شاہد محمود ندیم…. ضمیر کا ناقابل اصلاح قیدی(1)


سلمان رشدی نے اپنے اولین ناول میں تقسیم ہند کے ارد گرد دونوں ملکوں میں پیدا ہونے والی نسل کو ”نیم شب کے بچوں“ کا نام دیا تھا۔ ناول میں نو آبادیاتی غلامی سے نجات کو ایک نئی دنیا کی پیدائش کی امید سے تعبیر کیا گیا تھا۔ میرے ملک میں رہنے والوں کو سرحد کے پرلی طرف ان امیدوں کی تعبیر کے بارے میں زیادہ علم نہیں ہے اور نہ اس بارے میں جاننے کی خواہش کو مستحسن گردانا جاتا ہے۔ میں سرحد کی اس سمت کا حال البتہ کسی حد تک جانتا ہوں جو میرے حصے میں آئی تھی۔ یہاں کا مختصر احوال یہ ہے کہ 70 برس کی اس کتھا کو تین نسلوں کے زیاں کی کہانی کہنا چاہیے۔ یہاں زیادہ ایسے تھے جنہوں نے سرکاری اور نصابی بیانیے کو سینے سے لگایا۔ رات کو دن اور ظلمت کو ضیاقرار دیا اور رفعتیں پائیں۔ یہ وہ رفعتیں تھیں جو جاہ و حشم کے بلند ہوتے زینوں کا التباس دیتی ہیں لیکن انفرادی امکان کے انہدام اور اجتماعی انحطاط کے تاریک کنویں میں اتر جاتی ہیں۔ تھوڑے بلکہ بہت تھوڑے ایسے تھے جنہوں نے آزادی اور انسانی وقار کے خواب کو زندہ رکھا۔ دردمندی کی لو کو اپنی ہتھیلیوں کے حصار میں رکھا۔ سلاسل کا گیت بنتے رہے۔ قید خانوں کی اس نفیس ’بوئے نفس‘ میں اپنا دیانت دار پسینہ اور لہو شامل کرتے رہے جس کے بارے میں گیانیوں نے کہا ہے کہ یہ وہ خوشبو ہے کہ آمروں کے ہاتھ پر بیعت کرنے والے اسے ستر ہزار میل کے فاصلے سے بھی سونگھ نہیں پائیں گے۔ وطن کی گلیاں اجالنے کا فیصلہ اپنے ضمیر کی تنہائی میں کیا جاتا ہے۔ یہ فیصلہ کرنے والے پاکستان کے خوددار بیٹوں اور باوقار بیٹیوں نے اپنے گریبان کو لشکر کا علم بنایا اور دیس کے گلی کوچوں میں اپنے خواب بیچنے نکلے۔

یہ لکھ لٹ تعداد میں بہت کم تھے لیکن انہوں نے پاکستان اور پاکستان میں بسنے والے افتادگان خاک کا پرچم سرنگوں نہیں ہونے دیا۔ مجھے یقین ہے کہ پاکستان میں رہنے والے ایک روز جھوٹ، استحصال، امتیاز اور منافقت کی سرنگ کے اس پار روشنیوں کے شہر میں ضرور پہنچیں گے۔ جب ایسا ہو گا تو اس لاحاصل سفر کی تاریخ بھی لکھی جائے گی۔ اس تاریخ میں 25دسمبر 1947ءکو کشمیر کے قصبے سوپور میں پیدا ہونے والے شاہد محمود ندیم کانام ان قابل احترام پاکستانیوں کی فہرست میں شامل ہو گا جنہوں نے جناح کے خواب کو لیاقت علی خان کے غیر جمہوری مقاصد کی دہلیز پر بھینٹ نہیں کیا۔ جنہوں نے ایوب خان کی بنیادی جمہوریتوں کی فصیل بے اماں کے سامنے مادر ملت کے ساتھ کھڑے ہو کر بنیادی آزادیوں کی پکار بلند کی۔ جنہوں نے سنہرے بنگال کی گیت بنتی ندیوں کو یحییٰ خانی محبت کے زم زم پر ترجیح دی۔ جنہوں نے 1973 ءکے آئین کو ظفر احمد انصاری رپورٹ کے ہاتھوں یرغمال نہیں ہونے دیا۔ جنہوں نے کشمیر سے سچی محبت کی اور اسے انگار وادی بنانے والوں کے قصیدے نہیں لکھے۔ جنہوں نے سیاسی عمل کو طالع آزماﺅں کے ہاتھ رہن نہیں رکھا۔ جنہوں نے دہشت گردی کے خلاف جہاد کیا۔

اسی بارے میں: ۔  سوچ کا اجتماعی بحران

شاہد محمود ندیم کی دیالو شخصیت ہفت پہلوہے۔ جمہوریت کے لیے جدوجہد ہو یا ثقافت کی سیتا کو خوش نا اندیش ملائیت کے راون سے چھڑانا ہو ،انسانی حقوق کے لیے آواز بلند کرنا ہو یا شہری آزادیوں کا مقدمہ لڑنا ہو ، آئین کی سمت بڑھتے خون آشام بھیڑیوں کی راہ میں سپر ہونا ہو یا تمثیل کی روشنیوں کو زندہ رکھنا ہو، ادب کے انحطاط پر تشویش ہو یا تمدنی مکالمے کی آبیاری کرنا ہو ، شاہد محمود ندیم نے جنوں کے کسی فرمان کو واپس نہیں پھیرا۔ شاہد محمود ندیم ایک گنگناتا ساز ہے ، جس کے ہر تار سے ایک ہی راگ برآمد ہوتا ہے، انسان سے محبت اور وطن سے وابستگی کا سدا بہار راگ، جس کی تاثیر کو سنسر کی پنسل اور محتسب کی بندوق سے ختم نہیں کیا جا سکتا۔

1966 ءکا موسم گرما پاکستان کی نوجوان نسل کے لیے امید کا موسم بن کر نمودار ہوا تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو نے ایوب خان کی کابینہ سے استعفیٰ دے دیا تھا اور مسلم لیگی یبوست اور ایوب خانی جبروت سے تنگ آئے ہوئے اہل پاکستان کے لیے جمہوریت کا پیغام لے کر ملکی افق پر ابھرے تھے۔ اٹھارہ سالہ شاہد محمود ندیم نے ’ریگستان کا پھول ‘کے نام سے اپنا پہلا مضمون شیر محمد کی ادارت میں شائع ہونے والے مجلے قندیل میں لکھا تھا۔ ریگستان کا یہ پھول ذوالفقار علی بھٹو تھے۔ شاہد محمود ندیم نے خود لکھا ہے، ’میرا تعلق اس نسل سے ہے جس نے سیاسی اور سماجی شعور اس وقت حاصل کیا جب جناب ذوالفقار علی بھٹو سیاست کے آسمان پر نمودار ہوئے۔ ‘

ایوب خان کے دس سالہ دور آمریت کے خلاف تحریک شروع ہوئی تو نازو نعم میں پلا گورنمنٹ کالج کا طالب علم شاہد محمود ندیم جنرل موسیٰ خا ن کی وحشی صفت پنجاب پولیس کا مقابلہ کرنے سڑکوں پر نکل آیا۔ فروری 1969 ءکی کچھ سرد راتیں شاہد محمود نے تھانہ سول لائنز کی سرد بارکوں میں ٹھٹھرتے ہوئے گزاریں۔ آغا یحییٰ خان نامی ’سادہ سپاہی‘ اسلام آباد میں وارد ہوا تو اس کے جلو میں نواب زادہ شیر علی خان تھا جس نے مذہبی سیاست کی لالٹین اٹھا رکھی تھی۔ اس عہد میں بائیس سالہ شاہد محمود ندیم کو جمہوریت مانگنے کے جرم میں فوجی عدالت میں پیش ہونا پڑا۔

بھٹو حکومت کے ابتدائی ماہ و سال رنگوں اور پھولوں کے بہت سے امکانات لے کر سامنے آئے تھے۔ شاہد محمود ندیم نے ٹیلی ویژن اور ڈرامے کی کیاری سنبھال لی۔ ٹیلی ویژن ٹریڈیونین میں سرگرم ہوئے۔ یہ وہ لاہور تھا جہاں امانت علی خان کا نغمہ گونجتا تھا۔ جہاں شاکر علی کی نئی تخلیق ایک خبر کا درجہ رکھتی تھی۔ اس لاہور میں فہیم جوزی، امین مغل، مسعود منور ، زبیر رانا اور یوسف کامران کے جوان جذبوں پر صوفی غلام مصطفی تبسم کا دست شفقت سایہ فگن تھا۔ موسم بدلا مگر آنے والی رت نہیں گدرائی، یہ خزاں تو گداز دلوں کے لیے نئے امتحانوں کی خبر لائی تھی۔ ضیاالحق کی طویل رات وطن کے دروازوں پر دستک دے رہی تھی۔ اس عشرہ ¿زیاں کے اتار چڑھاﺅ پرآنکھ رکھنے والوں کو یاد ہے کہ آمریت کے خلاف جمہور کی پہلی طاقتور آواز پاکستان ٹیلی ویژن سے اٹھی تھی۔ 16فروری 1978 ءکو ہڑتال شروع ہوئی۔ 19 فروری کو سلطان بے صفا کی اجازت کے بغیر کلمہ حق کہنے کے مجرم فوجی عدالت میں پیش ہوئے۔ سماعت سرسری تھی اور سزائیں عبرتناک۔ شاہد محمود ندیم کو پندرہ کوڑوں اور ایک سال قید بامشقت کا اعزاز ملا۔ ایک مذہبی تہوار کے موقع پر ملنے والی نمائشی رعایتوں کی بدولت اس کی پشت کوڑوں کے نشان سے محفوظ رہی لیکن جمہوریت کی پری کے عشاق تو سوز نہاں کے انگاروں پر لوٹتے ہیں۔ دیدار محمل کا آہو صفت جذبہ ان کے سینوں پر جذب کے درّے لگاتا ہے۔ انہی درّوں کی دھمک سنتا اور سہتا شاہد محمود میانوالی جیل جا پہنچا لیکن اس سے پہلے کوٹ لکھپت جیل میں وہ ذوالفقار علی بھٹو سے اپنی محبت کا ایک علامتی اظہار کرنا نہیں بھولا۔ بھٹو صاحب ایام اسیری میں اپنے مشقتی کے ساتھ بیڈ منٹن کھیلا کرتے تھے۔ اپنے محبوب رہنما کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے شاہد محمود بارک کی آٹھ فٹ بلند دیوار پر جا چڑھا۔ ایسا نہیں کہ اسے اس مہم جوئی کا انجام معلوم نہیں تھامگر دیکھئے وہ اس وارفتگی کو کن لفظوں میں بیان کرتا ہے۔

اسی بارے میں: ۔  گریٹ گیم میں گوادر کی اہمیت

”دیوار کے دوسری طرف اے کلاس کوٹھری کے صحن میں وہ بیڈ منٹن کھیل رہا تھا۔ سفید شلوار قمیض اور سفید فلیٹ شوز سے میچ کرتے ہوئے لہراتے ہوئے لمبے سفید بال، وہ بڑے انہماک اور جوش کے ساتھ سفید شٹل کاک پر نشانے لگا رہا تھا۔ ہمیں یوں لگا جیسے ہم جیل کی مٹیالی اینٹوں والی دیوار پار کرکے کسی اور دنیا میں پہنچ گئے ہوں۔ یہ خوبصورت ‘ خوش لباس اور پروقار کھلاڑی ‘ جس نے اپنی ذہانت‘ اپنے علم ‘ اپنی فراست اور اپنی کرشماتی شخصیت کے زور پر عالمی اور قومی سیاست کے کورٹس پر شاطر اور منجھے ہوئے کھلاڑیوں کو پے درپے مات دی تھی۔ قید و بند‘ کردار کشی ‘ سازشوں‘ ججوں اور جرنیلوں کی توہین کے نشتر اس کے جوش ‘ اس کی سپرٹ کو کمزور کرنے میں ناکام رہے تھے۔ اس کی ایک ایک حرکت میں ردھم تھا‘ جذبہ تھا‘ حسن تھا۔ وہ بیڈ منٹن نہیں کھیل رہا تھا‘ شاعری کر رہا تھا‘ خواب دیکھ اور دکھا رہا تھا‘ خطاب کررہا تھا۔ ہم مبہوت کھڑے اس منظر کو آنکھوں میں بھر رہے تھے‘ اس ہوا کو محسوس کررہے تھے‘ جو اس کے بالوں کو چھوکے گزر رہی تھی۔ اچانک اس کی نظر ہم پر پڑی۔ ایک لمحے کے لیے وہ ٹھٹک گیا۔ اس کا ریکٹ ہوا میں معلق رہ گیا۔ پھر اس کے چہرے پر وہی دلآویز مسکراہٹ نمودار ہوئی جس نے لاکھوں غریبوں‘ مظلوموں اور دھتکارے ہوﺅں کو دیوانہ بنا رکھا تھا۔ “

 (جاری ہے)


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔