میں چاند ہوں یا داغ ہوں؟


سب سے پہلے تو یہ طے کرنا ہوگا کہ کیا یہ یا کوئی بھی معاشرہ فنون لطیفہ کے بغیر آگے بڑھ سکتا ہے؟ اگر ہان تو آج وہ فنکار، وہ شاعر وہ موسیقار اور وہ رقاص کہاں ہیں؟ پکھاوج سرود اور گھنگرو کیوں سنائی نہیں دیتے؟ آج ہم میراث اور ثقافت کے نام پر اپنے بچوں کو کیا سکھا رہے ہیں؟
ہمارے نزدیک فن محض دل بہلاوے کا سامان ہے۔ ہم آج تک اس سے آگے نہ سوچ پائے نہ بڑھ پائے۔ ہمارا معاشرہ یہ ماننے کو تیار ہی نہیں کہ فن کا تعلق ہماری روز مرہ زندگی سے لے کر معاشی معاشرتی سیاسی اور انسانی ترقی کی روح سے ہے۔ فن محض موسیقی، رقص تھیٹر مصوری اور شاعری نہیں۔ یہ ایک سوچ ہے، ایک عمل ہے، ایک فکر ہے، ایک بات ہے۔ یہ ایک طرز زندگی ہے۔ ہمارا اٹھنا بیٹھنا کھانا پینا دیکھنا پرکھنا سب فن ہے۔

فن کسی کنبے قبیلے علاقے گھرانے یا جنس کی میراث نہیں۔ یہ ایک طرز زندگی ہے جو ہر طرح کی علاقائی نسلی مذہبی اور جنسی تفریق سے بالاتر ہے کسی بھی سماج کے پنپنے کے لئے اس سماج کا فنون لطیفہ سے جڑا ہونا لازم ہے۔ جہاں ادب موسیقی اور شاعری سوچ اور افکار کے ارتقا کے لئے ضروری ہیں وہیں رقص تھیٹر اور مصوری ان کی عکاسی کے لئے لازم۔ ایک مثبت اور مضبوط معاشرہ فنون لطیفہ کی گہری بنیادوں پر ہی ٹک سکتا ہے

یہ سب شاید تب تک سمجھ نہ آ پائے جب تک ہم اس تمام تر صورت حال میں تمام انسانوں بالخصوص عورت کے مقام اور اس کے کردار کا خلاصہ نہ کر لیں۔ عورت کا کردار ہے کیا؟ ہم آج بھی عورت کو گھر سے منسلک کرتے ہیں۔ ہم یہ تو مانتے ہیں کہ اس کے دم سے زندگی میں رنگ ہے پر اگر وہ رنگوں سے کھیلنا چاہے تو بے رنگ کر دی جاتی ہے۔ وہ ایک زرخیز زمین ہے جو خاندان کی نسل آگے بڑھاتے ہوے اچھی لگتی ہے پر کہیں وہ اس زمین میں جڑ پکڑ جائے تو اجاڑ دی جاتی ہے۔ وہ آنگن کا چاند ہے پر اگر یہ چاند کھلے آسمان میں کھلنا چاہے تو اس میں داغ دکھائی دینے لگ جاتے ہیں۔

اچھی عورت کی پہچان آج بھی اس کے صبر اور قربانی سے ہوتی ہے۔ اپنی شرائط پر جینے والی آج بھی بد کردار، بد لحاظ اور بد تہذیب ہوتی ہے۔ اس پر اگر اس کا تعلق فنون لطیفہ سے، بالخصوص رقص اور موسیقی سے ہو تو واہ واہ۔ وہ بد کردار بد لحاظ اور بد تہذیب ہونے کے ساتھ ساتھ حرافہ اور طوائف کے القاب سے بھی نوازی جاتی ہے۔ بچیوں کو اس سے عبرت اور بچوں کو دور رہنے کی ہدایت دی جاتی ہے۔ ایسے میں کون عورت اس خار دار پتھریلی ڈگر کا رخ کرے گی؟

سوال یہ ہے کہ عورت کا اس صنف سے جڑنا کیوں ضروری ہے؟ عورت ہر گھر کا مرکزہ ہوتی ہے۔ وہ گھر کی روح رواں ہے۔ فن کا تعلق روح سے ہے۔ اس سے وابستہ لوگوں کے لئے ایک ہی چیز ضروری ہے۔ تخلیق۔ یہ عمل انہیں مثبت رکھتا ہے، خوش رکھتا ہے، پرسکون رکھتا ہے، سیر رکھتا ہے۔ تخلیق کا امر نہ صرف انسان کا اپنا تزکیہ نفس ہوتا ہے بلکہ یہ اتنی مثبت توانائی پیدا کرتا ہے کہ آپ زندگی کا ہر کام بخوبی کر پاتے ہیں۔

عورت نہ صرف ہر گھر کی روح رواں ہے بلکہ تخلیق کے امر کا چلتا پھرتا ثبوت ہے۔ وہ تخلیق کا فن جانتی ہے۔ اگر وہ مکان کو گھر بنا سکتی ہے اور انسانی نسل آگے بڑھا سکتی ہے تو ہم اسے معاشرے کی تخلیق سے دور کیوں رکھتے ہیں؟ کیوں وہ سراپا سر نہں بن سکتی؟ کیوں بے جان شاعری میں روح نہں پھونک سکتی؟ کیوں خیالات اور تصورات میں حقیقت کے رنگ نہں بھر سکتی؟
وہ معاشرہ جس میں فن اور فنکار نہں اس میں صرف انتشار نظر آتا ہے۔ وہ گھر جہاں تخیلاتی کام نہں ہوتا وہاں محض رنجشیں گلے اور شکوے نظر آتے ہیں۔ ایک معاشرہ جہاں فن اور فنکار پنپتے ہیں وہاں برائی کی گنجائش نہں رہتی۔ جہاں تخلیقی اور روحانی عمل زندگی کا حصّہ ہوتا ہے وہاں منفی خیالات اور سوچ کا جواز نہں رہتا۔ اس ماحول میں پروان چڑھنے والے لوگ ایک مثبت سوچ رکھتے ہیں۔ ان کے اندر کا سکون انہیں معاشی معاشرتی اور جذباتی اعتبار سے مستحکم بناتا ہے۔ ان کی خوشی کا انحصار بے جان کاغذ کے ٹکڑوں اور اشیاء پر نہں بلکے تخلیق کے عمل پر ہے۔ فنکار کا صرف فن نظر آتا ہے اور جہاں فن نہ ہو وہاں صرف عیب۔

ہم عورت کو فنکار نہں مانتے۔ عورت موٹی ہو سکتی ہے، دبلی ہو سکتی ہے، کم رو ہو سکتی ہے، حسین ہو سکتی ہے، اچھی اور بری بھی ہو سکتی ہے، تو کیا فنکار نہں ہو سکتی؟ اگر وہ موٹی ہے تو ناچ نہں سکتی، بد رنگ ہے تو تھیٹر نہں کر سکتی۔ کیا بیٹی بہن ماں اور بیوی کے نام کی بیڑیاں کافی نہں تھیں کہ ظاہریت کی زنجیریں بھی پہنا دی گئی ہیں۔ ہم آج بھی عورت کو برتنے کی چیز سمجھتے ہیں۔ اس کے ہاتھ میں عزت کی مشعل تھما دی جاتی ہے۔ اس تپتی جلتی مشعل کو تھامے وہ ایک گھر سے دوسرے گھر چلی جاتی ہے۔ گھر کی ذمہ داری کے ساتھ ساتھ اس پر خاندان کی حرمت اور ساکھ کی پاسداری کا بوجھ بھی لاد دیا جاتا ہے۔ وہ ان کبھی نہ دکھنے والی مضبوط زنجیروں میں قید رہتی ہے۔ یہ معاشرہ آج تک عورت کی زنجیریں نہ دیکھ پایا تو اس کا فن کیا پرکھے گا۔

اگر عورت کی پھونک سے چولہا جل سکتا ہے تو محبّت کی لو کیوں نہں؟ کیوں ہم اس کو وہ ساز نہں دیتے جس پر وہ اپنی زندگی کی دھن چھیڑ سکے؟ ہم اسے کھل کر جینے نہں دیتے، کھل کر محبّت نہں کرنے دیتے، بات کرنے نہں دیتے، یہاں تک کہ کھل کر مرنے بھی نہں دیتے، تو ہم اسے کھل کر ناچنے گانے اور اپنی بات کہنے کیسے دے سکتے ہیں۔ وہ باتیں جو وہ لکھ سکتی ہے، گا سکتی ہے، کسی کردار میں ڈھال سکتی ہے سب ان کہی رہ جاتی ہیں۔ اندر ہی اندر جلتی سلگتی کڑھتی ناسور پالتی رہتی ہے۔ یہ کڑواہٹ اور گھٹن اسے اندر سے مردہ کر دیتی ہے۔ وہ وقت کے ساتھ ساتھ ایک بہتے دریا سے جھیل بن جاتی ہے۔ دیکھنے میں خوبصورت پر رکی ہوئی اور خاموش۔ اس میں پتھر پھینکنے سبھی آتے ہیں۔ کچھ دیر کو دائرے بنتے ہیں اور پھر وہی خاموشی۔

فن کی تخلیق زندگی کی علامت ہے، بہتا پانی ہے۔ مٹی زرخیز رکھتا ہے۔ اور اس کا نہ ہونا موت۔ اگر معاشرے کو زندہ رکھنا ہے تو عورت کے ہاتھ سے حرمت اور ساکھ کی جلتی مشعل لے کر قلم، سر اور ساز پکڑانا ہوگا۔ اس کی سوچ کا احترم کرنا ہوگا۔ اسے آزاد کرنا ہوگا۔ وہ لکھے ناچے گائے وہ ہر حال میں قابل احترم ہنے۔ وہ آسمان کا چاند ہے داغ نہیں۔

انجمن ترقی پسند مصنفین اسلام آباد کے اجلاس میں پڑھا گیا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

زینب ڈار کی دیگر تحریریں
زینب ڈار کی دیگر تحریریں

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں