چودھری نثار۔۔۔ پیرآف چکری شریف


مسلم لیگ پاکستان کی بانی جماعت ہےلیکن قیام پاکستان کے بعد اس کی اپنی بنیادیں ہل گئیں اوراتنی ہلیں کہ اس سے ناصرف اس کی صوبائی حکومتوں کی چولیں ڈھیلی پڑگئیں بلکہ اس کے وزرائے اعظم کے گھٹنے بھی تھوڑے تھوڑے عرصے بعد جواب دینے لگے، اصل میں اس وقت کا سازشی ٹولہ اتنا طاقت ورہوچکا تھا کہ وہ کسی کوسینگ پھنسانے تو کیا نکالنے ہی نہیں دیتا تھا اور جس کے نکلتے تھے اسےکبھی غلام محمد توکبھی سکندر مرزا نکال باہر کر دیتےتھے۔ اس ابتر سیاسی صورتحال پر اس وقت کے بھارتی وزیراعظم نہرو کو یہ تک کہنا پڑا کہ وہ اتنی دھوتیاں نہیں بدلتےجتنےپاکستانی اپنے وزیراعظم بدل لیتے ہیں۔ غیرتوغیر اپنے بھی اس صورتحال پر طنز کی تیرچلانے سے باز نہ آئے، صدرسکندر مرزا کی سربراہی میں ہونے والے ایک اجلاس میں جنرل ایوب خان نےکہا کہ اگر چند دن اور گزر جاتے تو اجلاس میں سابق وزرائے اعظم کی تعداد دو تین مزید بڑھ جاتی۔ پاکستان کی یہ سیاسی مظلومیت یہیں پرختم ہوجاتی تو شائد صبرآ ۤجاتا لیکن بعد میں جا کر اس نے پاکستان کو ہی دوٹکڑے کردیا اور بقول شخصے ہمارے بزرگوں نے پاکستان بنتےدیکھا، میں نے ٹوٹتے دیکھا اورمیرے بچے کیا دیکھیں گےمجھےاس کاعلم نہیں ہے، شاید وہ نیا پاکستان دیکھیں جس کے دعوے پی ٹی آئی کے بعد اب ن لیگ اور پی پی پی والے بھی کررہے ہیں۔

 نئے پاکستان سےپہلے پرانے پاکستان اوراس کی خالق جماعت کے ایک رہنما کا قصہ سن لیجئے۔ یہ پاکستان کے قرون اولیٰ کی بات ہےابھی مسلم لیگ میں ٹوٹ پھوٹ شروع نہیں ہوئی تھی۔ خیبر پختونخوا(اس وقت کا صوبہ سرحد)میں مسلم لیگ کے پیرآف مانکی شریف کاطوطی بولتا تھا ان کا مسلم لیگ شریعت گروپ کافی تگڑا ہو چکا تھا مذہبی جماعتیں نفاذ اسلام کے لئے ایڑھی چوٹی کا زور لگا رہی تھیں ملک کی آئین ساز اسمبلی پر اس حوالے سے کافی دباؤ تھا۔ ایسے میں جب دال گلتی نظر نہیں آئی تو پیر صاحب نے 10 جون 1948 کو جہلم میں ایک بڑے جلسے سے خطاب میں لیگی قیادت کو دھمکی دی کہ “اگر پاکستان میں قانون شریعت نافذ نہ کیا گیا تو صوبہ سرحد میں پانسہ پلٹ جانے کا اندیشہ ہے جولوگ عبدالغفارکو بےاثرسمجھ رہے ہیں وہ خیالی بہشت میں رہ رہے ہیں۔ حکومت افغانستان بھی درپردہ پاکستان کےخلاف زہر پھیلا رہی ہے، فقیرایپی ہمارے زبردست مخالف ہیں اوراب سب باتوں سے زیادہ خطرناک بات یہ ہے کہ سرحد کے عوام ڈاکٹرخان صاحب کی حکومت کو زیادہ پسند کرتےہیں”۔ یاد رہےکہ فقیر ایپی (1897 تا 1960) شمالی وزیرستان کا ایک بہادر جنگجو تھا اس کا اصل نام مرزا علی خان تھا جبکہ ان کے معتقدین انہیں حاجی صاحب اور فقیر ایپی کے نام سے پکارتے تھے۔ پیرمانکی صاحب کی دھمکی تو کارگرنہیں ہوئی اور انہیں پرانی تنخواہ پر ہی گزارا کرنا پڑا بہرحال پارٹی کےاندرکون سےکھوٹے سکے ہیں ان کی کھوٹ وقت کے ساتھ ساتھ نمایاں ہوتی گئی اور پھر ہمسایہ ملک کے وزیراعظم نے شرمناک مثال دے کرہمیں شرمسار کر دیا۔

آج جب میں پیر آف چکری شریف یعنی چودھری نثارعلی خان کودیکھتا ہوں حالانکہ وہ اصل پیرنہیں، پیران سیاست ہیں، ان کی رگوں میں پرانا ہی سہی، راجپوت خون دوڑتا ہےتومجھے پیرآف مانکی شریف کی دھمکی اوربلیک میلنگ یاد ۤآ جاتی ہے کہ خطہ پوٹھوار کے یہ ہمارے گھاگ سیاست دان اپنی بات منوانے کے لئے کس طرح سے اوپرا سیریل چلاتے رہے وہ ہرباراس نیت سے سامنے آتے ہیں کہ پریس کانفرنس میں ایٹم بم چلائیں گے لیکن پھر پٹاخہ چلا کرکھسک جاتےہیں کہ جوہری دھماکا کسی اور دن پر رکھ چھوڑتے ہیں۔

اب ان کی حالیہ پریس کانفرنس سن کر تو یہی نتیجہ نکلا جوان کی پچھلی اوراس سے پچھلی پریس کانفرنس سن کربرآمد ہوا تھا کہ 95 فیصد اپنا دفاع کرنےکے بعد وہ ساتھ میں 5 فیصد کا پٹاخہ لازم پھوڑتے ہیں اورماشاء اللہ سے یہ پٹاخے بھی اتنےغیرمعیاری ہوتے ہیں کہ اس میں سے زیادہ ٹھس ہو جاتے ہیں کوئی ایک آدھ چل بھی جائے تو اس کا ڈیڑھ دو گھنٹے کی پریس کانفرنس میں اثر نہیں ہوتااورچودھری صاحب کلف لگے کاٹن کے کڑک دار سوٹ میں جس سبک رفتار سے آتے ہیں اسی رفتار سےچلے جاتے ہیں جیسے کسی بہت ہی اہم کام پر جا رہے ہوں۔

سپریم کورٹ کے 28 جولائی کے تاریخی فیصلے سے ایک روز پہلےچودھری صاحب نے ایسی ہی ایک پریس کانفرنس کی تھی جس میں انہوں نے پہلی بار حقیقی دھماکا کیا کہ وہ پارٹی، پارلیمنٹ اور وزارت کو چھوڑ رہے ہیں یہ واقعی بہت بڑی بات تھی کہ اتنے منجھے اور تجربہ کار سیاست دان کوآخرایسی کیا مجبوری پیش آگئی کہ انہیں اتنا بڑا اعلان کرنا پڑا؟ لیکن پھر بعد میں جب انہیں خود خیال آیا کہ باسی کڑھی میں کچھ زیادہ ہی ابال آ گیا ہے تو انہوں نے وہی کیا جو ایسےموقع پر کوئی روایتی سیاست دان کرتا ہے یعنی یوٹرن۔

 سیاسی پٹاخے تو ہمارے پیرآف رائے ونڈ بھی چارروز تک جی ٹی روڈ پر چلاتے رہے لیکن اس سے انقلاب آیا نہ میاں صاحب ماؤزے تنگ بن سکے اور نہ ہی ان کے تھیلے سے بلی برآمد ہوئی کیونکہ وہ سارے راستےمیں جو سیاسی تھیلا سنبھالے ہوئے تھے داتا کی نگری پہنچنے پر بھی وہ بند رہا اور اس میں سےکوئی بلی برآمد نہیں ہوئی شاید راستے میں ہی ان کے خلاف سازش کرنے والی بلی یا بقول آصف زرداری صاحب کےبلا انہیں کہیں چکمہ دے گئی ہو۔ ایک بلی زرداری صاحب کے مرحوم سسر نے بھی اس وقت نکالنے کی کوشش کی تھی جب صدر ایوب تاشقند معاہدہ کرکے آئے تھے۔ بھٹو صاحب اپنے ڈیڈی کے اس معاہدہ پر بہت ناراض تھے، ان کے خلاف مہم چلائی اور سازش بے نقاب کرنے کی بھڑکیں بھی ماریں لیکن آخر دم تک ان کے تھیلے سے بھی بلی برآمد نہیں ہوئی۔ اب ان سادہ لوح کو بھلا کون بتلائےکہ بلی تو بلی کی چال چلتی ہے جس کا کسی کوخبر تک نہیں ہوتی لیکن چکر بازوں کی چکر بازی خواہ چکری میں ہو یا کہیں اور بالاخر پکڑی جاتی ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔