جنسی اور تولیدی صحت کے معاملات


یہ 2015ء کی بات ہے جب دوسری دفعہ ریڈیو نیدرلینڈ نے کولمبو میی ریفریشر کورس کے لئے منتخب کیا۔ اس پروگرام میں دنیا بھر سے پندرہ صحافی شامل تھے اُن میی سے پاکستان سے میرا انتخاب ہوا تھا۔ ریفریشر کورس کے مندرجات کمال کے تھے۔ ٹرینرز نے بہترین طریقے کے ساتھ کورس ڈیزائن کیا تھا۔ پاکستان جیسے ملک بہت کم ہی ایسے کورس پر تربیت دی جاتی ہے۔ صحافیوں کو جنرلسٹ (Generalist) بھی کہا ہے کہ انہیں ہر موضوع پر معلومات ہونی چاہییں۔ کورس سیکسول ریپروڈکٹیو ہیلتھ (جنسی اور تولیدی صحت) پر تھا۔ جس ـمیں بتایا گیا تھا کہ یورپ کے علاوہ باقی ممالک میں ایسے موضوعات پر بات نہیں کی جاتی جس کی وجہ سے عورتوں، ہم جنس پرستوں اور سیکس ورکرز (جو مرد بھی ہیں اور عورتیں بھی) کی اموات ہورہی ہیں۔ ان تمام مضوعات پر پھر قلم اُٹھاؤں گا۔

 

کورس کے آخر میی جو اسائمنٹ دیئے گئے تھے وہ بھی ہر ملک سے آنے والے صحافی کی مرضی پر منحصر تھا کہ اُن کے ملک میں کون سا مسئلہ سیریس اور قابل رحم ہے۔ انڈیا، نیپال،بنگلہ دیش، سری لنکا سمیت تمام ایشیائی ممالک کے مسائل ایک جیسے ہی تھے۔ ہر صحافی نے اپنے ملک کے تناظر میں مسئلہ ڈسکس کیا۔ اور اُس پر تفصیلی سٹوری فائل کیـ چونکہ میں پاکستان کو اور پھر خیبر پختونخواہ کو ری پریزینٹ کر رہا تھا۔ اس لئے میں نے جو موضوع چنا وہ پاکستان اور پھر خیبر پختونخوا کے اکثریت گھروں کا مسئلہ ہے جہاں مردوں کی اجارہ داری ہے وہ ہے شادی کے بعد بچوں کا پیدا نہ ہونا جس میی شادی کے بعد بچہ پیدا نہ کرنے کا ذمہ دار صرف اور صرف لڑکی کو ٹھہرایا جاتا ہے۔ مرد میں لاکھ خامیاں ہوں مگر اُسے کوئی کچھ نہیی کہتا۔ جب شادی کا ایک سال گزر جاتا ہے تو گھر کے لوگ عموما ماں یعنی ساس دبے لفظوں سے باتیں شروع کردیتی ہے کہ بہو میں مسئلہ ہے اور وہ کبھی کبھار طعنہ دینے سے بھی باز نہیں آتی۔ ادھر بہو پریشانی سے اس کا ذکر اپنے میاں سے علاقائی روایات کی وجہ سے نہیں کرتی اور یوں وہ گھر والوں کی حتیٰ کہ اپنی ماں بھی بیٹی کو کہتی ہے کہ بیٹی پہلا بچہ جلد پیدا کرو۔ تو سسرال میی راج کرو گی۔ مگر جب تاخیر ہوتی ہے تو پریشانی دامن گیر ہوجاتی ہے۔

اسی بارے میں: ۔  میں نے تصویر کشی سے توبہ کی!

 

 

پھر ایک دن ماں اپنے بیٹے سے کہتی ہے کہ بہو کو ڈاکٹر کے پاس لے کر جاو اور یوں علاج شروع کیاجاتا ہے۔ جس میں بہو کے سارے ٹیسٹ کلیئر نکلتے ہیں۔ اور بیوی سے کہا جاتا ہے کہ خاوند کے ٹیسٹ کراؤ جس کو مرد حضرات اپنی بے عزتی تصور کرتے ہیں۔ اور بات کو گول کردیا جاتا ہے۔ اور علاج بہو کا شروع ہوتا ہے۔ جو کہ میڈیکلی فٹ ہوتی ہے۔ مگر گولیاں اور گالیاں اُس کا نصیب ہوتی ہیی۔ پھر وہ دن بھی آتا ہے جب گھر میی بانجھ پن کا راگ شروع ہو جاتا ہے اور بیٹے کی دوسری شادی کا شوشا چھوڑا جاتا ہے۔ جس میں بیمار میڈیکلی ان فٹ بیٹا بھی اُن کے ہمراہ ہوتا ہے اور ایک بیوی کے ہوتے ہوئے دوسری بیوی لائی جاتی ہے۔ اور اس طرح کہانی چلتی ہے مگر کوئی فائدہ سامنے نہیں آتاـ ایک بیوی کے ہوتے ہوئے دوسری بیوی بھی آجاتی ہے مگر بچہ پیدا نہیں ہوتا۔ کیونکہ بیمار بیوی نہیں بلکہ نقص خاوند میں ہوتا ہے۔

 

اور یہی وہ مسئلہ تھا جس کو میں نے ڈسکس کیا کہ پاکستان میں مرد اپنا علاج کرانے میں تردد سے کام لیتے ہیں اور دوسری شادی کر لیتے ہیں اور الزام بے چاری خاتون پر آتا ہے۔اسی موضوع پر میی نے ایک کیس سٹڈی لی اور نیوز سٹوری ڈیویلپ کی جس کے مطابق ایک جوڑے کی شادی ہوئی۔ برسوں تک بچہ پیدا نہیں ہوا تو گھر میں دوسری شادی کی بات ہونے لگی ـ ڈاکٹر نے خاتون کو فٹ قرار دیا تھا اور مرد کے ٹیسٹ کرانے کا کہہ دیا۔ جس کے بعد مرد نے اپنے ٹیسٹ کرائے اور اپنا علاج شروع کر دیا۔ گھر والوں کی لاکھ باتوں کے باوجود اُس نے دوسری شادی نہیں کی اور پھر ایک دن جب وہ ڈاکٹر کے پاس گئے اور چیک اپ کے بعد جب ڈاکٹر نے اسے خوش خبری سنائی تو اُس کی خوشی کی انتہا نہیی رہی۔اور یوں سٹوری کا ہیپی اینڈ کر لیا تھا۔

اسی بارے میں: ۔  پھر بھی دل ہے پاکستانی!

 

ٹرینر جنجر ڈی سلوا نے میرے موضوع اور کہانی کو بہت بہترین قرار دیا اور کہا کہ یہ تو صرف ایک کہانی ہے پاکستان میی لاکھوں کہانیاں اس قسم کی ہوں گی جس سے انسانی زندگیاں بچائیں جاسکتی ہیں۔ مگر ایسے بولڈ ٹاپکس پر بولنا اور کام کرنا پاکستان میں بہت مشکل امر ہے۔ اب جب میں 2017ء میں “ہم سب” کے موضوعات دیکھتا ہوں تو مجھے امید کی کرن نظر آتی ہے کہ ان اُن موضوعات پر بولا اور لکھا جا سکتا ہے جس پر سوچنا بھی یہاں گناہ تصور کیا جاتا تھا۔ اگر دیکھیں تو شادی کے بعد جب بچہ نہیں ہوتا تو کوئی مرد سے نہیں کہتا کہ نقص تمھارا ہے بلکہ عورت کو ہی دوشی قرار دیا جاتا ہے۔ حالانکہ طبی سائنس ان تمام مٖروضوں کی نفی کرتی ہے۔

 

 

 

 


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔