ٹرمپ کے نعرے اور افغان حقیقت


صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ خطاب کو دیکھا جائے تو یہی بات سامنے آتی ہے کہ سولہ برس گزر جانے کے بعد بھی امریکہ کی طویل ترین جنگ، یعنی افغانستان کی لڑائی، مزید طویل ہونے جا رہی ہے۔ صدر ٹرمپ کا افغانستان سے امریکی فوجوں کے انخلا کے ٹائم ٹیبل کی پالیسی کو ترک کرنا اور ’حالات کی بنیاد پر بنائی جانے والی حکمت عملی‘ کی جانب پیش قدمی کا عندیہ دینے کا صاف مطلب یہی ہے کہ مستقبل قریب میں افغانستان سے امریکی فوجوں کے واپس جانے کا کوئی امکان نہیں ہے۔

افغانستان کے حوالے سے امریکہ کی نئی پالیسی کو منظر عام پر آنے میں بہت تاخیر ہوئی، لیکن حیلے بہانوں کے بعد سابق امریکی صدور کی طرح، مسٹر ٹرمپ بھی وہی کرنے جا رہے ہیں جو ان کے جرنیل انھیں بتا رہے ہیں۔ اگرچہ اپنے خطاب میں مسٹر ٹرمپ نے افغانستان میں ممکنہ اضافی امریکی فوجیوں کی تعداد کے بارے میں کچھ نہیں کہا لیکن لگتا ہے کہ وہ اپنے جرنیلوں کے اس مشورے پر عمل کرنے جا رہے ہیں کہ افغانستان میں مزید تین ہزار آٹھ سو افراد بھیجنے پڑیں گے۔ ان میں فوجی تربیت دینے کے ماہرین اور وہ مشیر شامل ہوں گے جو افغان حکومت اور فوج کو مشورے دیں گے۔

اگرچہ صدر ٹرمپ نے طالبان کے خلاف افغان فوج کے سب سے موثر ہتھیار، یعنی امریکہ کی فضائی مدد، کے حوالے سے بھی کسی قسم کی لب کشائی نہیں کی، لیکن امکان یہی ہے کہ وہ فضائی مدد میں بھی اضافہ کریں گے۔ افعانستان سے امریکی فوجوں کے مکمل انخلا اور افغانستان میں تمام معالات کسی نجی کپمنی کے حوالے کرنے جیسی غیر مقبول تجاویز کو رد کر کے صدر ٹرمپ نے یہ واضح پیغام دیا ہے کہ افغانستان کے معاملات عملی طور پر انھوں نے اپنے ہاتھ میں لے لیے ہیں۔

اپنے خطاب میں صدر ٹرمپ نے یہ تسلیم کیا کہ ذاتی طور پر وہ بھی افغانستان سے امریکہ کا مکمل فوجی انخلا چاہتے تھے۔ دکھائی دیتا ہے کہ براک اوباما کی طرح ان کے دل میں بھی یہ کشمکش جاری رہی کی تمام فوجی واپس بلا لیں یا نہیں، اور آخر کار انھوں نے بھی یہی فیصلہ کیا ہے کہ امریکہ طالبان کا مقابلہ کرنے کے لیے افغان فورسز کو تربیت اور مدد فراہم کرتا رہے گا۔ ظاہر ہے کہ صدر ٹرمپ اس حکمت عملی کو اپنی بنائی ہوئی نئی پالیسی کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں، لیکن قصہ مختصر یہ ہے کہ ’حالات پر مبنی پالیسی‘ کا منتقی نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ امریکہ افغانستان سے جا نہیں رہا۔

اسی بارے میں: ۔  ’ورنہ‘ کیا؟ سینسر بورڈ کو غصہ کیوں آتا ہے؟

جہاٍں تک افغانستان کی اندرونی صورتِ حال کا تعلق ہے تو اس میں کوئی شک نہیں کہ ملک کا تقریباً نصف حصہ طالبان کے کنٹرول میں ہے ۔ ماسوائے افغان فوج کے ایلیٹ دستوں کے، باقی فوج کی حالت زیادہ اچھی نہیں ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ سوچنے سے پہلے کہ افغان فوجیں کب طالبان پر حملے کریں گی، افغانستان میں صرف استحکام پیدا کرنے کے لیے بہت سے اقدامات ضروری ہیں۔

جہاں تک صدر ٹرمپ کے خطاب کا تعلق ہے تو اس میں انھوں نے حسب دستور ’فتح‘ جیسے الفاظ کا سہارا لیا اور اس بات پر اصرار کیا کہ افغانستان میں جاری جنگ کا مقصد افغانستان کی تعمیر نہیں بلکہ ’دہشتگردوں کو ختم کرنا‘ ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مسٹر ٹرمپ کے ان الفاظ کا مقصد اپنے حامیوں کو یقین دلانا تھا کہ اُن کی طرح وہ خود بھی دیگر ممالک میں فوجی دخل اندازی کے خلاف ہیں، لیکن وہ مجبور ہیں۔

مسٹر ٹرمپ نے جو تجاویز پیش کی ہیں وہ دراصل ایک ہمہ جہت حکمت عملی ہے جس میں فوجی، سیاسی اور سفارتی مدد، تینوں شامل ہیں۔ اس موقع پر انھوں نے پاکستان کے حوالے سے ’سخت‘ الفاظ استعمال کرتے ہوئے کہا کہ اگر پاکستان ’دہشت گردوں کو پناہ دیتا رہا تو اسے بہت نقصان ہوگا۔‘ مسٹر ٹرمپ کے بقول ’یہ صورتِ حال تبدیل ہو کر رہے گی اور فوری تبدیل ہو گی۔‘

لیکن سوال پیدا ہوتا ہے کہ صدر ٹرمپ پاکستان پر کس قدر دباؤ ڈال سکتے ہیں؟ جہاں تک پاکستان کو امریکہ کی جانب سے ملنے والی سکیورٹی امداد کا تعلق ہے تو اس میں کچھ تو پہلے ہی معطل کی جا چکی ہے۔ لیکن پاکستان، جو کہ امریکہ کا آدھا اتحادی آدھا مسئلہ رہا ہے، وہ امریکہ اور طالبان یا ان کے کچھ حلقوں کے درمیان رابطے کروا سکتا ہے۔ مسٹر ٹرمپ کو معلوم ہے کہ جلد یا بدیر، وہ جب بھی طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانا چاہیں گے، پاکستان کا کردار اہم ہوگا۔

اسی بارے میں: ۔  ’اب فوج آگئی ہے، سب ٹھیک ہو جائے گا‘

لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے امریکہ اور انڈیا کے تعلقات میں اضافے اور افغانستان کی معاشی ترقی میں انڈیا کے ممکنہ کردار پر زور دینے کا مقصد نہ صرف خطے کی وسیع تر علاقائی پالیسی کو قدرے تلپٹ کرنا تھا بلکہ اس کا مقصد پاکستان میں بھی خطرے کی گھنٹی بجانا تھا۔

پاکستان کے علاوہ صدر ٹرمپ نے اپنے خطاب میں افغان حکام کو بھی آڑے ہاتھوں لیا۔ گروہی مفادات اور بدعنوانی سے عبارت افغان حکومت جمہوری اقدار کی تصویر تو ہونے سے رہی۔ مسٹر ٹرمپ کے بقول افغانوں کو یہ بتانا کہ ان کی حکومت کو کیا کرنا چاہیے اور کیا نہیں، یہ امریکہ کا کام نہیں۔ لیکن ایک ہی سانس میں مسٹر ٹرمپ نے یہ بھی کہہ دیا کہ امریکہ افغان حکومت کے نام ایسے چیک نہیں لکھتا رہے گا جن پر وہ جتنی رقم چاہے لکھ لے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہماری مدد لامحدود نہیں ہے‘ اور امریکہ توقع کرتا ہے کہ افغانستان میں حقیقی اصلاحات، حقیقی ترقی اور حقیقی نتائج حاصل کیے جائیں گے۔ ان باتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ صدر ٹرمپ کی افغان پالیسی کے خدوخال کیا ہوں گے مگر سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس پالیسی کی تفصیلات کیا ہیں؟

ہمارا خیال ہے کہ یہ تفصیلات وقت آنے پر ہی معلوم ہوں گی۔ جہاں تک آج کا تعلق ہے تو یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ یہ مقابلہ مسٹر ٹرمپ کی انتخابی خطابت اور افغانستان کے اصل حقائق کے درمیان تھا، جس میں زمینی حقائق کو فتح حاصل ہوئی ہے۔

اب افغانستان کی جنگ صدر ٹرمپ کی جنگ بن چکی ہے۔ انھیں بھی ان ہی مسائل کا سامنا ہے جو ان سے پہلے کے صدور کو تھا اور صدر ٹرمپ جو الفاظ چاہیں استعمال کریں، لگتا یہی ہے کہ وہ بھی وہی راستہ اپنائیں گے جو ان کے پیشرو کر چکے ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ مسٹر ٹرمپ کا اصرار ہے کہ وہ کوئی عذر تسلیم نہیں کریں گے اور مطلوبہ نتائج حاصل کر کے رہیں گے۔

(جوناتھن مارکس)


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 863 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp