اپنا اپنا چورن …. درود سے بارود تک


razi uddin raziضروری تو نہیں کہ ہمیں آپ کی ہر بات سے اتفاق ہو اور یہ بھی ضروری نہیں کہ آپ ہماری ہر بات سے متفق ہوں ۔ لیکن بعض موضوعات ایسے بھی ہوتے ہیں جن پر تحمل کے ساتھ اور سنجیدگی کے ساتھ غور کرنا ضروری ہوتا ۔ ہم اور آپ اپنی اپنی فہم کے مطابق کوئی نتیجہ اخذ کرتے ہیں اور نتیجہ اگر غلط بھی ہو تو اپنے عقائد اور تعصبات کی بنیاد پر اسے درست سمجھتے ہیں ۔ اس دوران اگر کوئی ہمارے اخذ کردہ نتیجے کے بر عکس بات کرے اور ہمارے پاس جواب میں کوئی دلیل بھی نہ ہو تو ہم کج بحثی کا راستہ اختیار کرلیتے ہیں ۔ اس معاشرے میں جو بہت سے مسائل عفریت کی صورت اختیار کر گئے ہیں اس کی بنیادی وجہ ہمارا یہی رویہ ہے اور اس روئیے کو چورن بیچنے والوں نے فروغ دیا ۔ جی ہاں نظریات کا چُورن فروخت کرنے والوں نے اپنی اپنی دکان چلانے کے لئے معاشرے میں عدم برداشت کا ماحول پیدا کیا ۔ یہ چورن مُلا نے بھی فروخت کیا اور ترقی پسندوں نے بھی ۔مُلا نے یہ چورن ان پڑھ دیہاتیوں میں بیچا اورجہاد کی تلقین اور قتل کے فتوے جاری کر کے معصوم لوگوں کی جان لے لی ۔ دوسری جانب ترقی پسندوں کا چورن خریدنے والوں میں پڑھے لکھے شہری بابو شامل تھے جو اچھے دنوں کے خوابوں کی خواہش میں بے خواب ہو گئے ۔ ایک چورن حکمرانوں کے پاس بھی ہے اور حزب اختلاف کے پاس بھی ۔ چورن کی ایک پڑیا غیر سرکاری تنظیموں کو تھما کر انہیں موم بتیاں جلانے پر مامور کر دیا گیا ۔ کچھ لسانی تنظیموں نے زبان سے محبت کو چورن بنا کر آوازیں لگائیں تو ان کے گرد بھی ایسے بہت سے لوگ جمع ہو گئے جو صرف اپنی زبان کو ہی زبان سمجھتے اوردیگر زبانیں بولنے والوں کو اشاروں کی زبان اپنانے پر مجبور کرتے ہیں ۔ اور ذرا اس جانب تو دیکھئے یہ ثقافتی چورن بیچنے والوں کی دکان ہے ۔ اس دکان کو بھی دھرتی سے محبت کا تڑکا لگا کر چلایا جا رہا ہے۔ پھر اچانک مغرب کی کسی این جی او کو خیال آیا کہ دہشت گردی چونکہ مذہبی انتہا پسندی کے نتیجے میں جنم لے رہی ہے اس لئے اسے کم کرنے کے لئے صوفیا کی تعلیمات کو فروغ دیا جائے کہ اس طرح مذہب کے ساتھ وابستگی برقرار رکھتے ہوئے امن اور رواداری کی بات کی جا سکتی ہے ۔ لیجئے صاحب اس کے لئے فوری طور پر فنڈز بھی فراہم کر دئے گئے اور تصوف کا چورن فروخت کرنے والے اپنے اپنے صوفی لے کر میدان میں آ گئے ۔ پھر برداشت اور رواداری کا ایسا ماحول پیدا ہوا کہ درود والے بھی بارود کی زبان بولنے لگے ۔ بات کہاں سے کہاں پہنچ گئی ۔ کہنا تو صرف یہ ہے کہ چورن بیچنے والوں سے چورن ضرور لیجئے لیکن یہ بھی دیکھ لیجئے کہ دکاندار یہ چورن خود بھی استعمال کر رہا ہے یا نہیں۔ جہاد اور تکفیر کا چورن بیچنے والوں سے دریافت کیجئے کہ کیا انہوں نے اپنے بچوں کو بھی کافر مارنے کے لئے جہاد پر بھیجا ؟ ترقی پسندوں، حق گوئی اور مزاحمت کا درس دینے والوں سے سوال کیجئے کہ وہ خود کتنی بار حق گوئی کی پاداش میں پابندِ سلاسل ہوئے ؟زبان کا چورن بیچ کر ماں بولی سے وابستگی کا درس دینے والوں سے معلوم کیجئے کہ ان کے اپنے بچے انگریزی میڈیم سکولوں میں کیوں پڑھتے ہیں؟ ایسے ہی سوالات دیگر چورن فروشوں سے بھی دریافت کیے جا سکتے ہیں ۔ آپ پر سب کی حقیقت واضح ہو جائے گی ۔ پھر اپنی فہم کے مطابق کھلے ذہن کے ساتھ آپ جو بھی فیصلہ کریں گے ہم آپ کے ساتھ ہوں گے ۔


Comments

FB Login Required - comments