اس قانون کو مار ڈالو


سنا ہے کہ ملتان میں وکیلوں نے ہائی کورٹ کے ایک معزز جج صاحب پر الزام لگایا کہ ان کا رویہ توہین آمیز ہے اور حملہ آور ہو کر ان کی نیم پلیٹ سے فٹ بال کھیلتے رہے۔ بینچ لاہور منتقل کر دیا گیا۔ ہائی کورٹ کے دو جج نامزد کیے گئے مگر وکلا ان کے سامنے پیش نہ ہوئے۔ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کی سربراہی میں پانچ رکنی فل بینچ بنایا گیا مگر وکلا کو وہ ٹھیک نہیں لگا۔ ہائی کورٹ نے ملتان بار کے سربراہ کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے۔ وکلا مشتعل ہو گئے اور انہوں نے ہائی کورٹ پر دھاوا بولا اور دروازہ توڑ ڈالا۔ اب ملتان بار کے صدر مفرور ہیں اور ان کے بھائی بھتیجے اندر۔

وکلاء ہر ہمیں سو فیصد اعتبار ہے کہ وہ کسی قانون کے مطابق ہی کارروائی کر رہے ہوں گے۔ سوال بس معمولی سا ہے۔ کیا مسلم لیگ ن نے اسی قانون کے تحت چیف جسٹس سجاد علی شاہ کے سپریم کورٹ پر حملہ کیا تھا؟ ان پر پھر لعن طعن کیوں کی جاتی ہے؟ کیا حالیہ نا اہلی پر مسلم لیگ ن دوبارہ اسی مبینہ قانون کو بروئے کار لا سکتی ہے جس کے تحت وکلا نے یہ چڑھائی کی ہے اور فیصلہ خلاف آنے پر عدالت کا جلاؤ گھیراؤ کر سکتی ہے؟ کر دے تو وکلا کا ردعمل کیا ہو گا؟

عدالت کی عزت کرنا سب پر فرض ہے، وزیراعظم پر بھی اور بار کے صدر پر بھی۔ پھر کیا وجہ ہے کہ قانون کی سربلندی کے لئے کالا کوٹ پہننے والوں نے قانونی راستہ اپنانے کی بجائے عدالت عالیہ پر دھاوا بولنا مناسب سمجھا ہے؟ کیا ان کو یہ لگتا ہے کہ ایک جج کا رویہ درست نہیں ہے تو اس سے بچنے کا ان کے پاس کوئی قانونی راستہ نہی؟ کیا ان کو شکایات پر ججوں کے خلاف کارروائی کرنے والے ادارے سپریم جوڈیشل کونسل کی کارکردگی دیکھنے کے بعد اس پر اعتبار نہیں رہا ہے؟

اسی بارے میں: ۔  سسلین مافیا کے پروان چڑھے ناراض بچے

عدالتوں سے سیاستدان تو پہلے ہی شاکی تھے، اب وکیل بھی دلبرداشتہ دکھائی دیتے ہیں۔ یعنی کہیں وہ حال نہ ہو جیسا اس مشہور گیت میں بیان کیا گیا ہے کہ ’ہم کو بھی غم نے مارا، تم کو بھی غم نے مارا، اس غم کو مار ڈالو اس غم کو مار ڈالو‘۔ یہاں سب کو غم قانون کا ہی دکھائی دیتا ہے۔ کہیں قانون کو مار ڈالنے کی مہم تو نہیں چلنے لگی؟

ویسے قانون پر اعتبار کا تو یہ حال ہے کہ لوگ اب قانون کی بجائے ڈنڈے کا تحفظ چاہتے ہیں۔ آئل ٹینکروں کی سیفٹی کے لئے قانون بنایا جائے تو آئل ٹینکر ایسویسی ایشن والے ڈنڈا لے کر آ جاتے ہیں اور قانون کو اس کی اوقات بتا دیتے ہیں۔ صحافیوں کے خلاف کوئی قانونی کارروائی ہو تو ان کی تنظیمیں اپنا اپنا ڈنڈا بلند کر دیتی ہیں اور قانون پر عمل درآمد کی بجائے سمجھوتہ کرنے میں عافیت جانی جاتی ہے۔ منظم تنظیمیں اور ان کی توڑ پھوڑ اب قانون سے بالاتر قرار پا چکے ہیں۔ قانون اپنی عزت بچا کر سمجھوتہ کرنے میں عافیت دیکھتا ہے۔

اب وکیل بھی ڈنڈے کو ہی پیر جاننے لگے ہیں تو کہیں ایسا نہ ہو کہ پاکستان میں عدالت کا نشان اس ترازو اور تلوار والے مجسمے کی بجائے ڈنڈا مقرر کر دیا جائے۔ وکلا عدالت کے احاطے میں کالا لباس پہنے اور ہاتھ میں عصائے قانونی اٹھائے دکھائی دینے لگیں۔

افتخار محمد چوہدری صاحب کی بحالی کی تحریک کے بعد سے پولیس والے اور چھوٹے موٹے جج تو اس عصائے قانونی کا شکار ہوتے دکھائی دینے لگے تھے، مگر بات اب ہائی کورٹ کے جج سے ہوتی ہوئی چیف جسٹس تک آن پہنچی ہے۔ پھر اگلی باری سپریم کورٹ آف پاکستان کی ہو گی۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ججوں کے احتساب کا بھی کوئی مناسب قانون بنایا جائے مگر ساتھ ساتھ غنڈہ گردی کرنے والے وکلا کے خلاف بھی بار کونسل سخت ایکشن لے۔

اسی بارے میں: ۔  کیا نواز شریف مدبر ثابت ہوں گے ؟

جمہوریت میں پارلیمان سب سے بالاتر ہوتی ہے۔ وہی آئین بناتی ہے، وہی قانون سازی کرتی ہے، بیشتر ممالک میں عدلیہ کے ججوں کی تعیناتی کرنے کے علاوہ ان کے خلاف ڈسپلنری ایکشن لینے کی بھی وہی مجاز ہوتی ہے۔ کیا پاکستان میں بھی پارلیمان کو یہ اختیار دینا ہو گا؟ چلیں قومی اسمبلی تو آپ کو جاہل لگتی ہے کہ ادھر جمشید دستی جیسے ان پڑھ بیٹھتے ہیں اور پنجاب کا اس پر غلبہ ہے، کیا آپ پڑھی لکھی اور متناسب صوبائی نمائندگی رکھنے والی سینیٹ کو عدلیہ کے احتساب کا یہ اختیار دینا چاہیں گے؟

جس برطانیہ کو ہم جمہوریت کی ماں سمجھتے ہیں ادھر تو کوئی تحریری آئین ہی نہیں ہے، جو پارلیمان کہہ دے وہی حرف آخر ٹھہرتا ہے۔ عدالتیں صرف اور صرف پارلیمان کے بنائے گئے قوانین کی تشریح کر سکتی ہیں، اسے مسترد کرنے کا اختیار نہیں رکھتی ہیں۔

ادھر پاکستان میں ہماری عدالتیں تفریق کیے بیٹھی ہیں کہ صرف آئین ساز اسمبلی ہی آئین میں من چاہی ترمیم کر سکتی ہے، باقی ہر ترمیم پر عدالت کا ڈنڈا چل سکتا ہے حالانکہ آئین خود شق نمبر 239 میں یہ کہتا ہے کہ ”(5) دستور میں کسی ترمیم پر کسی عدالت میں کسی بنا پر چاہے جو کچھ ہو کوئی اعتراض نہیں کیا جائے گا۔ (6) ازالہ شک کے لئے بذریعہ ہذا قرار دیا جاتا ہے کہ دستور کے احکام میں سے کسی میں ترمیم کرنے کے پارلیمنٹ کے اختیار پر کسی قسم کی کوئی پابندی نہیں ہے“۔

مستقبل کا ایک ممکنہ بار کونسل اجلاس

Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 732 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar