اک بار دکھا لاہور مجھے


میں کراچی کا رہائشی ہوں اور یہاں سے لاہور تقریباً 1271 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے لیکن حیرت انگیز طور پرمحض مطالعہ پاکستان کی کتابوں میں تصاویر دیکھ کر ہی مجھے لاہور سے ایک ان کہی انسیت سی ہوگئی تھی۔ میں ہمیشہ سے اس شہر کے بارے میں جاننا اور اسے سمجھنا چاہتا تھا۔ لاہور کے لیے کہا جاتا ہے کہ ’جس نے لاہور نہیں دیکھا اس کا ابھی جنم نہیں ہوا‘ تو اس مقولے کے حساب سے میرا جنم پہلی بار 2011 میں ہوا جب شمالی علاقہ جات سے واپسی پر جولائی کے شدید حبس زدہ موسم میں ، میں نے دو دن لاہور میں قیام کیا۔ ان دنوں کا قصہ اور اس کے بعد ہونے والے لاہور کے دوروں کا قصہ عنقریب انشا اللہ جلد ہی ایک سیریز کی شکل میں تحریر کروں گا لیکن اس سے پہلے لاہور کے بارے میں جوسب سے اہم بات میں نے محسوس کی اس پر بات کرتے ہیں۔

لاہور، پاکستان کا ثقافتی دارالحکومت ہے، لاہور پہلی بار کب بسا اس کی خبر خود لاہور کو بھی نہیں لیکن جدید لاہور کو انگریزوں نے بنایا، تیس سال سے لاہور میں میاں صاحبان کی حکومت ہے اور وہ سارے پنجاب کا پیسہ لاہور پر لگا رہے ہیں وغیرہ وغیرہ ، یہ سب تو ہیں سیاسی باتیں مجھے ان پر بات فی الحال نہیں کرنی کیوں ابھی میرا موضوع وہاں کی سیاست نہیں سماج ہے۔

میں یہ سمجھتا ہوں کہ میاں صاحبان کی حکومتیں اگر صرف پنجاب کا بھی نہیں بلکہ ساری دنیا کا بجٹ بھی لاہور میں لگادیں توبھی وہ مقاصد حاصل نہیں ہوسکتے جو کسی بھی شہر کی ترقی کے لیے ضروری ہیں اس کے لیے کچھ اور کرنا پڑتا ہے۔ موسمِ سرما میں لاہور کے دورے کے دوران مجھے احساس ہوا کہ پل اور میٹرو سب فروعی باتیں ہیں لیکن درحقیقت پنجاب حکومت نے شہر کی حقیقی ترقی کے راز کو سمجھ لیا ہے اور اب وہ سست روی سے ہی صحیح لیکن درست سمت میں گامزن ہیں۔

ہر شہر کا اپنا ایک مزاج ہوتا ہے اور اس کے باشندوں شناخت اسی مزاج کے تحت کی جاتی ہے اور کسی بھی شہر کے مزاج کی تشکیل میں اس شہرکے معاشی وسائل انتہائی اہم کردارادا کرتے ہیں۔ لاہور پاکستان کا دوسرا بڑا شہر ہے اور صنعتی ترقی کا جن اس شہر کو جس قدر تیزی سے تبدیل کررہا ہے، ایسا لگتا ہے کہ پطرس بخاری کا مضمون لاہور کا جغرافیہ جلد ہی حقیقت کا روپ دھار لے گا ، سو صنعتی ترقی کے سبب اس شہر کے معاشی وسائل تو موجود ہیں جنہیں درست انداز میں بروئے کار لاکر ہی اس شہر کے مزاج کو تشکیل دیا جاسکے گا۔

اسی بارے میں: ۔  تھل جینا چاہتا ہے

کیا آپ کے شہر کے لوگ صفائی پسند ہیں؟ اس کا اندازہ آپ کیسے کریں گے یقیناً صفائی کے معیار کو دیکھ کر لیکن نہیں، لاہور کے معاملے میں آپ کو معیار بدلنا ہوگا! لاہور میں صفائی کے انتہائی خاطرخواہ انتظامات ہیں۔ میں نے اپنی ان گناہ گار آنکھوں سے رات کو تین بجے شہر کو دھلتا دیکھا ہے اور 4 بجے سے کچرا اٹھانے کی مہم شروع ہوجاتی ہے۔ اس کے باوجود میں نے دیکھا کہ لکشمی چوک پر کچرے کے چار ڈرم ایک ساتھ رکھے ہیں اوران کے ارد گرد کچھ زندہ دلانِ لاہورکچرا پھینک کر گئے ہیں۔ یہ لاہور کا مزاج ہے، اب اگر اس مزاج کو بدلنا ہے تو صفائی کا کام جن بنیادوں پر ہوتا ہے اسے قائم رکھتے ہوئے اس میں مزید تیزی لانی ہوگی تاکہ عوام شرمندگی کے سبب ہی کچرا کھلے عام پھینکنا بند کردیں۔

ہمارے کراچی میں پولیس بدیسی ہے یعنی کہ زیادہ تر پولیس والے اجنبی لب و لہجے کے مالک ہیں لہذا عوام ان کے ساتھ کمفرٹیبل نہیں ہوتے اور وہ بھی عوام کی عزت نہیں کرتے۔ لاہور کی پولیس مقامی ہے لیکن لاہور کے جن شہریوں سے میں ملا ان کا کہنا ہے کہ یہاں حال اس سے بھی برا ہے اور یہاں لوگ پولیس سے بری طرح خوفزدہ ہیں (دروغ برگردنِ راوی) لیکن جو میں مناظر میں نے دیکھے وہ کچھ یوں تھے کہ صوبے کی روایتی پولیس کے بجائے شاہراہوں پر نظم و ضبط برقرار رکھنے کا کام ڈالفن فورس اور اسی نوع کی دیگرفورسز کے حوالے ہے اوراجنبی شہر میں موٹر سائیکل پر اکیلے گھومتے ہوئے میں نے جب بھی ان سےراستہ پوچھا تو ہمیشہ انتہائی بہتر رویہ پایا جو کہ عوام اور پولیس کے درمیان ربط کو استوار کرنے کے لیے انتہائی ضروری ہے، یہاں تک کہ میں جس موٹرسائیکل کو استعمال کررہا تھا اس کی اگلی نمبر پلیٹ نہیں تھی تو سی ایم ہاؤس کے مرکزی دروازے کے سامنے راستہ بتانے کے بعد پولیس اہلکار نے انتہائی متانت کے ساتھ مجھ سے درخواست کی اپنی نمبر پلیٹ جلد از جلد حاصل کرلیں بصورت دیگر آپ کو جرمانے کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

اسی بارے میں: ۔  سوتیلا آدمی (2)

اب آتے ہیں کچھ لاہوریوں کے رویے کے بارے میں۔ مشہور ہے کہ لاہوری راستہ صحیح نہیں بتاتے، بالکل درست ہے۔ ممکن ہے آپ مجھ سے اختلاف کریں کہ لیکن میں نے یہ محسوس کیا کہ لاہوری جان بوجھ کر ایسا نہیں کرتے لیکن ان کی ذہنی تربیت میں شاید کچھ ایسی اپچ ہے کہ وہ خود بھی تذبذب کا شکار ہوتے ہیں اور دوسرے کو بھی کرتے ہیں۔ اگر آپ نے کسی لاہوری سے راستہ سمجھنا ہے تو سب سے پہلے تو کھبے اور سجے کا فرق معلوم کریں اس کے بعد جس سے راستہ پوچھ رہے ہیں اس کی زبان کے ساتھ ہاتھ کے اشاروں پر بھی دھیان دیں۔ اگر وہ کھبے کہہ رہا ہے اور سجے ہاتھ کی جانب اشارہ کررہا ہے تو یقین کرلیجیے کہ آپ کی مطلوبہ جگہ بائیں نہیں بلکہ دائیں ہاتھ پر واقع ہے اور برا ہو پنجاب حکومت کا کہ اس نے لاہوریوں کے اس رویے کو شکست دینے کے لیے اسلام آباد کی طرز پرجگہ جگہ سائن بورڈ نصب کردیے ہیں تو تھوڑی سی ذہانت کا استعمال کرکے آپ لاہور میں آرام سے گھوم سکتے ہیں۔

تو جناب کچھ ایسا مزاج ہے ہمارے آپ کے لاہور کا، تھوڑا سا انتظار پھر لاہور پر آپ کو عنقریب مزید دلچسپ مضامین پڑھنے کو ملیں گے۔ اگر آپ کو میری لاہور کے بارے میں اختلاف ہے تو آپ کمنٹس میں اس کا بھرپوراظہار کرسکتے ہیں اوراگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا تب بھی اپنی رائے دیں تاکہ میں طے کرسکوں کہ واقعی میرا جنم ہوچکا یا ابھی لاہور ٹھیک سے دیکھنا باقی ہے۔

 


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔