ریفرنس کی حقیقت!


اس ایک گمنام شخص یا نامعلوم افراد کے گروہ کی شیطان صفت ذہانت کو سلام جس نے گزشتہ جمعے کی شام تک یہ ”دریافت“ کرلیا کہ سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق سپریم کورٹ کے ایک عزت مآب جج کو ان کے منصب کے لئے ”نا اہل“ ثابت کرنے کا منصوبہ بنا چکے ہیں۔ ”حیف ہے اس قوم پر۔ “کی گردان کے ساتھ یوسف رضا گیلانی کی وزارتِ عظمیٰ سے فراغت کا فیصلہ لکھنے والے جسٹس کھوسہ صاحب ان دنوں نواز شریف اور ان کے چاہنے والوں کے دلوں میں بھی یقیناً کانٹے کی طرح کھٹک رہے ہوں گے۔ حقائق کچھ بھی رہے ہوں۔ لاہور کے ایک صنعت کار گھرانے سے تعلق رکھنے والے نواز شریف اور ان کے قریبی عزیزوں نے سیاست میں آنے کے بعد سے اپنی ذات کے بارے میں گزشتہ 30 سالوں سے مسلسل یہ تاثر اجاگر کیا کہ وہ ہماری اشرافیہ کے عمومی رویے سے قطعاً برعکس زندگی گزارتے ہیں۔ ان کی شرافت، دین داری اور لوگوں سے میل ملاپ میں رعونت کے بجائے عاجزی ایک مسلمہ حقیقت کے طورپر مشہور ہوئی۔

پانامہ دستاویزات منکشف ہونے کے بعد سے سپریم کورٹ میں روزانہ سماعت کی بنیاد پر چلائے مقدمے کے دوران مگر یہ خاندان جرائم پیشہ مافیا کے ”گاڈفادر“ کی طرح زندگی گزارتا بتایا گیا۔ گلی کی زبان میں بات کریں تو ”بیبا“ نظر آتا شخص بالآخر بہت ہی ”میسنا“ ثابت ہوا۔ پاکستان کے تیسری مرتبہ وزیراعظم منتخب ہونے کے بعد اپنی سیاست کی آخری دِکھتی اننگز کھیلتے ہوئے نواز شریف”گاڈفادر“ کہلوائے جانے کے باعث یقینا بہت پریشان ہوں گے۔ غیرت کے نام پر قتل کے عادی ہوئے ہمارے معاشرے میں ایسی تہمت آپ کے نام کے ساتھ چپک جائے تو کوئی بھی آدمی وحشت میں دیوانہ ہوجاتا ہے۔ خود کو ہر صورت بے گناہ ثابت کرنا نوازشریف کی مجبوری بن چکی ہے۔ وزارتِ عظمیٰ کے منصب سے لیکن وہ ”نا اہل“ ٹھہراکر فارغ کردیے گئے ہیں۔ ان کے چاہنے والوں کی ایک کثیر تعداد کو یقیناً یہ گماں ہے کہ ان کے ساتھ انصاف نہیں، زیادتی ہوئی ہے۔ ہمدردی کے یہ جذبات مگر ٹھوس انداز میں نواز شریف کے کام نہیں آسکتے۔ اپنی ذات اور بچوں پر لگی تہمت کو انہوں نے خود ہی بنیادی طورپر ایک طویل قانونی جنگ کے ذریعے جھٹلانا ہے۔

سردار ایاز صادق ان کے بہت ہی وفادار ہوسکتے ہیں۔ نواز شریف کی خفت کا بدلہ لینے کا بوجھ مگر وہ اپنے سرکیوں لیں گے؟ آفتوں کے دور میں ہر شخص کو صلیب کا بوجھ اپنے ہی کاندھوں پر اٹھانا ہوتا ہے۔ کوئی ”’دوسرا“ خواہ وہ آپ سے کتنی ہی محبت کیوں نہ کرتا ہو آپ کی ذات پر لگے داغ دھونے کی جنگ اپنے سرلینے کو تیار نہیں ہوتا۔ آفتوں کے دور میں نواز شریف اور ان کے بہت ہی قریبی عزیزوں پر نازل ہوئی مصیبت اور تنہائی کو لیکن اندھی نفرتوں اور عقیدتوں میں تقسیم ہوئے معاشرے میں کوئی سمجھنے کو تیار ہی نہیں۔ شیخ سعدی سے منسوب ایک حکایت میں بیان کردہ ”تم تو مجھے چھیڑوگے“ والا ماحول بن چکا ہے۔ اس ماحول کا کسی گمنام شخص یا نامعلوم افراد کے گروہ نے بھرپور فائدہ اٹھایا۔ کم از کم 50 مختلف ذرائع سے مجھے وٹس ایپ کے ذریعے اس ریفرنس کا پورا ”متن“ مل گیا جو مبینہ طورپر سردار ایاز صادق نے ہفتے کے روز عزت مآب جسٹس کھوسہ کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل کو بھیجنا تھا۔

تقریباً دس سال ہوئے میں کل وقتی رپورٹنگ کے دھندے سے تھک ہار کر ریٹائر ہوچکا ہوں۔ سردار ایاز صادق کی جانب سے مبینہ طور پر تیار کردہ ریفرنس کا متن میرے سمارٹ فون پر آتا چلاگیا تو اسے کھول کر ایک ایک لفظ پڑھنے پر مجبور ہوگیا۔ کل وقتی صحافت کی طرف آنے کے لئے کسی ڈھنگ کے اخبار میں نوکری تلاش کرنے سے قبل میں روزمرہّ گزارے کے لئے ٹی وی ڈرامے لکھنے کے علاوہ کبھی کبھار انگریزی سے اُردو ترجمہ کرنے کاکام بھی پکڑلیتا تھا۔ کراچی میں ان دنوں ایک بہت ہی مشفق اور خلیق وکیل ہوا کرتے تھے۔ سید خلیق الزماں ان کا نام تھا۔ وہ اس شہر کے اُردو لاءکالج میں قانون بھی پڑھاتے تھے۔ ان سے درخواست ہوئی کہ وہ تعزیراتِ پاکستان کی کوئی آسان تشریح لکھ ڈالیں۔ چند دوستوں کی معرفت ان سے رابطہ ہوا۔ میں قانون کی مختلف کتابوں میں ان کے نشان کردہ حصوں کا اُردو ترجمہ کرتا۔ اسے جانچتے ہوئے خلیق صاحب بہت ہی مشفقانہ انداز میں میری لکھی تحریر میں ”پنجابیت“ کی نشان دہی کرتے۔ میں شرمندہ ہوجاتا۔ کتاب مگر تیار ہوگئی تو انہوں نے اس کے دیباچے میں خصوصی طورپر میرا ذکر کرکے شکریے کا اظہار کیا۔

ترجمے کی اس مشق سے گزرتے ہوئے میں قانونی زبان کی، جسے شاید Legaleseکہا جاتا ہے، مناسب شدھ بدھ رکھتا ہوں۔ سردار ایاز صادق کی جانب سے مبینہ طورپر تیارکردہ ریفرنس کا ”متن“ پڑھا تو جبلی طورپر طے کرلیا کہ یہ متن کسی شرارتی ذہن نے تیار کیا ہے۔ Fake News ہے۔ گزرے ہفتے کا سارا دن مگر ہمارے ٹی وی چینلوں پر اس ”ریفرنس“ کا تذکرہ رہا۔ عمران خان صاحب جیسے قدآور رہنما نے اس کی شدید مذمت کی۔ پیپلز پارٹی کے چند ذہین وفطین افراد بھی مذمتی بیانات دیتے ہوئے تحریک انصاف سے زیادہ جارح نظر آنے کی کوششیں کرتے رہے۔ راولپنڈی کے لال حویلی سے اُٹھے بقراطِ عصر نے تو ناموسِ سپریم کورٹ کے تحفظ کے لئے سڑکوں پر آنے کی دھمکی بھی دے ڈالی۔

مبینہ ریفرنس کے حوالے سے ہیجانی کیفیات کی انتہاؤں تک پہنچنے کے کئی گھنٹوں کے بعد بالآخر کسی صحافی کو خیال آیا کہ ”ریفرنس“ والی”خبر“ کی تصدیق بھی ضروری ہے۔ اٹارنی جنرل سے رابطہ ہوا تو انہوں نے لاعلمی کا اظہار کیا۔ سپریم کورٹ کے دفتر میں بھی اس ”ریفرنس“ کا انتظار ہی ہوتا رہا۔ سہ پہر کے قریب قومی اسمبلی کے سیکرٹریٹ نے بھی بالآخر ایک تردید جاری کردی۔ سپیکر قومی اسمبلی جو ان دنوں پاکستان ہی میں ہوتے ہیں صحافیوں کی گرفت میں نہ آئے۔

بالآخر ایک دو رپورٹروں نے ہفتے کی شام ان سے فون پر رابطہ کرہی لیا۔ ہکا بکا ہوئے سردار ایاز صادق اپنی حیرت کا اظہار کرنے کے لئے مناسب الفاظ تک نہ ڈھونڈ پائے۔ ”تم تو مجھے چھیڑوگے“ والا ماحول لہذا اپنی جگہ برقرار رہا۔ ایک بات البتہ یہ بھی ثابت ہوگئی کہ وہ شے جسے ”رپورٹنگ“ کہا جاتاتھا پاکستانی صحافت سے رخصت ہوچکی ہے۔ Ratingsکی تلاش میں وحشی ہوئے نام نہاد ریگولرمیڈیا کو دن کے 24گھنٹے اپنی سکرینوں پر رونق لگانے کے لئے سنسنی خیز مواد کی بھوک مسلسل پریشانکیے رہتی ہے۔ اس بھوک کا شیطانی مہارتوں والے اپنے Smart Phonesکی بدولت خوب فائدہ اٹھارہے ہیں۔ اندھی نفرتوں اور عقیدتوں میں تقسیم ہوئی ہماری قوم تخت یا تختہ والے معرکے دیکھنے کو بے قرار ہے۔ ایسے ماحول میں چین ایک پل بھی نہیں آئے گا۔ اس دن سے خوف آنا شروع ہوگیا ہے جب کوئی حتمی طاقتور ڈنڈا اٹھاکر ہم سب کو ”بندے کا پُتر“ بن کر اپنے کام سے کام رکھنے پر مجبور کردے۔ اس کے نمودار ہوجانے کے بعد مٹھائیاں بٹیں اور مسلسل خوف، ہیجان کا شکار بنائی قوم سکھ کا سانس لے۔ ایسی صورت میں لیکن Breaking News دینے والوں کا کیا ہوگا؟ وہ اکھڑی سانسوں کے ساتھ Beeper فروشی کے لئے کونسا پلیٹ فارم استعمال کریںگے؟


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔