پارک پر مولوی اور محمد علی جناح کی وراثت پر شیر کا قبضہ


 

وقت کرتا ہے پرورش برسوں حادثہ ایک دم نہیں ہوتا۔ زوال جب معاشروں پر حملہ آور ہوتا ہے تو کوئی ایک شعبہ متاثر نہیں ہوتا بلکہ زندگی کا ہر پہلو بے حال ہو جاتا ہے، زندہ اور بیدار قومیں لیکن وقت پر بیماری کا ادراک کرتی ہیں اور پھر اس کا علاج بھی۔ کھلی حقیقت یہ ہے کہ ہم ابھی اس مقام پر فائز نہیں ہو سکے۔ ینگ ڈاکٹرز کیا کم تھے کہ اب وکلا نے بھی نیا تماشہ کردیا۔

روزی روٹی اور حصول علم کے سلسلے میں قریب ایک دہائی تک مدینة الاولیا میں مقیم رہا، مشکل میں کام آنے والے دوستوں کی صحبت اور اللہ والوں کی قربت کے مزے لوٹے۔ تین برس تک مادر علمی جا معہ ذکریا میں گزارے، عثمان ہال، عمر ہال اور خاص طور پر ابوبکر ہال میں طلبہ کا ایک ٹولہ ہمیشہ دیکھا، قانون کے کچھ طالب علم سرے سے فارغ البال، اور ایک بڑی تعداد ایسے طالب علموں کی بھی جو یونیورسٹی کے دوسرے شعبوں میں زیر تعلیم تھے لیکن پرائیویٹ حیثیت میں ایل ایل بی کی ڈگری کے حصول کے لئے امتحانات دیتے تھے۔ اب تو جامعہ میں سمسٹر سسٹم کے تحت ایل ایل بی کی کلاسز کافی عرصے سے جاری ہیں لیکن ان دنوں جا معہ ذکریا کے زیر انتظام قانون کی کلاسز اندرون شہر میں واقع گیلانی لا کالج کی عمارت میں ہوتی تھیں اور امتحانات کے لئے سالانہ سسٹم رائج تھا۔

جامعہ کے مین کیمپس سے دن میں ایک یا دو بسیں چلتیں جو گیلانی لا کالج کے طالب علموں کو ہاسٹل سے کالج تک پہنچاتیں لیکن اکثرو بیشتر وہ بسیں خالی ہوتیں یا پھر ان میں بیٹھے طلبا راستے میں قلعہ کہنہ قاسم باغ، گھنٹہ گھر یا دولت گیٹ میں غائب ہوجاتے، یاپھر سارا دن ان لڑکوں کی ٹولیاں جامعہ کی مختلف کنٹینزکے ٹھیکیداروں سے جگا ٹیکس کی مد میں چائے اور سموسوں سے دل بہلاتیں اور رات گئے تک ہاسٹلز میں طلبا سیاست پر بے ثمر بحث کی جاتی۔ عملاً طلبا یونین دو گروہوں پر مشتمل تھی، ایک گروہ نعرہ تکبیر بلند کرتا تو دوسری طرف سے جئے بھٹو کا جواب ملتا، نہ کسی کو نعرہ تکبیر کی حقیقت معلوم تھی اور نہ ہی کوئی بھٹو کے فلسفے سے آشنا تھا۔

امتحانات کے دن آتے تو ہم سمسٹر سسٹم کے طالب علم موٹی موٹی کتابیں اورنوٹس پڑھ کر تنگ آئے ہوتے لیکن سالانہ نظام کے تحت قانون کے یہ طالب علم امتحان سے پہلے آخری رات چند صفحات کی ایک کتاب اٹھائے ہمارا منہ چڑا رہے ہوتے۔ اس کے باوجودقانون کے یہ طالب علم رات گئے تک مختلف اساتذہ اور وکیلوں کو ٹیلی فون کر کے امتحان میں آنے والے سوالوں کے بارے میں ’’تُکے‘‘ (گیس پیپر) کے طلب گار ہوتے جس کے بارے میں خود ان کو یقین نہیں ہوتا تھا کہ یہ ان کی کوئی مدد کر سکے گا لیکن بہرحال ہم نے دیکھا کہ قوم کے ان جری سپوتوں کی اکثریت نے قانون کی ڈگری تو حاصل کر لی لیکن قانون دان نہ بن سکے۔ دانش نہ تو کسی کی پابند ہوتی ہے اور نہ ہی ڈگریوں کی محتاج، کسی کو اگر یہ شک ہے تو محمد علی جناح کے عدالت میں لڑے گئے چند مقدمات کا احوال پڑھ لے جس نے بھاری فیس لے کر ہفتوں قانون کی موٹی کتابوں سے حوالے دینے والے وکیلوں کو صرف ایک پیشی میں چند منٹ کی بحث کے بعد دھول چٹا دی لیکن آج حالت یہ ہے کہ نچلی عدالتوں میں پیش ہونے والے وکیلوں کی اکثریت قانونی بحث کے جھنجٹ میں پڑتی ہی نہیں کیونکہ وہ اس کی تاب نہیں لا سکتے۔ سیدھا سیدھا جج سے کہا جاتا ہے کہ جناب یہ فیصلہ چاہیے مہربانی کریں، اگے تیرے بھاگ لچھیے۔

سانحہ لیکن یہ ہوا کہ محمد علی جناح کی وراثت شیر زمان قریشیوں کے ہتھے چڑھ گئی۔ جن کے پاس قانون کی ڈگری تو ہے لیکن وہ کیسے حاصل کی گئی ہے یہ لارڈ میکالے کے نظام تعلیم پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ شہر کایہ مالدار آدمی وکلا سیاست میں ہمیشہ سرگرم رہا ہے لیکن ڈھنگ کا ایک بھی مقدمہ جیتنا تو درکنار ہارنا بھی اس کے کریڈٹ پر نہیں۔ کُل ملاکر قانون کی ڈگریاں رکھنے والوں کا ایک سیاسی دھڑا ہے جس کی بنیاد پرموصوف نے ملتان کی وکلا سیاست کو یرغمال بنا رکھا ہے۔

اب اصل کہانی بھی سن لیجیے! ملتان میں چوک شاہ عباس سے جنرل بس سٹینڈ کی طرف جائیں توممتازآباد کے ساتھ ساتھ سڑک کنارے ایک طویل وعریض گرین بیلٹ ہے۔ ایک وقت میں اس گرین بیلٹ پر اتوار بازار لگا کرتا تھا، اسی گرین بیلٹ کے ایک کونے پر عین بی سی جی چوک میں ناجائز قبضہ کر کے اللہ کاگھرتعمیر کیا گیا۔ ملتان میں میٹرو منصوبہ شروع ہوا تو یہ مسجد اس کے راستے میں رکاوٹ بن گئی جس کو انتظامیہ کی طرف سے اس وعدے پر ہٹایا گیا کہ متبادل جگہ فراہم کی جائے گی۔ میٹرو تو بن گئی لیکن متبادل جگہ فراہم کرنے کا وقت آیا تو پی ایچ اے آڑے آ گئی، اس کاموقف ہے کہ یہاں پر بچوں کے لئے پارک ہی بنے گا۔

قبلہ شیر زمان قریشی یہ معاملہ لے کر عدالت گئے کہ پارک کی بجائے مسجد بنانے کے لئے حکم امتناعی جاری کیا جائے۔ مقدمے کی شنوائی کے موقع پر شیرزمان قریشی گاؤں کے بگڑے چودھری کی طرح کالے کوٹوں میں ملبوس اپنے چند حواریوں کے ہمراہ جسٹس قاسم خان کی عدالت میں پیش ہوا، ان حواریوں کا جتھا روسٹرم پرآیا جس کا ہرفرد اپنی اپنی ہانکنے لگا۔ جج نے جسارت کی کہ جناب آپ میں سے دلائل کون دے گا؟ جو دلائل دے گا وہ روسٹرم پر موجود رہے باقی تشریف رکھیں تاکہ میں معاملے کو سن کر کچھ فیصلہ کر سکوں۔ لیکن افتخار چودھری کی بحالی کی فتح کے نشے میں چوراس ٹولے نے اصرار جاری رکھا کہ باقی کام ہوتے رہیں گے پہلے جج حکم امتناعی جار ی کرے۔ ظاہر ہے کوئی گیا گزرا جج بھی ان حالات میں کوئی فیصلہ کر ہی نہیں سکتا، سو معزز جج نے عافیت اسی میں سمجھی کہ اٹھ کر اپنے چیمبر میں تشریف لے گئے۔ جج کا کرسی سے اٹھنا قریشی ٹولے کی طبیعت پر بہت گراں گزرا اور اس نے کمرہ عدالت سے باہر نکل کر نعرے بازی اور توڑ پھوڑ شروع کردی۔ ظاہر ہے اس واقعے کے بعد لاہور ہائی کورٹ ملتان بنچ میں تعینات ججوں نے چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ سے بات کی ہوگی کہ ان حالات میں کام کرنا تو بہت دشوار ہے۔ بادی النظر میں اسی بنیاد پر چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس منصور علی شاہ نے ملتان بنچ میں تعینات تمام ججوں کولاہور واپس بلا لیا۔ بعض اطراف سے یہ کوششیں کی گئیں کہ معاملے کو مل بیٹھ کر حل کرلیا جائے لیکن شیرزمان قریشی ڈٹ گیا کہ کسی صورت ’’سوری ‘‘ نہیں کہنا، بار کی ناک کٹ جائے گی اور انصاف مٹی میں مل جائے گا۔

ذاتی طور پر مجھے چیف جسٹس منصور علی شاہ کے بیانات پر مبنی اخبارات کی سرخیاں کچھ مناسب نہیں لگتیں لیکن بہرحال انصاف کی فراہمی کے عمل کو بہتر اور تیز کرنے کے لئے کچھ کام ان کے کریڈٹ پر ضرور موجود ہیں جن کا اعتراف نہ کرنا نا انصافی ہوگی۔ سنجیدہ وکلا اور ذرائع ابلا غ کے حلقوں میں ان کی شہرت اچھی ہے اورمذکورہ معاملے میں بھی جسٹس منصور علی شاہ نے عدالتی وقار اورملتان بنچ میں تعینات ججو ں کی عزت بحال رکھنے کی اپنی سی پوری کوشش کی لیکن قریشی ٹولہ بضد تھا کہ ان سے کوئی غلطی سرزد نہیں ہوئی۔ لیکن حیرانی مجھے یہ ہے کہ سینئر وکلا کی طرف سے بھی اس معاملے پرعدالتی بے توقیری اورمتشدد محاذ آرائی کے خلاف کوئی آواز بلند نہیں ہوئی۔

قبلہ اعتزاز احسن صاحب کو بھی دور کی سوجھی ہے فرماتے ہیں حکومت ججوں پر دباؤ بڑھانا چاہتی ہے۔ موصوف سیاسی تعصب کی اس سے بری مثال کیا ہوگی۔ سوشل میڈیا پر پروپیگنڈہ کیا جارہا ہے کہ جسٹس قاسم خان وکلا سیاست میں مداخلت کرتے تھے۔ میرے علم کی حد تک یہ الزام درست نہیں ہے، بفرض محال اگرا یسا ہے بھی تو جناب سپریم جوڈیشل کونسل کس چڑیا کا نام ہے؟ کبھی اس کو بھی زحمت دیجئے، قانون ہاتھ میں لینا کہاں کہ دانش مندی ہے؟ صورتحال یہ ہے کہ عدالت عالیہ کے حکم کے مطابق شیر زمان قریشی کو 22 اگست کو گرفتار نہیں کیا جاسکا اور عدالت کی طرف سے پولیس کوحکم دیا گیا ہے کہ اس کو 8 ستمبر تک پیش کیا جائے۔ اس دوران شیر زمان قریشی گرفتار نہ ہوا یا عدالت میں پیش نہ ہوا تو ہمیں قانون کی بالادستی پر ایک بار پھر انا للہ پڑھ لینی چاہیے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔