بس جی، اللہ کی مرضی یہی تھی


adnan Kakar

ہم پاکستانی غالباً اللہ کی چنی ہوئی قوم ہیں۔ اس کی مرضی پر قانع رہنے والے۔ بڑی سے بڑی آفت پر اللہ کی مرضی کہتے ہیں اور راضی برضا ہو رہتے ہیں۔ لیکن جب میں بنی اسرائیل کے حالات پڑھتا ہوں اور اپنی قوم کی طرف نظر دوڑاتا ہوں تو اپنے لوگوں کے کرتوت دیکھ کر لگتا ہے کہ نافرمانی میں شاید ہم بنی اسرائیل سے دو چار ہاتھ آگے ہی ہیں۔ بنی اسرائیل بھی تو اپنی تمام تر نافرمانیوں کے باوجود خود کو خدا کی پسندیدہ قوم قرار دیتے ہیں۔ کون سی ایسی غفلت، نافرمانی اور ناشکری ہے جو ہم نہیں کرتے۔ خاص طور پر ہمارے سرکاری محکمے تو شاید بہت ہی چنیدہ گردانے  جائیں گے۔ اور انہیں غالباً دوسری دنیا میں بھی وی آئی پی سلوک کی توقع رکھنی چاہیے، بالکل بنی اسرائیل جیسا سلوک۔ کہ اپنی ہر غفلت اور اس کے نتیجے میں ہونے والے نقصان کو اللہ کی مرضی قرار دے کر قوم کو مطمئن کر دینا ان کی خاص ادا ہے۔

ایک کہانی یاد آتی ہے۔ ایک آدمی ملازمت کے سلسے میں ملک سے باہر گیا ہوا تھا۔ وہ کچھ پریشان سا تھا کہ عرصہ دراز سے گھر سے اس کے خطوں کا جواب نہیں آرہا تھا۔ اسے خبر ملی کہ اس کے محلے کا ایک آدمی ابھی ملک سے آیا ہے۔ وہ فوراً اس کے پاس پہنچا اور سلام دعا، بھلو چنگو کے بعد اپنے گھر کے بارے میں دریافت کیا۔
محلے دار بولا ’بھائی سب خیریت ہے۔ تسلی رکھو۔ بس تمھارا کتا مر گیا ہے۔ ‘
آدمی کو بہت افسوس ہوا کہ کتا اس کو بہت عزیز تھا۔ بچپن سے اس کے ساتھ تھا۔ بولا ’کیسے مر گیا؟‘
’دروازہ کھلا رہ گیا تھا نا۔ باہر نکل گیا۔ باہر اپنے حوالدارغلام علی کا چھوٹا لڑکا فیقا ، وہی جو پانچویں میں پڑھتا ہے، ابا کی گاڑی چلا رہا تھا۔ بس جی، وہ گاڑی کے سامنے آگیا۔ بریک تو جی آپ کو پتا ہے جی اس گاڑی میں شروع ہی سے نہیں ہیں۔ بس جی، اللہ کی مرضی یہی تھی، مرگیا۔ ایسے ہی لکھی تھی اس کی۔ ‘
’دروازہ کھلا رہتا تھا؟ اماں تو بڑا خیال رکھتی تھیں کہ دروازہ بند رہے۔ ‘
’ہاں جی، آپ کی والدہ، اللہ انہیں جنت نصیب کرے، وہی تو دروازہ بند کرنے کا دھیان رکھتی تھیں۔ وہی نہ رہیں تو دروازہ کھلا رہنے لگ گیا تھا۔ ‘
’کیا کہا، میری والدہ بھی فوت ہو گئیں؟‘
’ہاں جی، اکلوتے پوتے کا غم کب تک سہتیں۔ بہت پیار تھا جی انہیں اس سے۔ اس کے بعد سے بیمار رہنے لگیں تھی۔ وہ جی اپنے محلے کے ڈاکٹر فقیر علی نے بہت علاج کیا۔ اماں وہی فقیر علی جو پہلے بلدیہ کی ڈسپنسری میں چھ مہینے کمپونڈری کرتے رہے تھے۔ بڑی شفا ہے جی ان کے ہاتھ میں۔ ٹیکا تو انہوں نے ٹھیک ہی لگایا ہو گا جی، بڑی سمجھ بوجھ والے ہیں جی۔ بڑے سے بڑا ڈاکٹر ان کا مقابلہ نہیں کر سکتا جی۔ مگر جی، ٹیکا لگتے ہی حالت بگڑی تو محلے والے لے کر ہسپتال دوڑے۔ بس راستے میں ہی وقت پورا ہوگیا۔ ویسے ہسپتال والے کہہ رہے تھے کہ وہ ٹیکا کسی اور بیماری کا تھا اور ہر ایک کو نہیں لگتا۔ پر جی، کیا فرق پڑتا ہے کہ کس بیماری کا تھا۔ ویسے ہی جعلی نکلا۔ بس جی، جس کی جس طرح لکھی ہے۔ اللہ کی مرضی میں کس کو دخل جی۔ ‘
’کیا کہا، میرا اکلوتا بیٹا بھی مر گیا؟‘
’ہاں جی، گھر سے اچھا بھلا کھیلنے نکلا تھا۔ وہ جی بلدیہ والوں نے جو پچھلے سال اپنے محلے میں سیوریج کے نئے پائپ ڈالے ہیں نا جی، اس کے گٹر کے ڈھکن نہیں لگائے تھے جی۔ ٹھیکیدار دوڑ گیا تھا جی۔ گزارا ہو رہا تھا، اس لیے بلدیہ نے پرواہ نہیں کی۔ بس گٹر میں اس کی گیند گر گئی۔ بچہ نا سمجھ تھا جی۔ پیچھے چھلانگ لگا دی۔ کئی گھنٹے تک کسی کو کچھ پتا نہیں چلا۔ پھر جی، پتا چلا تو بلدیہ والوں کو بلایا۔ کوئی تین چار گھنٹوں میں ان کے بندے پہنچے تو پھر اسے نکالا جی۔ بس ایسے ہی لکھی تھی اس کی جی۔ اللہ کی مرضی میں کس کو دخل۔ جس کا جس وقت بھی وقت پورا ہو جائے۔ ویسے بھی جی، ماں ہی بچوں کا خیال رکھتی ہے۔ وہی نہ رہے تو پھر جی کون خیال رکھتا ہے۔ بس جی، جیسے سوہنے رب کی مرضی۔ ‘
’کیا کہا، اس کی ماں ہی نپ رہی؟‘
’ہاں جی۔ وہ جی میٹر سے گیس لیک کر رہی تھی نا۔ گیس والوں کو بڑی شکائیتیں لکھائیں۔ پر جی، اس کی ایسے ہی لکھی تھی۔ اچھی بھلی باورچی خانے میں گئی۔ چولہا جلانے کو ماچس جلائی۔ اور جی، پورا گھر بھک سے اڑ گیا۔ راکھ بن گیا جی۔ وہ تو جی آپ کی والدہ پوتے کو لے کر باہر گئی ہوئی تھی، اس لیے بچ گئی۔ باقی سب کی ایسے ہی لکھی تھی جی۔ بس جی، اللہ کی مرضی میں کسے دخل۔ ‘

پتہ نہیں کہ یہ کہانی لطیفہ ہے کہ المیہ۔ تو جناب، ہم اپنے ارد گرد ہونے والی اپنی بڑی سے بڑی غفلت ، لا پرواہی اور نااہلی کو اللہ کی مرضی کا نام دے دیتے ہیں۔ اگر کوئی بچہ لائسنس کے بغیر گاڑی چلا رہا ہو تو نہ اسے گاڑی دینے والے والدین کی کوئی ذمہ داری ہوتی ہے اور نہ ہی اسے پکڑنے والے ادارے کی۔ اگر کوئی نقصان ہو جائے تو اسے اللہ کی مرضی کا نام دے دیتے ہیں اور سب کی ذمہ داری ختم ہو جاتی ہے۔ کیا ہوا اگر گاڑی کے بریک نہیں ہوتے اور اس کو فٹنس ملی ہوتی ہے۔ بس جی اللہ کی مرضی یہی تھی۔

عطائیوں، سنیاسیوں اور جعلی حکیموں کو پکڑنے والا بھی کوئی نہیں، کہ ان کو چیک کرنے کے ذمہ دار خوابِ خرگوش کے مزے لوٹ رہے ہیں اور اللہ کی مرضی پر قانع ہیں۔ جعلی دوائیوں کے کاروبار کا بھی یہی حال ہے۔ کہ مارکیٹ میں اصلی دوا خال خال ہی نظر آئے گی،زیادہ جعلی ہو گی۔ اصلی مشروب کی بوتلیں کم اور جعلی کی زیادہ ہوں گی۔ مگر جی، یہ متعلقہ محکموں کی غفلت کے باعث ہرگز نہیں، بس جی، اللہ کی مرضی یہی ہے۔

یہی حال بلدیہ کا ہے۔ سڑکیں بنتی ہیں اور ان پر لائنیں یا اشارے نہیں لگائے جاتے۔ بلکہ کئی بار تو سڑک صرف کاغذوں میں بنتی ہے۔ ایسا ہی حال گٹروں کا ہے۔ پائپ بچھانے کے بعد سڑک کی مرمت تو دور کی بات ہے، کئی بار تو یہ لوگ گٹر پر ڈھکن رکھنے کا تکلف بھی نہیں کرتے۔ ویسے بھی یہ ناشکری قوم ہر دوسرے روز آکر شکایت کرے گی کہ گٹر بند ہے۔ پھر بھی تو ڈھکن اٹھانا پڑے گا ناں، تو پھر اس کو رکھنے کا کیا فائدہ۔ کوئی اس میں گر گیا تو جی اللہ کی مرضی ۔ ہر بندے کی ایسے ہی آتی ہے جیسے اس کی لکھی ہوتی ہے۔ بندوں اور سرکاری محکموں کا اس میں کیا دخل۔

ایسا ہی حال گیس اور بجلی کے محکموں کا ہوتا ہے۔ ایسے واقعات پڑھنے میں آتے رہتے ہیں کہ کرنٹ یا گیس لیک ہونے کی بار بار شکایت کا کوئی اثر نہیں ہوتا اور کسی بدنصیب کی ایسے ہی لکھی ہوتی ہے۔ ان محکموں کے خلاف کبھی فرائض میں غفلت برتنے پر کوئی کاروائی نہیں ہوتی۔ بہت احتجاج ہو تو ایک کمیٹی بنا کر انکوائری کرا دی جاتی ہے جو متعلقہ افسران کو باعزت بری کر کے اسے اللہ کی مرضی قرار دے دیتی ہے۔ ہم کوئی کرسٹان یا بے دین کمیونسٹ مغربی ملک توہیں نہیں کہ ایسی چھوٹی موٹی باتوں پر اپنے ہی محکموں اور افسروں کے خلاف کاروائی کریں۔ ان مغربیوں کو اللہ کے دین کا کیا پتا۔ کیا ہوا اگر وہاں سب اپنے فرائض ادا کرتے ہیں اور حلال سے کمائی ہوئی روٹی کھاتے ہیں۔ لاپرواہی پر ذمہ دار ٹھہرائے جاتے ہیں۔ بازار ملاوٹ اور جعلی اشیا سے پاک ہیں۔ عطائی ڈاکٹر نہیں پائے جاتے۔ عدالتیں فرائض سے غفلت برتنے پر مزا چکھا دیتی ہیں۔ انہیں بھلا صراطِ مستقیم کا کیا پتا۔

ویسے اللہ کا ایک بندہ عمرؓ بھی تھا۔ خوش قسمت اتنا کہ غالباً واحد صحابی تھا کہ جس کے قبولِ اسلام کی دعا رسولؐ پاک نے کی تھی۔ شجاع اتنا کہ اس کے کلمہ پڑھتے ہی مسلمانوں کو پہلی بار خانہ کعبہ میں کھلم کھلا نماز باجماعت کی سعادت حاصل ہوئی اور اس کی تلوار کے سامنے کسی کو آکر انہیں روکنے کی جرأت نہ ہوئی۔ نبیؐ کے دربار میں صائب الرائے مانا جاتا تھا۔ مرتبہ اتنا بلند کہ بڑے بڑے صحابہ کرام کی موجودگی میں بارِ خلافت اس کے شانوں پر رکھا گیا۔ حکمران ایسا کہ اس کے دور میں بے سر و سامان اور قلیل تعداد والے مسلم بدو قبائل قیصروکسریٰ کو شکست دے کر سپر پاور بنے۔ وہ شخص اللہ کی مرضی کو ہم سب سے بہت بہتر جانتا تھا۔ مگر فرائض میں غفلت برتنا تو چھوڑیے، محض اس بات پر اپنے گورنر کو برطرف کر دیتا تھا کہ اس کے در وازے پر دربان کھڑا ہونے لگ گیا ہے جو لوگوں کو اس سے ملنے سے روکتا ہے۔ اور یہ جاننے کے باوجود کہ موت کا ایک وقت معین ہے جو اللہ کی مرضی سے آتا ہے، اس بات پر لرزاں رہتا تھا کہ کہیں اس کے عہد میں مدینے سے سینکڑوں میل دور فرات کے کنارے کوئی کتا بھی بھوک سے مر نہ جائے کہ پرسش عمرؓ سے ہی ہوگی۔


Comments

FB Login Required - comments

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 325 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

2 thoughts on “بس جی، اللہ کی مرضی یہی تھی

  • 14-03-2016 at 8:19 pm
    Permalink

    کاکڑ صاحب: ہمیں سونےاور خوش رہنے دیجئے۔
    کیوں بار بار آئینہ دکھاتے ہیں۔

  • 10-05-2016 at 9:32 am
    Permalink

    When Soviet Army was leaving Afghanistan after a pact, General Zia-ul-Haq made a statement:
    “Roos Allah ki Marzi se Afghanistan me Aaya tha, Aur Ab Alllah ki Marzi se Afghanistan se Ja Raha Hai”
    This statement was published in Urdu newspapers of that time.

Comments are closed.