ملبے سے برآمد شدہ نظم


ان دنوں ہی نہیں بلکہ کافی عرصے سے وکیلوں کے ہاتھوں ججوں کی پٹائی اور گالی گلوچ کا سلسلہ جاری تھا، فرق صرف اتنا ہے کہ پہلے یہ تماشا ’’ادنیٰ‘‘ عدالتوں میں لگتا تھا۔ اب اعلیٰ عدالتوں میں بھی یہ سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ ان شور شرابا کرنے والوں میں سینئر وکیل بھی شامل ہی نہیں بلکہ میڈیا پر آکر وہ اس بدتہذیبی کی وکالت ہی کرتے ہیں۔ اب کل کلاں انہی سینئر وکیلوں میں سےکسی نے ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کا جج بھی بننا ہے اور ہمیں ان فاضل جج صاحبان کے فیصلے بھی ماننا پڑیں گے اوراگر نہیں مانیں گے تو یہ لوگ ہمیں اندر کر دیں گے جبکہ اس وقت کوئی فاضل عدالت انہیں اندر کرنے یا ان کے خلاف کسی سخت اقدام کا حکم نہیں دے رہی۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہماری عدالتیں صرف سیاست دانوں کو سزائیں دینے کے لئے بنی ہیں۔ آپ ان دنوں سوشل میڈیا پر جائیں اور دیکھیں وہاں اس صورتحال پر کیسی کیسی ’’توہین عدالت‘‘ ہورہی ہے۔ ایک پوسٹ کا مضمون یہ ہے کہ ہمارے ہاں سرپھرے سیاست دانوں کا علاج بذریعہ عمران خان، طاہر القادری اور شیخ رشید کیا جاتا ہے۔ الٹرا سائونڈ کے لئے سپریم کورٹ کی قائم کردہ جے آئی ٹی، صحافی اور تجزیہ کار بھی دستیاب ہیں۔ایک پوسٹ اور بھی ہے ’’وکیلوں نے عدالت کے دروازوں پر ٹھڈے مارے، گالیاں دیں، دروازے توڑے اور دھمکیاں دیں لیکن شکر ہے کسی نے توہین عدالت نہیں کی!‘‘

میں آج یہ کالم آپ کو صرف دو غزلیں سنانے کے لئے لکھنا چاہتا تھا مگر درمیان میں خواہ مخواہ عدالت آگئی۔ جیسے فیس بک پر ابھی نظر پڑی تو ایک پوسٹ طاہر القادری صاحب کے حوالے سے خواہ مخواہ درمیان میں آگئی، چلتے چلتے وہ بھی پڑھ لیں: ’’جب تک شہدائے ماڈل ٹائون کا کوئی فیصلہ نہیں ہو جاتا طاہرالقادری صاحب کا نام ای سی ایل پر ڈال دیا جائے‘‘۔

اسی بارے میں: ۔  مولانا فضل الرحمن: ایم ایم اے، کشمیر کمیٹی، صد سالہ تقریبات، مولانا سمیع الحق، عمران خان

تو چلیں اب آئیں، ایک نظم اور ایک غزل کی طرف، یہ شاعری میں بلاوجہ اپنے کالم میں نہیں دے رہا، ان میں سے پہلی غزل ایک دوست نے مجھے ارسال کی تو یقین کریں، میں ایک عجیب و غریب کیفیت سے دوچار ہوا۔ میں نے سوچا جب ساری قوم سیاست کے گڑھے میںگری ہوئی ہے اور ہمارے شعراء بھی ایک گھسے پٹے راستے پر چل رہے ہیں، انہیں کچھ فکر نہیں کہ گلوبل سچوایشن کیا ہے، اندر کیا ہورہا ہے، باہر کیا ہورہا ہے، ملت کس ٹریجک صورت حال سے گزر رہی ہے، مگر ایک شاعر، جس کے نام سے میں واقف نہیں ہوں، ہمارے درمیان میں سے اٹھا ہے اور اس کے پوسٹک وژن نے یہ دردناک صورتحال پوری شاعرانہ نزاکتوں کے ساتھ ہمارے سامنے پیش کردی ہے۔ میں زیادہ تمہید نہیں باندھنا چاہتا، آپ یہ نظم پڑھیں؎

ملبے سے برآمد شدہ نظم

کسی تہران کی نیندیں نہ ٹوٹیں

کسی کابل نے انگڑائی نہیں لی

کسی شیراز سے دعوت نہ آئی

کسی بغداد سے پرسا نہ پہنچا

کسی اسپین سے رحمت نہ آئی

امیران حرم پٹرول پی کر

نواح شام کو جھلسا رہے تھے

اخیری ساعتوں کا حال یہ تھا

کہ فتوے آدمی کو کھا رہے تھے

……

کئی باجوڑ اور لاہور اجڑے

ہرے پتے شجر سے جھڑ رہے تھے

کئی فجریں مقفل ہورہی تھیں

عشائوں کی ردائیں چھن رہی تھیں

کہیں گنگا کا پانی جل رہا تھا

کہیں پر بوٹ بھاری پڑ رہے تھے

تباہی تو گلی میں گھومتی تھی

مگر سب فیس بک پر لڑ رہے تھے

اسی بارے میں: ۔  چوہدری صاحب پشاور میں احترام رمضان کیسے ہو گا؟

……

برائوزر ہسٹری میں جا کے دیکھا

کوئی تاریخ سی تاریخ نکلی

’’یہودی سازشوں‘‘ کی تہمتوں میں

بدیسی عورتوں کی بھیک نکلی

یہ غربت بھوک کے ماروں کی غربت

سہولت؟ اے پراڈو کی سہولت

نواح ایشیا! معتوب آدم

……

بہت بیکار تھا جو سوچتا تھا

وہی ’’غدار‘‘ تھا جو بولتا تھا

میں نے جب یہ عظیم شاعری پڑھی تو مجھے اسی قبیلے کے ایک تخلیقی شاعر عامر سہیل کی ایک دعائیہ نظم یاد آگئی، جو اوپر دی گئی نظم سے ملا کر پڑھی جائے تو شاید کچھ سکون آجائے۔

نگاہ بد ہو کہ دست حسد پرے رکھے

خدا وہ تیل کے چشمے سدا بھرے رکھے

سدا بلند کھجوروں کے نخل اور باغات

وہ پھول پات ثمر پیڑ سب ہرے رکھے

ریال و درہم و دینار پر نہ آنچ آئے

ہو کوئی عہد یہ سکے سدا کھرے رکھے

غزا کی پٹی کی اردن کے پانیوں کی خیر

سویز نہر پہ سایہ سدا فلک رکھے

دمشق و کابل و مشہد کا رزق تا ابد

کہیں پہ کم ہو تو اسباب دوسرے رکھے

ہو ربع خالی کہ بولان کے پہاڑ عامر

زمانہ اپنی جبیں خاک پہ دھرے رکھے

بشکریہ روز نامہ جنگ


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔