نفرت کے خلاف کھڑے ہوں


شارلٹسول میں‌ سفید فام سپریمیسی کے امریکی نیو نازی جلوس اور لوگوں‌ کے مرنے اور زخمی ہونے کے بعد سارے امریکہ میں‌ نفرت کے خلاف جلسے ہوئے۔ جمعرات کی شام نارمن، اوکلاہوما کے اینڈریوز پارک میں نفرت کے خلاف ریلی نکالی گئی۔ اس میں‌ میرے بہت سارے اچھے دوست جارہے تھے لیکن میں‌ اس میں‌ نہیں‌ جاسکی کیونکہ ڈاکٹر چندر کارڈیالوجسٹ نئی دوا پر اوکلاہوما سٹی میں‌ لیکچر دے رہے تھے۔ ایک ہی وقت میں‌ دو جگہ نہیں‌ ہوسکتے۔ وہاں‌ پروفیسر نائلہ خان نے بھی تقریر کی۔ یہ اس تقریر کا اردو میں‌ ترجمہ ہے۔ اچھا ہوا اس طرح‌ میں‌ نے بھی پڑھ لی کہ انہوں‌ نے کیا کہا۔ مجھے ان الفاظ سے سو فیصد اتفاق ہے۔
لکھاری: ڈاکٹر نائلہ علی خان۔ پی ایچ ڈی۔
مترجم: ڈاکٹر لبنیٰ مرزا۔ ایم ڈی

میری بیٹی ایمان نیویارک سٹی میں‌ پیدا ہوئی اور امریکی ساؤتھ میں‌ پلی بڑھی خاص طور پر نیبراسکا اور اوکلاہوما میں۔ جب بھی میں‌ میں‌ اس کو دو مختلف جغرافیائی علاقوں، تہزیبوں، سیاسی اور مذہبی دائروں‌ کے بیچ میں‌ جھولنے کے چیلنج کےبارے میں سمجھانے کی کوشش کرتی ہوں تو وہ مجھ سے یہی کہتی ہے کہ میں‌ ہر تجربے پر ضرورت سے زیادہ سوچ بچار کررہی ہوں اور نتیجتاً اس کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہوں۔

لیکن میں‌ یہ سمجھتی ہوں‌ کہ یہ ایک سے زیادہ تہذیبوں، سیاسی میدانوں اور مذہبی جہتوں‌ کو سمجھ سکنا ایک انعام ہے۔ زندگی کے تجربات اور مشاہدوں نے مجھے یہ طاقت دی کہ تکثیری معاشرہ تخلیق کرنے میں ہاتھ بٹا سکوں۔ میں مختلف تہزیبوں اور ملکوں کے شہری ہونے کے ناطے روایتوں‌ کے غیر تنقیدی جائزے ایک عرصہ پہلے ہی جھٹک چکی ہوں۔ اس بات کا اعتراف ہے کہ اب بھی کچھ رسم و رواج ہیں جو میری زندگی میں‌ مرکز اور سکون کا منبع ہیں۔ حالانکہ میں‌ ایک مسلمان گھرانے میں‌ پیدا ہوئی اور کیتھولک اسکول میں‌ تعلیم حاصل کی جس کو آئرش ننیں چلارہی تھیں، مجھے ایڈمنڈ میں‌ اپنے گھر سے قریب واقع یونانی آرتھوڈاکس چرچ میں‌ جاکر موم بتیاں جلا کر اس کے خوبصورت منظر میں‌ اپنے احساسات ڈبونا پسند ہے۔ زندگی کے سفر سے یہ سیکھا کہ ہم دوسرے انسانوں‌ کی اچھائی اور خود پر اعتماد اور بھروسہ کرنا کبھی بند نہیں کرسکتے۔

اسی بارے میں: ۔  موٹر وے نہ سہی .... مگر جنازے تو سڑکوں سے گزرتے ہیں

میں‌ اوکلاہوما میں‌ برف سے ڈھکے ہوئے پر سکون اور بے لوث محبت کے ماحول میں‌ کشمیر جو کہ جنوب میں‌ ہمالیہ اور شمال میں قراقرم کے درمیان ہے، بہت دور اپنے امریکی گھر میں‌ جو کہ اوکلاہوما میں‌ ہے، اپنی زندگی کے ذاتی اور دانشمند راستوں‌ پر غور کرتی ہوں تو یہ واضح ہے کہ​ سیاسی، نظریاتی اور تہزیبی اعتبار سے میں‌ نے امریکہ میں‌ ایک غیر ملکی کی حیثیت سے قدم رکھا۔ شروع میں‌ اس غیر تعلقی سے میں‌ نے خود کو بے سمت محسوس کیا۔
امریکی مڈویسٹ میرے ساتھ اچھا رہا ہے۔ میں‌ نے اوکلاہوما اور نیبراسکا میں‌ کام کیا اور ان کے تعلیمی اداروں‌، دانشوروں اور اعلیٰ پیشہ ور افراد سے سیکھا۔ اس علاقے کی فضا مجھے مسلسل زندگی کا مقصد یاد کراتی ہے جو کہ ہماری مختصر زندگیوں‌ سے بڑھ کر ہے۔ اسی وجہ سے مجھے خود پر اعتماد اور بھروسہ ہے۔

یہ فضا مجھے یہ بھی یاد کراتی ہے کہ کشمیر اور امریکہ کی نوجوان نسلیں آج کے عالمی تنازعات سے متاثر ہوئی ہیں۔ ہم امریکی اور کشمیری ایک ایسی دنیا کی خواہش رکھتے ہیں جس میں‌ سماجی انصاف، سیاسی نظام کی بالادستی ہو، جہاں ہم اپنی تہزیب پر فخر کرتے ہوئے ایک آزاد ماحول میں‌ اپنے خوابوں‌ کو عملی جامہ پہنا سکیں۔

کسی بھی ریاست یا قوم کی شناخت نفرت اور دوسرے لوگوں کو تکلیف اور دکھ پہنچانے کی بنیادوں‌ پر استوار نہیں‌ کی جاسکتی۔ عالمی معیشت کے دور میں‌ اس بات کا تصور بھی نہیں‌ کیا جاسکتا کہ سمجھ بوجھ، سیاست، بردباری اور اخلاقیات کو پس پشت ڈال دیا جائے۔ امریکہ جیسے ملک میں‌ جہاں‌ کئی مختلف پس منظر کے لوگ بستے ہیں، اس میں‌ ایسی سیاست کو ہوا دینا جس میں‌ تہزیبی تنگ نظری کو بڑھاوا دیا جائے، اس کے مستقبل کے لئے تباہ کن ہے۔ اس تنگ نظری سے عدم برداشت، نا انصافی اور ظلم کو بڑھاوا ملے گا۔ اگر حکومتی پالیسیوں‌ سے اختلاف ہو تو اس کو گفت وشنید سے نہ کہ شدت پسندی اور خون خرابے سے حل کرنے کی ضرورت ہے۔

اسی بارے میں: ۔  ماسکو میں ایک لکھنوی دعوت

2016 کے الیکشن نہ صرف امریکی عوام بلکہ تمام دنیا کے لئے ایک جگانے والا لمحہ ہیں۔ امریکی سول سوسائٹی اور سیاسی ادارے جڑے ہوئے ہیں۔ معنی خیز جمہوریت قائم کرنے کے لئے معاشرے کے ہر گروہ کا سیاسی میدان میں‌ بھرپور تعاون درکار ہوگا۔ ایک جامع جمہوری سوچ کے لئے اختلاف رائے کی بہت اہمیت ہے۔ ان مختلف گروہوں‌ کے درمیان کچھ بنیادی اتفاقات کا ہونا لازمی ہے۔ آج کے امریکہ میں‌ شہریوں‌ کے درمیان برابری، انصاف اور ذاتی مذہبی، ثقافتی اور تہزیبی دائروں میں‌ آزادی قائم رکھنے کی جدوجہد کی ضرورت ہے۔ ​


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

ڈاکٹر نائلہ علی خان

ڈاکٹر نائلہ خان کشمیر کے پہلے مسلمان وزیر اعظم شیخ محمد عبداللہ کی نواسی ہیں۔ ڈاکٹر نائلہ اوکلاہوما یونیورسٹی میں‌ انگلش لٹریچر کی پروفیسر ہیں۔

dr-nyla-khan has 22 posts and counting.See all posts by dr-nyla-khan