نیلی کے سو رنگوں کا شاعر


اقبال نے بہت اچھی بات کہی۔ لوگ دوسروں کو برا بھلا کہنے کے نت نئے ڈھنگ نکال لیتے ہیں۔ کسی کو برا کہنا تو بہت آسان ہے۔ اس میں کچھ پلے سے نہیں لگتا۔ کہہ دیں کہ دنیا کی ہر خرابی فلاں ابن فلاں مین پائی جاتی ہے۔

ایسی ہی بات آج ایک دوست سے فون پر بات چیت میں سامنے آ گئی۔ اشارہ یہ ملا گویا یہ عاجز سرمد صہبائی کو پسند نہیں کرتا۔ بھائی کیا بات کہتے ہیں؟ سرمد صہبائی کو پسند کرنے یا ناپسند کرنے کا سوال تو بعد میں اٹھے گا۔ سرمد صہبائی کو نہیں جانا تو اردو ادب کی کم از کم پانچ دہائیاں ہم نے کھو دی۔ طرز احساس کے عین درمیان سے 30نصف صدی نکل جائے گی تو بہت بڑا خلا پیدا ہو جائے گا۔ بہت بڑا نقصان ہو جائے گا۔

مختصر بات یہ ہے کہ اگر کوئی سرمد صہبائی کو پسند نہیں کرتا تو نیلی کے سو رنگ اس پر اپنا بھید بھاؤ نہیں کھولیں گے۔ ایسے پڑھنے والے کو پل بھر کی بہشت کبھی نہیں مل پائے گی۔ اسے چاند  کا دائمی تعاقب کرنا پڑے گا۔ چاہ کے ماہ کو آخر کہیں عریاں تو ہونا ہے۔ سادہ جمع تفریق ہے۔ سادہ سود و زیاں ہے۔ ہمیں نیلی کا ہر رنگ عزیز ہے۔

آئیے سرمد صہبائی کو پڑھتے ہیں

تیرے جوبن کے موسم میں

او مٹیالی!

تیرے جسم کی سوندھی خوشبو

روئیں روئیں میں سانولی رت بیدار کرے

دل کی اور سے گہری گھور گھٹائیں امڈیں

اور میرے یہ پیاسے ہونٹ

تیرے سینے کے پیالوں میں

اسی بارے میں: ۔  ملتانی مٹی کی مہک .... رضی الدین رضی

تیرتے انگوروں کے رس کے لمس میں بھیگیں

تیری ہری بھری سانسوں کی مشک نچوڑیں

او مٹیالی

تیرے جوبن کے موسم میں

دل کے اندر غیبی سورج کے گل رنگ عجائب جاگیں

پنج پوروں پر پانچ حسوں کے پھول کھلیں

اور تو ہولے ہولے اپنے

پیار بھرے ہونٹوں سے میرا

شہد کشید کرے


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔