید نہ سنا جائے۔

دوسری جانب صدر لاہور ہائیکورٹ بار چودھری ذوالفقارنے بینچ کے رویے کے خلاف کل صوبے بھر میں ہڑتال کا اعلان کردیا جبکہ سندھ بار کونسل نے لاہور واقعے کے خلاف کل سندھ بھر کی عدالتوں میں بائیکاٹ کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ وکلا کے ساتھ اختیار کیا جانے والا رویہ افسوسناک ہے، جس کے خلاف کل وکلا برادری عدالتی کارروائی کا مکمل بائیکاٹ کرے گی۔
یہ خبر بھی پڑھیے: ہائیکورٹ بار ملتان کے صدرکیخلاف کارروائی نہ ہو سکی

خیال رہے کہ چند روز قبل ہائی کورٹ ملتان بینچ میں جسٹس قاسم خان کیس کی سماعت کر رہے تھے کہ اس دوران شیر زمان قریشی اور معزز جج کے درمیان تلخ کلامی ہوئی جس کے بعد وکلا نے کمرہ عدالت کے باہر لگی جج کے نام کی تختی کو اکھاڑ کر پیروں تلے روندا۔

دوسری جانب چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس منصور علی خان نے عدالتی تقدس مجروح کرنے کا نوٹس لیتے ہوئے ملتان بار کے صدر شیر زمان قریشی کو پیش ہونے کا حکم دیا تھا۔

’’حکومت نے معاملے کے پرامن حل کی کوشش کی‘‘

وزیرقانون پنچاب رانا ثناءاللہ نے کہا ہے کہ وکلاکاتنازع ایک ماہ سے چل رہاہے، حکومت نےمعاملےکےپرامن حل کی کوشش کی۔ جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ وکلانےعدالت پرحملہ کرنےکی کوشش کی اورگیٹ توڑدیا، پولیس اوردیگراہلکاروں کوتشددکابھی نشانہ بنایا، پولیس معاملہ افہام وتفہیم سےحل کرنےکی کوشش کررہی ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔