مصطفٰی کمال کا مائنس الطاف فارمولا


شہزاد سلیم عباسی۔۔۔

\"shahzad

کراچی میں ایک مرتبہ فارن میڈیا پرسن کی گاڑی کے ساتھ ایک پیکٹ چپکا دیا گیا اور اس پیکٹ میں تین بلٹس اور ایک پرچی رکھ دی گئیں جس میں لکھا تھا کہ آئندہ احتیاط سے کام لینا۔ کراچی کے میڈیا چینلوں کے بارے میں مشہور ہے کہ ایم کیو ایم کے حوالے سے خبر ٹی وی چینلز نامعلوم افراد کے حوالے سے چلتی ہے۔ میں اپنی زندگی کے ابتدائی ایام میں کراچی میں رہا ہوں۔ وہاں ہمارے ایک جاننے والے کی دو بار دو نئی کاریں گن پوائنٹ پر لوٹ لی گئیں اور ایک بار تو انکا ایک بیٹا اغواء برائے تاوان کے لئے اٹھا لیا گیا۔ تو وہ بتاتے ہیں کہ مجھے ہر روز فون آتے کہ بیٹا زندہ چایئے یا مار ڈالیں، پھر انہوں نے 96 کے دور میں 2 لاکھ روپے دیکر اپنا بیٹا بازیاب کرایا۔ انہوں نے بتایا کہ جس طرح کی کوڈ ورڈنگ اور خفیہ زبان وہ اغواء کار استعمال کرتے تھے اس سے تو کوئی ساؤتھ افریقن یا سری لنکن تامل لگتے تھے۔

خیر 3 مارچ 2016 کی صبح پاکستانی تاریخ کی انوکھی صبح ہے۔ سابق سٹی ناظم اور مئیر کراچی مصطفی کمال اور سابق ڈپٹی کنونیئر انیس قائم خانی کی انٹری نے پاکستانی معاشرے کی نظریں کراچی کی طرف موڑ لیں۔ کراچی کے عوام تو سیاسی ہلچل سے پریشان نئے تماشے اور شوشے کو انجوائے کرنے کے لیے سویرے سے ہی اپنے ٹی وی روم میں اپنے پرانے باس اور سٹی ناظم کی دھماکہ دار پریس کانفرنس سننے کے لیے بے چینی سے بیٹھ گئے۔ الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا پر ایک کے بعد ایک بریکنگ کا لامتناہی سلسلہ شروع ہو گیا، ٹی آر پیز کئی گنا بڑھ گئیں، پورا دن گزرا اور پوری رات۔۔ تذکرے ، تبصرے ، بیانیے، باتیں، بحثیں ، پروگرام تھے تو بس مصطفی کمال اور انیس قائم خانی پر۔میڈیا ہاوسز اور اخبار مالکان نے صبح سے ہی اپنے رپورٹرز، نیوز رپورٹرز، ایڈیٹرز، اینکرز، بیوروچیف، کیمرہ مین وہاں بھجوا دیے تھے کیو ں کہ یہ نیوز تاریخ کے چند سنسنی خیز خبروں میں سے تھی۔ ملکی ادوار میں شاید ہی کسی اکا دکا شخصیت کو یہ اعزاز حاصل ہو ا ہو جس نے ٹاپ ٹویٹر ٹرینڈ سیٹ کیا۔ سوشل میڈیا ذرائع کے مطابق جس طرح سے لوگوں نے اس آمد کی خبر کو سٹیٹس کی صورت میں لاکھوں کی تعداد میں فیس بک پر اپڈیٹ کیا اس سے پہلے کبھی ایسا نہیں ہوا۔ ریحام خان، فلم انڈسٹری کی نبض پر ہاتھ رکھنے والی اداکارہ میرا، آسکر ایوارڑ ہولڈر شرمین عبید چنائے ، ملالہ اور اسکے علاوہ بڑے بڑے واقعات کے حصے میں بھی ایسی کوریج نہیں آئی اورفیس بک کے پنڈت کہتے ہیں کہ اگر فیس بک ٹرینڈ ہوتا تو شاید مصطفی کمال \” ٹاپ فیس بک سٹیٹس اپڈیٹ ٹرینڈ\” ہوتا۔

دو سوا دو گھنٹے جاری رہنے والی طویل پریس کانفرنس میں سابق سٹی ناظم اور مئیر کراچی مصطفی کمال اور سابق ڈپٹی کنونیئر انیس قائم خانی موجود تھے۔ پریس کانفرنس شروع ہوئی تو مصطفی کمال نے مفصل گفتگو کی اور اپنی مئیرشپ کے چھے سالہ دور کا تذکرہ کیا جس میں انہوں نے اپنے دور میں معیاری کاموں اور سنہری دور کی یادوں کا تذکرہ کیا اور پھر اپنی آپ بیتی سنائی۔ انہوں نے کہا کراچی کی نظامت کے بعد میرے لیے کراچی میں رہنا نہ صرف مشکل ہو گیا بلکہ مجھے ڈر لگنے لگا کہ کہیں میرے بیوی بچوں کو کچھ نہ ہو جائے اور نظامت سے فراغت کے بعد میں کسی پوش علاقے میں کرائے پر گھر ڈھونڈ رہا تھا اورپھر 2013 کے عام انتخابات میں پی ٹی آئی کے ساڑھے آٹھ لاکھ ووٹ لینے پر الطاف حسین نے رابطہ کمیٹی کے لوگوں کو بلایا اور اپنے ورکرز کے ذریعے لیڈر شپ کی پٹائی کا کہا جس پر 18 ماہ تک ایم کیو ایم میں رہنے والے پیپلز پارٹی کے سابق رہنما نبیل گبول نے مجھے فون کر کے آنے سے منع کیا۔ الطاف حسین نے کہا تھا کہ فاروق ستار اور انیس قائم خانی کو مار مار کے نائن زیرو سے باہر کرو۔بالخصوص عام انتخابات کے بعد خوف آنے لگا کہ اب یہاں رہنا ممکن نہیں ہے۔ مصطفی کمال نے الطاف حسین پر قتل ،شراب نوشی، بھتہ خوری، تذلیل انسانیت ، را کے ایجنٹ، مفرور، غبی، کاہل اور اسکے علاوہ مختلف الزامات لگائے اور اپنی بریت ظاہر کرنے کی کوشش کرتے کرے کئی بار زاروقطا رو دیے اور یہ کہ زکوٰۃ ، فطرہ ، چندہ ، بھتہ خوری اور کھالوں کے پیسے ا لطاف حسین کی شراب ، پلاٹ اور کوٹھیاں بنانے کے لیے لند ن بھیجے جاتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ میں نظامت کا سار ا عرصہ، اس سے پہلے اور بعد الطاف حسین اور اسکے کارندوں کے زیراثر رہا ، کچھ نہیں سکتا تھا ، ڈرتا تھا۔ لیکن میں آپ لوگوں کو اللہ کا گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میں کبھی قتل و غارت گری اور بھتہ خوری وغیرہ میں ملوث نہیں رہا۔

ہر انسان اپنے پرانے پاپوں اور گناہوں کو دھونے کی کوشش کرتا ہے یہی کام مصطفی کمال نے بھی کیا ،خود اور انیس قائم خانی کو دودھ کا دھلا ثابت کرنے کے لیے میڈیا کی عدالت میں پیش کر دیا اوراپنے پرانے مسیحا الطاف حسین صاحب پر تابر توڑ حملے کیے۔ ایک دو یا تین نہیں کئی سو حملے کیے اور ایک بار بھی زبان نہ لڑکھڑائی۔ سوال یہ ہے کہ کیا آپ الطاف کے دیے گئے پروانوں کے مطابق جانوں کے نذرانے پیش کرنے والوں اور جان لینے والوں کے نام بتا سکتے ہیں؟ یہ پریس کانفرنس تو صرف آٹھ سے دس فیصد تھی باقی تفصیل ناموں کی فہرست کے ساتھ رینجرز کو کون دیگا؟ اور سابق ڈپٹی کنوینئر انیس جو کہ ایم کیو ایم کی ایدمنسٹریشن اور پارٹی ورکرز کی دیکھ بھال کرتے تھے، آج آئے ہیں اور کہتے ہیں کہ کسی کے ساتھ ظلم زیادتی نہیں ہونی چاہیے۔ جب آپ کے دور میں روزانہ کی بنیاد پر بوری بند لاشیں ملتی تھیں تو وہ کیا غریب عوام کے لئے لڈو پیڑے ہوتے تھے۔ انیس قائم خانی تویونٹ انچارجوں ، سیکٹر انچارجوں اور ورکروں پر مضبوط گرپ رکھنے والے ایم کیو ایم کمانڈر تھے۔ آپکی طرف سے بھی جرائم پیشہ افراد کی فہرست میڈیا کو پیش ہو نی چاہیے تاکہ دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو جائے۔ مصطفی کمال اپنی پارٹی کی بنیاد رکھنے کی بات کی اور پارٹی کا پرچم\” پاکستانی پرچم \”کو قراد دیا۔مصطفٰی کمال نے منشور کے نقاط بتائے کہ (1) اربن نیشنل پالیسی (2) گراس روٹ لیول (3) صدارتی نظام حکومت (4) انتظامی بنیادوں پر نئے صوبوں کی تشکیل۔ بات یہ ہے کہ آپ پچھلے تین سال کہاں رہے ڈر کے بھاگے تو آج کس کی پروٹیکشن میں آئے ؟ اگر کچھ معاملات آپکے حکمران جماعت سے طے ہو گئے ہیں تو آپ حکمران جماعت میں شامل ہو جائیں تماشے لگانے کی کیا ضرورت ہے؟ یا تو پھر آپ رابطہ کمیٹی سے پندرہ سے بیس لوگ اور دس دس سیکٹر اور یونٹ انچارجز ساتھ ملا لیں تو شاید آپ دونوں عام انتخابات میں برتری حاصل کرنے میں کامیاب ہوں۔ اوراگر یہ دونوں حضرات پلی بارگین کر کے نہیں آئے تو انہیں چپکے سے تحریک انصاف یا جماعت اسلامی میں شا مل ہو جانا چاہیے نہیں تو کیچڑ میں پاؤں مارنے سے کپڑوں پر مزید داغ لگنے کا اندیشہ ہے۔ اگر کوئی تیسری صورت نکالیں تو پھر حکومت سے ڈیل کے نتیجے میں مصطفٰی کمال اور انیس قائم خانی بھگوڑے ہی رہیں گے، کٹ پتلی اور ریموٹ کنٹرول سے استعمال ہوتے رہیں گے۔

مصطفٰی کمال نے مہاجر کارڈ استعمال کیا اور اردو اسپیکنگ کو متوجہ کر کے کہا کہ سب ایک ہو جاؤ اور الطاف حسین کی غلط پالیسیوں کو چھوڑدو جس کی وجہ سے ہم تعلیم یافتہ سے جاہل اور تہذیب یافتہ سے بد تہذیب ہو گئے اور روشنیوں والے شہر سے افریقہ کا جنگل بن گئے۔ میں سمجھتا ہوں کہ مصطفٰی کمال اپنی پارٹی کا خوبصورت فرنٹ فیس ہیں جو کہ اپنی لیاقت اور تدبر میں کمال ہیں اور عوام کے لیے ایک روشن پولیٹکل فیس اور پرائیڈ ہیں اسی طرح انیس قائم خانی بھی انتہائی بصیرت کے حامل انسان ہیں جو کہ پارٹی کو انتظامی حوالوں سے چلانے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔ اگر یہ دونوں صاف پاک پانی سے اشنان کر کے اپنے سرکردہ گناہوں کی معافی مانگ کرمجرموں کے نام عدالتوں میں جمع کرائیں تو یقیناً مائنس الطاف فارمولا کامیاب بھی ہو گا اور مصطفٰی کمال کراچی کے افق پر ابھرتا کمال کا ستارہ ثابت ہوگا۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔