شہید ذوالفقار علی بھٹو کو کھلا خط


عزت مآب، میں پاکستان کا ایک عام شہری اور آپ کی پارٹی کا ایک معمولی سا کارکن ہوں، جس کی بنیاد آپ نے 50 سال پہلے رکھی تھی۔ میں اس بات کو سمجھ سکتا ہوں کہ آپ کے عدالتی قتل کے بعد آپ جسمانی طور پر یہ دیکھنے کے لیے زندہ نہ رہے، کہ آپ کی پارٹی کی آپ کے اس دنیا سے چلے جانے کے بعد کیا صورتحال ہے۔

50 سال ایک بہت لمبا عرصہ ہے، آج کی نوجوان نسل ان لوگوں کی تیسری نسل ہے جو آپ کے جلسوں میں شریک ہوتے تھے، اور جنہوں نے پاکستان میں جمہوریت کو قائم کرنے کے لئے اہم کردار ادا کیا تھا۔ تب سے لے کر اب تک بہت کچھ تبدیل ہو چکا ہے، اور میرے پاس آپ سے کہنے کے لئے بہت کچھ ہے، پر میں آپ سے صرف ایک سوال پوچھنا چاہتا ہوں۔ آپ کس طرح کا جمہوری نظام چاہتے تھے؟

یہ سوال مجھے بہت الجھن میں رکھے ہوئے ہے، اور مجھے یقین ہے کہ میرے ساتھ ساتھ اور بھی بہت سے سیاسی کارکنان اس الجھن کا شکار ہوں گے۔ سر، مجھے سمجھانے کا موقع دیجئے۔

میں پیپلزپارٹی کے سینئر ترین کارکن عبداللہ سولنگی کا فرزند ہوں جنہوں نے ضیاء کا مشکل دور بھی دیکھا اور مشرف کے آمرانہ دور میں جمہوریت کی بحالی کے لئے آپ کی پنکی (شہید بینظیر بھٹو) کے ساتھ جدوجہد بھی کی۔ میرے والد کی طرح اور بھی بہت سے کارکن تھے جو جمہوریت کی بحالی کے لئے سڑکوں پر ڈنڈے کھاتے تھے۔ میں نے اپنے والد سے یہی سیکھا تھا کہ پیپلزپارٹی وہ پارٹی ہے جو مزدوروں، کسانوں، محنت کشوں اور عوام کی جماعت ہے اور یہاں کارکن کی اتنی عزت ہے کہ وہ پارٹی چیئرمین کے سامنے بھی حق اور سچ کی آواز اٹھا سکتا ہے۔

مجھے یاد ہے میں بہت چھوٹا تھا جب میرے والد نے مجھے کہا کہ چلو تمہیں تمہاری پھپھی سے ملواتا ہوں۔ میں بےحد حیران ہوا کیونکہ میرے والد صاحب کا ایک ہی بھائی تھا اور کوئی بہن نہیں تھی لیکن میں چھوٹا تھا تو کوئی سوال و جواب کیے بغیر اپنے والد صاحب کے ساتھ ان کی موٹرسائیکل پر بیٹھ گیا۔ وہ سیدھا پیپلز سیکریٹیریٹ پہنچے۔ ہم وہاں پہنچے تو کارکنوں کا رش لگا ہوا تھا۔ کچھ دیر میں محترمہ بینظیر بھٹو وہاں پہنچ چکی تھی اور کارکنوں سے مل رہی تھی۔ اس وقت میری خوشی کا کوئی ٹھکانہ نا تھا جب میرے والد نے محترمہ بینظیر بھٹو کو بتایا کہ یہ (عمیر سولنگی) میرا بڑا بیٹا ہے تو محترمہ نے مسکراتے ہوئے میرے سر پر ہاتھ رکھا۔

میرے والد نے کہا بیٹا بھٹوازم ایک جنون نہیں بلکہ یہ رشتہ نسلوں کا رشتہ ہے، میں نے بی بی کے ساتھ وفاداری نبھائی ہے آپ وقت آنے پر بی بی کے بچوں کے ساتھ وفاداری نبھانا۔ بھٹو صاحب، آپ کے فرزند شاہنواز بھٹو نے آپ کو بتایا ہی ہوگا کہ آپ کے عدالتی قتل کے بعد پیپلزپارٹی کے کارکنوں اور جمہوریت پسند عوام کو کتنی مشکلیں برداشت کرنا پڑیں اور کس طرح ایک سازش کے تحت انہیں شہید کردیا گیا۔ مجھے یقین ہے آپ کے بیٹے میر مرتضی بھٹو نے بھی آپ کو آگاہ کیا ہوگا کہ کس طرح ان کا قتل ہوا اور کس طرح ان کو بے دردی سے شہید کردیا گیا۔

محترمہ بینظیر بھٹو نے آپ کو سینے سے لگا کر بتایا ہوگا کہ آپ کی پنکی چٹان کی طرح ظالم طبقے کے خلاف کھڑی رہیں اور عوامی حقوق کے لئے جنگ لڑتی رہیں اور مجھے یقین ہے جب آپ بیگم نصرت بھٹو سے ملے ہوگے تو آپ کی آنکھیں نم ضرور ہوئی ہوں گی کہ عوام اور مٹی کی محبت کی سزا یہ دی گئی کہ میرے پورے خاندان کو شہید کردیا گیا۔ بیگم صاحبہ نے آپ کو بتایا ہی ہوگا کہ اب آپ کا نواسہ بلاول آپ کی جگہ سنبھالے ہوئے ہے اور پیپلزپارٹی کے چیئرمین کی حیثیت سے ذمہ داریاں نبھا رہا ہے۔

بھٹو صاحب میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ اب آپ کی پارٹی جو کبھی مزدوروں اور محنت کشوں کی پارٹی تھی اب وہ وڈیروں اور جاگیرداروں کی پارٹی بن چکی ہے۔ میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ لوگ جس پارٹی سے روزگار کی امید لئے پھرتے تھے آج وہاں روزگار تو فراہم کیا جاتا ہے مگر مختلف ریٹ طے ہیں۔ 14 گریڈ کی نوکری کے لئے 10 لاکھ، 7 گریڈ کی نوکری کے کم از کم 5 لاکھ اور یہاں تک کہ نائب قاصد یا مالی کی نوکری کے لئے بھی 2 لاکھ روپے وصول کیے جاتے ہیں۔

میں یہاں یہ بھی واضح کرتا چلوں کہ بلاول انتہائی معصوم انسان ہے میں ان سے کئی مرتبہ مل چکا ہوں اور انہیں ان سب باتوں سے آگاہ بھی کرچکا ہوں مگر انہیں شاید گمراہ کردیا گیا۔ قائد عوام، میرے والد 1985 سے لے کر اب تک موٹر سائیکل پر گھومتے ہیں اور میں بھی موٹر سائیکل پر سفر کرتا ہوں۔ غریب انسان غریب سے غریب تر اور امیر انسان امیر ترین ہوتا چلا جارہا ہے۔

قائد عوام میں آپ کو یہ بھی بتانا چاہوں گا آپ کے وہ کارکنان جنہوں نے آپ کے عدالتی قتل کے بعد جلاوطنی کاٹی، کوڑے کھائے، ضیاء کا ظالمانہ دور جھیلا اور پھر آپ کی پنکی کے ساتھ مل کر مشرف کی آمریت کا سامنا کیا اور ظالموں، جابروں سے ٹکرائے وہ آج ایک دیوار سے چپکا دیے گئے ہیں۔

بلاول کو ان کارکنان سے دور رکھا جارہا ہے اور ایک مخصوص ٹولے نے آپ کے نواسے کے گرد گھیرا ڈالا ہوا ہے۔ ان مخلص کارکنان کی رائے لینا تو دور وہ کسی محفل یا پارٹی پروگرام میں بلاول کے قریب جانے لگیں تو آپ کے نواسے کے باڈی گارڈز سیکیورٹی کو جواز بنا کر انہیں پیچھے دھکیل دیتے ہیں۔ میں یہ بات سمجھنے سے قاصر ہوں کہ مکمل سیکیورٹی چیکنگ اور یہاں تک کہ موبائل فون جمع کروا کر گھر (بلاول ہاؤس) کے اندر جانے والے کارکنان سے کیسا ڈر؟

شاید ڈر اس مخصوچ ٹولے کو ہے جو بلاول کو گمراہ کررہے ہیں جو اپنے مخصوص، من پسند لوگوں اور سکھائے ہوئے لوگوں کو سامنے لے جاتے ہیں جو صحیح کو غلط اور غلط کو صحیح قرار دے کر اس مخصوص ٹولے کی خوشنودی حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اور اگر کوئی ہمت کر کے بلاول کے سامنے سچ بیان کر بھی دے تو اس کے خلاف جھوٹے گواہوں اور منگھڑت الزامات کا تانتا بندھ جاتا ہے اور جو آواز اٹھاتا یے اس کو نشان عبرت بنادیا جاتا یے جس کی ایک مثال میں خود ہوں۔

پچھلے دنوں تنظیم سازی کے نام پر کارکنوں سے گھناؤنا مذاق ہوا۔ کارکنوں سے تنظیم سازی کے لئے رائے مانگی گئی تو کارکنان خوش تھے کہ اب بھٹو کا نواسہ اہم فیصلے لے گا اور ان لوگوں کو ذمہ داریاں دی جائیں گی جنہوں نے مشکل ترین وقت میں بھی پارٹی کا ساتھ نہیں چھوڑا مگر ایسے ایسے لوگوں کو نظر انداز کردیا گیا جو آپ کے ساتھ کام کرچکے تھے اور مقامی قیادت کے من پسند لوگ ہی جگہ بنانے میں کامیاب ہوسکے۔ میں واضح کرتا چلوں کہ میرا اشارہ ایک مخصوص ٹولے کی طرف ہے۔ یہ بات درست ہے کہ نوجوانوں کی اس پارٹی کو ضرورت ہے مگر صرف ان نوجوانوں کی جس کے والد، والدہ، بہن، بھائی یا پھر چاچا، ماما کسی بڑے عہدے ہر رہ چکے ہوں اور اگر کسی کا بھائی، بہن، چاچا، ماما، والد یا والدہ رکن اسمبلی رہا ہو تو اس کی جگہ تو پکی سمجھیں۔

میں جانتا ہوں کہ بلاول سمیت پارٹی کی پوری مرکزی قیادت (ماسوائے چند ضیاءالحق کی سوچ رکھنے والوں کے) آپ کے مشن کی تکمیل کے لئے جدوجہد کررہی ہے مگر جب تک مخلص کارکنان کو جائز مقام نا دیا گیا اس وقت تک پیپلزپارٹی کو دوبارہ منظم نہیں کیا جاسکتا بالخصوص پنجاب میں جہاں آپ نے اس پارٹی کی بنیاد رکھی تھی۔

بھٹو صاحب، ستم ظریفی کا یہ عالم ہے کہ آپ کی پارٹی ضیاءالحق کے ترمیم کردہ آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 کی محافظ بن چکی ہے اور ضیاء کے لاڈلے نوازشریف اس کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔ گویا پیپلزپارٹی نظریاتی سیاست کے بجائے سیاسی مفادات کو ترجیح دے رہی ہے۔

بلاول کو لکھے گئے خط تو بلاول ہاؤس میں بیٹھے مخصوص ٹولے کی مہربانی سے ان تک پہنچ ہی نہیں پاتے مگر یہ کھلا خط ہے اس لئے یہ خط آپ تک پہنچنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ یہ کھلا خط میں اس امید کے ساتھ لکھ رہا ہوں کہ جو بھی آپ کا وارث ہوگا وہ اس خط کا جواب مجھے ضرور بھیجے گا۔

فقط آپ کا خیر خواہ عمیر سولنگی


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔