مسلمان نظر آنے سے کیسے پیچھا چھڑائیں؟ (1)


جنسی فعل اور حمل میں تعلق لاکھوں برس سے چلا آ رہا تھا۔ جنسی فعل کے نتیجے میں حمل ٹھہر جاتا تھا۔ بچے پیدا کرنا، پالنا، ان کی تربیت کرنا اور ان کے لئے وسائل مہیا کرنا جوکھم تھا۔ اس پر یہ فکر مستزاد کہ ہمارا مال مویشی، زرعی اراضی، مکانات اور کاروبار صرف ان افراد کو ملیں جنہیں ہم نے خود پیدا کیا ہے۔

بار بار بچے پیدا کرنے سے عورتوں کی صحت برباد ہو جاتی تھی مگر کوئی چارہ نہیں تھا۔ شاہ جہاں نے اپنی بیوی ممتاز محل کی یاد میں تاج محل تعمیر کیا تھا۔ شاہ جہاں کی چہتیی بیوی کی موت چودہویں بچے کی پیدائش کے دوران ہوئی تھی۔ ملکہ وکٹوریہ 18 برس کی تھی کہ 1837 میں تخت نشین ہوئی۔ اسے اپنے میاں البرٹ سے بہت محبت تھی۔ اس محبت کا ثبوت بار بار پیدا ہونے والے بچے تھے۔ شاہی جوڑے کا چھٹا بچہ پیدا ہوا تو وکٹوریہ کی صحت جواب دے گئی۔ ڈاکٹروں نے صاف صاف کہہ دیا کہ ملکہ معظمہ مزید بچے پیدا کرنے کی متحمل نہیں ہو سکتیں۔ وکٹوریہ کا ردعمل دلچسپ تھا۔ ” گویا اب بستر میں خوشی کی دو گھڑیاں نہیں گزار سکوں گی”۔ بچے پیدا نہ کرنے کا ایک ہی مطلب ہے کہ جنس سے ہاتھ کھینچنا ہو گا۔

اردو کے ایک بہت بڑے ادیب کا ذکر ہے۔ ایک معروف علمی خانوادے سے تعلق تھا۔ چھوٹی عمر میں شادی کر دی گئی۔ پہلے بچے کی پیدایش پر پیچیدگیوں کے باعث خاتون خانہ کو ناسور ہو گیا۔ گویا زخم خراب ہو گیا اور ٹھیک ہونے کا نام نہیں لیتا تھا۔ تب جراثیم کش ادویات تھیں اور نہ درد ختم کرنے کی دوا دستیاب تھی۔ ادیب میاں کو اپنی بیوی سے بہت محبت تھی۔ مرہم پٹی خود کرتے تھے۔ کئی برس یہ عذاب جھیلنے کے بعد زوجہ کا انتقال ہو گیا۔ صاحب علم ایک نئی دلہن بیاہ لائے اور منہ دکھائی میں انہیں چھ بچے عطا کئے۔ یہ سب تفصیل مذکورہ ادیب نے خود قلم بند کی۔ سوال یہ کہ زوجہ اولیٰ اس قدر بیمار تھیں تو یہ بچے کس تدبیر سے پیدا ہوتے تھے۔ اس سے زیادہ اشارہ کرنے کی ہماری تہذیب اجازت نہیں دیتی۔ تاہم سوچنا چاہیے کہ آدم کی نسل ہمارے علاقے اور تہذیب تک محدود نہیں۔ انسانوں نے انوکھے انوکھے ٹھکانے بنائے ہیں۔ برف سے ڈھکے میدانوں میں رہتے ہیں۔ صحراؤں میں بسرام کرتے ہیں۔ پہاڑوں میں جہاں پاؤں ٹکانے کی جگہ ملے، کٹیا بنا لیتے ہیں۔ میلوں دور سے پینے کا پانی لاتے ہیں۔ باقاعدگی سے نہانے دھونے کے لئے بہت سا پانی درکار ہوتا ہے۔ لباس، صفائی، نجاست اورغسل کے آداب ایسے ان گنت عوامل سے مرتب ہوتے ہیں۔

ہمارے ماں باپ کی نسل پیدا ہوئی تو دنیا میں کل دو ارب انسان بستے تھے۔ ہندوستان تقسیم ہوا تو یہاں کے رہنے والوں کی اوسط متوقع عمر 40 برس تھی۔ 1956 میں پہلی مرتبہ مانع حمل گولیاں بازار میں بکنے آئیں۔ چھوٹا موٹا کام چلاؤ بندوبست کئی صدیوں سے چلا آ رہا تھا۔ مالتھس نے نظریہ آبادی پیش کیا تو حمل روکنے کی کوئی تدبیر اس کے پاس نہیں تھی۔ سادہ نسخہ بتا دیا کہ جنسی فعل سے گریز کرو۔ یہی ہدایت گاندھی جی کرتے تھے۔ جس شخص کو پاکیزگی کے سنگھاسن پر بٹھانا مقصود ہوتا تھا اسے جنس سے ماورا قرار دے دیا جاتا تھا۔ یہاں تک کہا گیا کہ جنسی خواہش کو قابو کر چکے ہیں۔ مشکل یہ ہے کہ دانہ گندم انسان کے ساتھ ہے۔ جس نے گندم کھائی اس میں جنسی خواہش بھی ہو گی۔ چاول کی تاثیر بھی کچھ ایسی ہی بتائی جاتی ہے۔ جنسی فعل کیا جاتا تھا، اس پر بات نہیں کرتے تھے۔ غیرت والے لوگ تھے۔

ٹھیک 60 برس پہلے مانع حمل ادویات کی خبر نکلی تو نیک لوگوں کو فکر ہوئی کہ اب پرہیز گاری کا سامان کیسے ہو گا۔ ماضی میں کچھ ایسا کرتے تھے تو حمل کی صورت میں راز افشا ہو جاتا تھا۔ بدنامی کا خوف برائی کو پھیلنے سے روکتا تھا۔ اب جہاں جی چاہے، جنسی فعل کیا جائے گا، حمل کا اندیشہ نہیں ہو گا۔ اس کا مطلب یہ کہ ماضی میں جنسی فعل شرافت کے منافی سمجھا جاتا تھا۔ اب حمل روکنے کی خواہش بدمعاشی کا نشان ٹھہری۔ پاکستان میں آبادی پر قابو پانے کی تحریک 1952 میں شروع ہوئی لیکن ہم نے یہ تحریک نہیں چلنے دی۔ اس موضوع پر بات کرنا دشوار کر دیا گیا۔ برتھ کنٹرول کو بہبود آبادی تک لے آئے لیکن بہبود کی صورت پیدا نہ ہو سکی۔

دنیا کے بہت سے خطوں میں آج بھی مانع حمل ادویات اور تدابیر تک رسائی مشکل ہے۔ چھوٹی عمر میں شادی کی جاتی ہے۔ بچوں کی پیدایش میں وقفہ نہیں آنے دیتے۔ تا حد امکان بچے پیدا کئے جاتے ہیں۔ ایک نسل غریب ہے تو آنے والی کئی نسلوں میں غربت کو یقینی بنا دیا جاتا ہے۔ عورتوں کے لئے تو پیدایش کے ساتھ ہی موت کا نسخہ لکھ دیا جاتا ہے۔

پاکستان میں ایک ہزار زندہ پیدا ہونے والے بچوں میں سے ساٹھ چند ماہ کے اندر موت کا شکار ہو جاتے ہیں۔  بچوں کی پیدائش کے 10000 واقعات میں قریب 200 عورتیں جان سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہیں۔ زچگی میں طبی امداد میسر نہیں آتی۔ ہسپتال موجود نہیں۔ جہاں ہسپتال ہے، وہاں ڈاکٹر نہیں۔ جہاں ڈاکٹر موجود ہے، وہاں غیرت اجازت نہیں دیتی کہ مرد ڈاکٹر سے بچے کی پیدائش میں مدد لی جائے۔ گھر میں کھانے کو میسر نہیں۔ اور کھانے میں جو ملتا ہے اس کا گھٹیا حصہ اور وہ بھی کم مقدار میں عورتوں کو نصیب ہوتا ہے۔

ایک تصویر کہیں گم ہو گئی ہے۔ مل گئی تو پیش کر دوں گا۔ اس میں ایک ننگ دھڑنگ بچہ معصوم صورت بیٹھا ہے۔ یہ بچہ پیدا ہوا تو نہایت کمزور تھا۔ اس کی ماں مستقل بیمار رہتی تھی۔ معلوم ہوا کہ حمل کے دوران غربت کے باعث انہیں صرف آلو کھانے کو ملتے تھے۔ اس بچے کے والد گرامی محترم اللہ دتہ صاحب شعیب منصور کی فلم “خدا کے لئے” دیکھ کر واپس آئے تو ایک موٹی گالی دے کر کہا، جہنم میں جائیں یہ لوگ۔ ہمارے بچوں سے حسد کرتے ہیں۔ میں گن کر سات بچے پیدا کروں گا۔ آخری خبریں آنے تک پانچ بچے پیدا کر چکے تھے۔ صحت کے اعداد و شمار کا یہ پشتارا تو مانع حمل ادویات تک رسائی کی بات سے نکل آیا۔ قصہ یہ تھا کہ مانع حمل ادویات اس لئے حاصل نہیں کرتے کہ شرم کا مقام ہے۔ شرم کے اپنے بہت سے پہلو ہیں۔

شرم کا مطلب ہے شرمندگی۔ خجالت، توہین، بدسلوکی اور ناانصافی سے بچنے کی کوشش کرنا۔ اپنے اردگرد 60 برس سے زیادہ عمر کے مسیحی ہم وطنوں کے نام پوچھیے۔ جواب ملے گا جارج، ڈیوڈ، جوزف، مارگریٹ، الزبتھ وغیرہ۔ 40 برس کے پیٹے میں آنے والے مسیحی دوستوں کے نام پوچھئے۔ کامران، ندیم، عرفان، رومانہ، روبینہ وغیرہ۔ وجہ یہ کہ اگر مسیحی پہچان والا نام بتایا یا پکارا جائے تو نام سنتے ہی سکول میں بدسلوکی ہو گی، کام کی جگہ پر امتیاز ہو گا، ٹرین میں توہین ہوگی، نوکری نہیں ملے گی، تھانے میں زیادہ جوتے لگیں گے۔ بہتر یہی ہے کہ جہاں تک ہو سکے، مسیحی شناخت چھپائی جائے۔

مرزا غالب اچھے وقتوں میں شاعری کر گئے۔ خود کو مرزا کہتے تھے۔ مغل نسل سے تعلق بتاتے تھے۔ آج کے پاکستان میں جینا پڑتا تو کبھی خود کومرزا نہ لکھتے۔ اس نام کے ساتھ رسوائی کے پتھر باندھ دیے گئے ہیں۔ اس سابقے سے بدسلوکی اور گاہے موت کا اندیشہ لاحق ہوتا ہے۔

دنیا میں سب لوگ ہمارے جیسے نہیں۔ جنسی فعل اور حمل کا تعلق مدت ہوئی ختم ہو چکا۔ اب جنسی عمل کا مقصد محض بچے پیدا کرنا نہیں۔ ضرورت ہو گی تو بچے بھی پیدا کئے جائیں گے لیکن جنس اور بچوں کی تشریف آوری لازم و ملزوم نہیں رہی۔ بارہا ایسا ہوتا ہے کہ جنسی خواہش پیدا ہوئی۔ باہم رضا مندی بھی ہے مگر یہ کہ مانع حمل تدبیر کا بندوبست نہیں۔ کچھ مضائقہ نہیں۔ اگلے روز بازار سے ایک عام سی دوا مانگ لیجئے۔ اسے ECP یعنی Emergency Contraceptive Pill  کہتے ہیں۔ ایک گولی کھانے سے حمل کا اندیشہ دور ہو جاتا ہے۔ مشکل یہ ہے کہ جہاں سادہ مانع حمل دوا خریدنے کی تاب نہیں وہاں  ECP کیسے طلب کی جائے۔ گھبرائیے نہیں۔ مارننگ آفٹر مانگ لیجئے۔  گویا مارننگ آفٹر اسی دوا کا اصطلاحی نام ہے جو شب پارینہ کی کوتاہیوں کا ازالہ کرتی ہے۔ گزری ہوئی رات میں کیا ہوا تھا۔ کل کی رات صرف آپ کی خوش فعلی سے تو عبارت نہیں تھی۔ اس دوران دنیا میں بہت کچھ ہوا۔ کچھ اس کے ازالے کی بھی صورت ہے؟ اس کا جواب مصر کے ماہر امراض قلب باسم محمد یوسف سے پوچھیے۔

(جاری ہے)


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔