مسئلہ کشمیر، اچکزئی اورغداری کی بحث


کشمیر پر موقف جامد ہیں اور دلیلیں ازکار رفتہ۔ کشمیر کے ضمن میں پاکستان حق خودارادیت کی بات کرتا رہا ہے۔ یعنی جو کشمیری چاہیں گے وہی ہوگا۔ جبکہ بھارت اٹوٹ انگ کا راگ الاپتا رہا۔ البتہ نہرو نے ایک بیان میں کشمیریوں کی خواہشات کو اساسی عنصر قراردیا تھا۔ کشمیریوں کا مقدمہ اپنی بنیاد میں کمزور نہیں تھا۔ وہ قومی آزاد ی کی بات کرتے تھے۔ تقسیم بہرحال اُن میں بھی موجود رہی ہے۔ وہاں دو بڑے طبقات نمایاں رہے ہیں۔ ایک وہ جو کشمیر کے تما م حصوں کی آزاد ی اور وحدت کے قائل ہیں۔ یعنی وہ کسی بھی پڑوسی ملک سے الحاق نہیں چاہتے۔ دوسرے وہ جو کشمیر کے پاکستان کے ساتھ الحاق کے علم بردار ہیں۔ لیکن اس تقسیم کے باوجود ایک قدر مشترک رہی اوروہ ہے آزاد ی۔ گویا کشمیری پہلے آزاد ی چاہتے ہیں اور پھر کوئی اور (الحاق یا خودمختاری کا) فیصلہ کریں گے۔

پاکستان نے ابتدا ہی سے کشمیر کے مقدمے کے وکیل کا منصب لیا۔ 1947ء میں تقسیم ہند کے بعد پاکستان کی جانب سے ریاست کے زیرانتظام لیے گئے ایک حصے کو آزاد کشمیر کا نام دیا گیا۔ اس کی الگ اسمبلی بنائی گئی۔ صدر، وزیراعظم، اعلیٰ عدلیہ کا نظم قائم ہوا۔ کہا گیا کہ کشمیر کا یہ حصہ آزاد ہے اور باقی ماندہ کشمیر کی آزادی کے لیے اسے بیس کیمپ بنایا جائے گا۔ یہ باتیں نظری طور پر درست تھیں مگر عملی اقدامات کا معاملہ کمزور رہا۔ آزاد کشمیر میں قائم حکومت اہم اختیارات کے باب میں اپاہج رکھی گئی۔ وہ اسلام آباد میں قائم وزارت امور کشمیر کی دست نگر رہی۔ ریاست کی سیاست میں غیر ضروری مداخلت کا سلسلہ جاری رہا۔ گاہے نوبت یہاں تک بھی پہنچی کہ آزاد کشمیر کے منتخب نمائندوں کو اپنے ایوان کا قائد منتخب کرنے سے پہلے ’انٹرویوز‘ کے لیے پیش ہو کر اپنی وفاداری کا یقین دلانا پڑا۔ ناقص حکمت عملی کی دوسری شکل پاکستان کی سیاسی پارٹیوں کی ریاست میں شاخیں قائم کرنے کی صورت میں سامنے آئی۔ بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں دیر سے سہی مگر ایسا ہی ہوا۔ اس طرح ریاست کی مقامی سیاسی پارٹیوں کا کردار متاثر ہوا اور اقتدار کے لیے سیاسی نمائندے اسلام آباد کی جانب دیکھنے پر مجبور ہوئے۔ اس حکمت عملی کی وجہ سے کشمیر کا تشخص ناصرف مجروح ہوا بلکہ دونوں متحارب ممالک کو ایک دوسرے کے خلاف پروپیگنڈے کا بھرپور موقع بھی ملا۔ بھارت نے آزاد کشمیر کو آزاد کی بجائے پاکستانی مقبوضہ کشمیر قرار دیا جیسا کہ دوسرے حصے کو پاکستان میں بھارتی مقبوضہ کشمیر کہا جاتا ہے۔ پروپیگنڈہ اصطلاحات کے اس گھن چکر میں مسئلہ کشمیر کی حقیقی نوعیت دھندلا گئی۔ دونوں جانب سے پروپیگنڈہ مواد یک رخی خبروں، ڈراموں اور فلموں کی صورت میں نشر ہونے سے کنفیوژن بڑھتی رہی۔ یہ دراصل سیاسی حکمت عملی کی ناکامی تھی۔

یکم جنوری 1948ء کو بھارت کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ میں لے گیا تو اسے بین الاقوامی حیثیت مل گئی۔ کچھ ہی عرصے بعد ایک نئی قرارداد پیش کی گئی جس میں کشمیریوں کے ممکنہ الحاق سے متعلق اختیارات محدود کر دیے گئے۔ تاریخ کے ان اہم مراحل میں کشمیری زعما کو نظر انداز کیا گیا۔ پچاس کی دہائی میں پاکستان کی اعلیٰ سطح کی بیوروکریسی اور امور خارجہ کے حلقوں میں یہ تجویز بھی زیر بحث رہی کہ آزاد کشمیر کو ’آزاد‘ تسلیم کر لیا جائے اور دیگر کچھ ممالک سے اس بارے میں مشاورت بھی ہوئی۔ واقفان حال کے بقول کچھ ممالک حکومت آزاد جموں کشمیر کو کشمیریوں کی نمائندہ حکومت تسلیم کرنے کی ہامی بھر چکے تھے لیکن انجانے اندیشوں کی بنیاد پر یہ منصوبہ لپیٹ دیا گیا۔ دوسرے لفظوں میں کشمیریوں کے لیے عالمی فورمز پر اپنی جنگ خود لڑنے کاامکان ختم کر دیاگیا۔

اسی بارے میں: ۔  وسعت اللہ خان صحافت اور کتابوں پر اظہار خیال کرتے ہیں

پاکستان کی جانب سے کشمیر میں کیے گئے خفیہ آپریشن جبرالٹر کے بعد 65ء کی پاک بھارت جنگ ہوئی۔ اس 17 روزہ جنگ سے حاصل کچھ تو نہ ہوا لیکن کشمیر کا مسئلہ مزید الجھ گیا۔ حالات 71ء کی جنگ تک پہنچے۔ پاکستان کو بنگلہ دیش کی علیحدگی کی صورت میں بڑا صدمہ پہنچا۔ 2 جولائی 1972ء کو پاکستان اور بھارت کے مابین طے پانے والے کیے گئے معائدہ شملہ کا روشن پہلو یہ تھا کہ مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر پاکستان کے93 ہزار اسیر فوجی رہا کروا لیے گئے لیکن کشمیر کے مقدمے کو اس معاہدے سے ایک گہرا صدمہ پہنچا۔ پاکستان اور بھارت نے یہ طے کیا کہ کشمیر ہمارا دوطرفہ مسئلہ ہے اور کشمیر کے دونوں حصوں کے درمیان موجود سیزفائرلائن کو لائن آف کنٹرول قرار دے دیا گیا۔ یہاں سے اس مسئلے کی بین الاقوامی حیثیت محض ایک سرحدی تنازعے تک محدود ہو گئی۔ گویا دونوں پڑوسی ممالک نے اقوام متحدہ کا کردار اپنی مرضی سے ختم یا پھر بہت محدود کر دیا۔

بعد کی دہائیوں میں کشمیر کو لے کر پاکستان اور بھارت کے درمیان تناؤ میں اتار چڑھاؤ آتے رہے۔ 80ء کے آخر اور 90ء کی دہائی کے شروع میں بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں مزاحمتی عسکری تحریکوں نے کافی زور پکڑا۔ پاکستان میں بھی غیر سرکاری طور پر ایسی درجنوں تنظیمیں قائم ہوئیں جو کشمیر میں ’جہاد‘ کے نام سے مزاحمت کا حصہ بنیں۔ آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں ان تنظیموں کے دفاتر اور تربیتی مراکزقائم ہوئے۔ اس غیر سرکاری مسلح تحریک نے کشمیر کے مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔ مفادات کے حصول کے لیے جہادی گروہوں میں کشمکش پیدا ہوئی۔ آزاد ی کے نغموں میں مذہبی آہنگ بھی نمایاں ہوا مگر یہ ولولہ 90ء کی دہائی کے آخری برسوں میں کافی سرد پڑ گیا۔ ایک بڑے ڈیڈ لاک کے بعد نواز شریف کے دوسرے دور حکومت میں پاکستان بھارت تعلقات میں بہتری کا امکان پیدا ہوا لیکن وہ کوشش بھی بوجوہ بارآور نہ ہو سکی۔

پھر کارگل کے معرکے کا ’’ہیرو‘‘ جنرل پرویزمشرف اقتدار پر قابض ہوا۔ کچھ عرصے بعد نائن الیون کا واقعہ پیش آگیا، جس نے دنیا کی سیاسی صورت حال کو یکسر بدل کر رکھ دیا۔ پاکستا ن کو اس صورت حال میں اہم کردار ملا۔ جنرل مشرف نے حالات کا دھارا دیکھ کر فیصلے کرنا شروع کیے، جہادی تنظیموں پر پابندیوں کا اعلان کیا توان کا کردار قدرے محدود ہو گیا۔ اسی عہد میں پاکستان بھارت بیک ڈور ڈپلومیسی کا متحرک ترین دور شروع ہوا اور مسئلہ کشمیر کے حوالے سے پہلی بار سنجیدہ پیش رفت ہوئی۔ پاکستان کے سابق وزیرخارجہ خورشید محمود قصوری اس سارے عمل کے گواہ ہیں۔ پاکستا ن اور بھارت کے مذاکرات کار مسئلے کے حل کے لیے کافی سنجیدگی کے ساتھ کوشاں تھے کہ پھر ایسے حالات پیدا کر دیے گئے کہ دونوں ملکوں کے درمیان طویل وقفے کے بعد قائم ہونے والی اعتماد کی فضا بحال نہ رہ سکی اور سب فارمولے تلپٹ ہو گئے۔

جنرل مشرف کے بعد پاکستان میں پیپلز پارٹی اقتدار میں آئی، اس دور میں کشمیر کے معاملے پر کوئی خاص پیش رفت نہیں ہوئی۔ وزارت اُمور کشمیر نے البتہ آزاد کشمیر کے انتظامی نظم میں غیر ضروری مداخلت جاری رکھی۔ اسی دوران مسلم لیگ نواز اور تحریک انصاف نے آزاد کشمیر میں اپنی سیاسی شاخیں بھی قائم کر لیں۔ 2013ء کے انتخابات میں پاکستا ن میں مسلم لیگ نواز کی حکومت قائم ہوئی اور 2016ء میں آزاد کشمیر میں بھی اسی جماعت کے سیاسی ونگ نے بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی۔ اس سے امید بندھی کہ ریاست اور وفاق (اسلام آباد) میں سیاسی ہم آہنگی کی وجہ سے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے سنجیدہ پیش رفت ہوگی مگر تاحال کوئی ایسی ٹھوس دلیل سامنے نہیں آسکی جس کی بنیاد پر کہا جاسکے کہ مسئلہ کشمیر کے بارے میں کوئی فکر مند ہے۔

اسی بارے میں: ۔  بچے کھچے تلور اور امرتسر

گزشتہ برس سے بھارت کے زیرانتظام کشمیرکے کچھ علاقوں میں جاری احتجاجی تحریک نے ایک بار پھر مسئلے کی جانب توجہ مبذول کروائی لیکن اس صورت حال سے فائدہ نہیں اٹھایا گیا۔ بات تاحال پروپیگنڈے تک ہی محددو ہے۔ دوسری جانب بھارت میں ایک نئی مگر منفی پیش رفت یہ ہوئی کہ وہاں کی سپریم کورٹ نے کشمیر کو خصوصی حیثیت دینے والے بھارتی آئین کے آرٹیکل 370، آرٹیکل35-A  اور ریاست کے آئین کے آرٹیکل 6 کے خاتمے کے لیے دائر درخواست سماعت کے لیے منظور کر لی ہے۔ اس سے قبل بھارتی عدالتیں آئین کے مذکورہ آرٹیکلز سے چھیڑ چھاڑ سے متعلق درخواستوں کو قانونی وجوہات کی بنا پر مسترد کرتی رہی ہیں۔

سپریم کورٹ آف انڈیا کے اس اقدام نے کشمیریوں کو ایک بار پھر اپنی شناخت کے بارے میں فکر مند کردیا ہے۔ بھارت کے زیرانتظام کشمیر کی وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے سپریم کورٹ کے اس اقدام پر ردعمل کا اظہار کیا لیکن آزاد کشمیر سے کوئی مؤثر اور باقاعدہ پیغام سامنے نہیں آیا۔ صدر آزاد کشمیر مسعود خان کا ایک بیان البتہ اخبارات کی زینت بنا۔ اس دوران خیال تھا کہ کشمیر کے مقدمے کا وکیل پاکستان اس حوالے سے کوئی ٹھوس موقف اپنائے گا لیکن یہاں کے دفتر خارجہ نے بھی اپنی معمول کی ہفتہ وار بریفنگ میں روایتی سا بیان جاری کرنے پر اکتفا کیا۔ کسی اور سیاست دان یا اہم عہدے دا ر کا ابھی تک کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔ تین دن قبل پاکستان کی قومی اسمبلی کے رکن محمود خان اچکزئی نے ایک انٹرویو میں کشمیر کی آزادی کے لیے پاکستان کو قدم بڑھانے کا مشورہ دیتے ہوئے پاکستان اور بھارت کے خوشگوار تعلقات کی ضرورت پر زور دیا۔ محمود اچکزئی نے کوئی نئی بات نہیں کی بلکہ ایسی صورت حال میں جب بھارت کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرکے اسے ملک میں ضم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے، اچکزئی کا کشمیریوں کی آزادی کی بات کرنا اہم ہے۔ اس بیان کے ردعمل میں مقامی سطح پر بعض حلقوں نے اچکزئی پر کڑی تنقید کی اورانہیں غدار تک قرار دے دیا۔

محمود اچکزئی کے خلاف اٹھائے گئے طوفان کے پس منظر کا جائزہ لینے پر اندازہ ہوتا ہے کہ بہت سے لوگ ابھی تک ریاست جموں کشمیر کی تاریخی و سیاسی صورت حال سے واقف نہیں ہیں۔ وہ درسی کتابوں اور اردو اخبارات میں شائع شدہ معلومات کی بنیاد پر موقف استوار کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے ہاں ’حق خود ارادیت‘ اور ’الحاق‘ مترادف اصطلاحیں بن چکی ہیں۔ جوکہ ظاہر ہے،درست نہیں۔ مناسب بات یہ ہے کہ ہمیں کشمیر کے مسئلے کو سمجھ کر اور اس سے جڑے ماضی کے اقدامات کا تنقیدی جائزہ لے کر نئی سرے سے پالیسی ترتیب دینی چاہیے۔ یہ بات بھی پیش نظر رہنی چاہیے کہ کشمیر کے مسئلے میں وہاں کے باشندے بنیادی فریق ہیں۔ قرین عقل وانصاف بھی یہی ہے کہ ان کی رائے کو فیصلہ کن تسلیم کیا جائے۔ محض خواہشات کی بنیاد پر ریاست کے مستقبل کا فیصلہ ممکن نہیں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔