سیاست ہر روز کروٹ بدل رہی ہے: خورشید شاہ


khorsheed shahقومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف خورشید شاہ نے ایم کیو ایم کو ایک بار پھر اسٹیبلشمنٹ کی ’بے بی‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ لگتا ہے ایم کیو ایم کو پالنے والے ان سے ناراض ہو گئے ہیں۔
لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ پنجاب میں کرپشن ہے یا نہیں مجھے اس کا نہیں پتہ لیکن ملک میں سیاست ہر روز کروٹ بدل رہی ہے، نیب نے پنجاب میں کارروائی کا آغاز کیا تو (ن) لیگ اور صوبائی وزراءکی چیخیں نکل پڑیں، 2، 3 وزرا کی تو ٹیپ بھی منظر عام پر آ چکی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اندر بہت کچھ ہے۔
شہباز شریف کے کرپشن ثابت ہونے پر سیاست چھوڑنے سے متعلق پوچھے گئے سوال پر خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ جب ماڈل ٹاو¿ن کا واقعہ ہوا تو اس وقت بھی شہباز شریف نے کہا تھا کہ اگر مجھ پر الزام ثابت ہو گیا تو میں سزا کیلئے تیار ہوں لیکن جب پہلی انویسٹی گیشن رپورٹ سامنے آنے لگی تو اسے روک دیا گیا کیونکہ اس میں ان پر الزام ثابت ہو رہا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میٹرو میں 72 بسیں ہیں اور ایک بس ایک ارب روپے خرچ کئے گئے، اورنج لائن ٹرین کا پروجیکٹ بھی 200 ارب روپے کا ہے، منصوبے سے ڈھائی لاکھ سے زیادہ مسافر فائدہ نہیں اٹھا سکیں گے، اس میں 600 روپے فی کس خرچہ ہے جس میں 50 روپے پنجاب حکومت وصول کر رہی ہے جب کہ 550 روپے سبسڈی دی جا رہی ہے جس کی لاگت 10 ارب روپے کے قریب بنتی ہے۔
انھوں نے کہا کہ اتنے مہنگے پراجیکٹ لانے کے پیچھے کیا راز ہے یہ تو آنے والے وقت میں پتہ چل جائے گا لیکن لاہور کی آبادی تو 70 لاکھ افراد پر مشتمل ہے تو آپ کو ایسا پراجیکٹ لانا چاہیے جس سے 70 لاکھ افراد مستفید ہوں۔ دوسری بات یہ ہے کہ پنجاب کا بجٹ 400 ارب روپے ہے جس میں سے صرف لاہور کا بجٹ پورے جنوبی پنجاب سے 3 گنا ریادہ ہے، یہ سب چیزیں تو تحقیقات کے بعد ہی سامنے آئیں گی لیکن اب جب نیب کو تحقیقات سے روکا جا رہا ہے تو نا انویسٹی گیشن ہو گی اور نہ استعفیٰ آئے گا۔
مصطفی کمال کے الزامات کے حوالے سے اپوزیشن لیڈر کا کہنا تھا کہ حقیقی طور پر دیکھا جائے تو ایم کیو ایم اسٹیبلشمنٹ کی ’بے بی‘ رہی ہے اور جنرل ضیائ الحق نے اس کو پال پوس کر بڑا کیا، اب جب ایم کیو ایم بالغ ہو گئی ہے تو اس نے نخرے دکھانا شروع کر دیئے ہیں، ایسی صورت حال میں پالنے والے بڑے ناراض بھی ہو جاتے ہیں۔
خورشید شاہ نے کہا کہ ایل این جی ڈیل 1700 ارب روپے میں ہوئی ہے اور یہ ڈیل تقریباً ڈھائی سال سے چل رہی تھی، ہم پارلیمنٹ میں چیخ چیخ کر تھک گئے کہ اس ڈیل سے متعلق بتایا جائے لیکن کچھ نہیں بتایا گیا، ہمیں اس لئے نہیں بتایا گیا کہ اگر اب بتایا گیا تو انٹرنیشنل آئل پروڈیوسنگ کمپنیاں درمیان میں آ جائیں گی اور اپنے ریٹ اوپن کر دیں گی۔ آج دنیا میں ایل این جی کی پوزیشن یہ ہے کہ سارے ایل این جی پیدا کرنے والے ملک پریشان ہیں کہ ہم سے کوئی ایل این جی خریدے کیونکہ امریکا 60 فیصد ایل این جی کا خریدار تھا اور جاپان بھی 12 فیصد تک ایل این جی کا خریدار تھا، اب 75 فیصد ایل ایک جی کے خریدار انٹر نیشنل مارکیٹ سے پیچھے ہٹ گئے ہیں، ایسی صورت حال میں ہم کم سے کم ریٹ میں ایل این معاہدہ کر سکتےتھے، بہت سی باتیں لکھی اور کہی جا رہی ہیں، سب کو سمجھ آتا ہے کہ کچھ نہ کچھ تو گربڑ ہوئی ہے۔


Comments

FB Login Required - comments