لطیفے کی سائنس اور شادی کا آرٹ


لطیفہ وہ چیز ہے جو ہمیشہ اس پارٹی کے خلاف بنایا جاتا ہے جس سے کسی بھی قسم کا بدلہ لینا ہو یا کوئی پرانا حساب چکانا ہو۔ ہمارے قومی مزاح کے مطابق سکھ میں عقل ہو ہی نہیں سکتی، ہندو ڈرپوک اور کنجوس ہوتا ہے، بنگالی بھوکا ہوتا ہے اور بیوی پر تو کچھ بھی کہا جا سکتا ہے۔ لطیفے کی سائنس ایسی ہے کہ اس میں فخر، غرور یا برتری کا ایک جذبہ اکثر اوقات کہیں نہ کہیں جھلک دکھا رہا ہوتا ہے۔ یہ نہ ہو تو لطیفہ کرارا نہیں رہتا۔ جیسے ہمارے یہاں سکھوں کے لطیفے سنائے جاتے ہیں‘ اگر سکھ کی جگہ اس میں پنجابی کہہ دیا جائے تو اس طرح ابل کر قہقہہ نہیں آئے گا۔ وجہ کیا ہے کہ پنجابی تو سرحد کے دونوں طرف ہو سکتے ہیں۔ جہاں ہلکا سا گمان بھی ہو گا کہ معاملہ اپنی طرف مڑ رہا ہے وہاں لطیفے کی آنچ آدھی رہ جاتی ہے۔ اسی طرح بیویوں پر بنے لطیفوں میں اگر لفظ ’عورت‘‘ استعمال کر لیا جائے تو ان کا دف بھی پچھتر فیصد تک مر جائے گا۔ سوچنا چاہیے کہ لطیفہ صرف بیوی پر کیوں بنتا ہے؟ ایک عام مرد ساری عمر مختلف عورتوں کو دیکھتا ہے، کبھی کبھار ٹھنڈی آہ بھر سکتا ہے، مقدور بھر ہاتھ پاؤں مارتا ہے‘ لیکن کوئی ایک عورت جب بیوی بن گئی تو سارے کے سارے لطیفے اس کی طرف منتقل کیوں ہو جاتے ہیں؟ شریف سے شریف مرد‘ جس کی ساری زندگی گھر اور دفتر میں گردن جھکائے یس سر کرتے گزری ہو گی‘ وہ بھی کم از کم ایسے لطیفوں کی صورت میں بھڑاس ضرور نکالے گا، مسئلہ کہاں ہے؟

شادی دو انسانوں کے اکٹھے رہنے کی وہ شکل ہے جو معاشرہ اور عقائد اپروو کرتے ہیں۔ شادی دو طریقوں کی ہو گی، وہ ارینج میرج ہے، یا وہ لَوّ میرج ہے، تیسری کوئی شکل اگر اس رشتے کی ہو گی تو وہ انہیں دونوں سے مشتق ہو گی۔ کبھی حالات کا جھکاؤ ارینجمنٹ کی طرف زیادہ ہو گا کبھی ذاتی دلچسپی زیادہ شامل ہو گی۔ شادی جس طرح بھی ہو، شروع کے چند برس بعد ہر جوڑا ایک نارمل میاں بیوی کی طرح ہو جاتا ہے۔ دونوں کو شکایتیں ہوتی ہیں، دونوں کو مسائل ہوتے ہیں، دونوں سمجھتے ہیں کہ دوسرا غلط ہے، دونوں بحث کرکے یا لڑائی کرکے تھک جاتے ہیں لیکن اگلے دن پھر تازہ دم ہوتے ہیں۔ جب ساری چِک چِک کے بعد وہ مرحلہ آ جائے کہ جہاں دو یا دونوں میں سے ایک انسان یہ جان لے کہ ڈفرنسز ہمیشہ رہتے ہیں اور بہترین حل بحث سے بچنا ہے تو پھر لطیفوں میں پناہ ڈھونڈی جاتی ہے۔ انہیں لگتا ہے کہ یہ لطیفے بنیادی طور پر ان کے دل کی آواز ہیں، ساری فرسٹریشن گھر سے باہر یا موبائل پر آنے والے لطیفے پڑھ کر اور قہقہے لگا کر اڑا دی جاتی ہے۔ سوال اٹھتا ہے کہ تقریباً پچانوے فیصد شادیاں اس موڑ پر پہنچتی کیوں ہیں‘ جہاں ہر عورت ایک روایتی بیوی بن جاتی ہے اور ہر مرد ایک روایتی شوہر بننے میں پناہ ڈھونڈتا ہے۔

شادی پیار کی ہو یا ارینجڈ ہو، وہ منزل نہیں ہوتی، وہاں کہانی ختم نہیں ہوتی، وہ آغاز ہوتا ہے۔ سمجھا جاتا ہے کہ شادی ہونا کسی مرحلے کا طے پانا ہے۔ ایسا ہرگز نہیں۔ شادی ہونا زندگی کے ایک فیز کا شروع ہونا ہے۔ ایسا فیز جو آپ کی اکیلی جان کو دو اور پھر تین، چار، پانچ انسانوں میں بدل دیتا ہے۔ تو یہ ایک سفر ہوا کہ جس کی منزل کوئی نہیں ہے، جب تک زندگی ہے تب تک سفر جاری رہنا ہے۔ جب اس سفر کا آغاز کیا تو صورتیں دو ہی تھیں۔ ارینج والی صورت میں یوں ہوا کہ فزیکلی پہلے مل لیے بعد میں آہستہ آہستہ ایک دوسرے کی پسند ناپسند کا معلوم ہوا، ترجیحات کا پتہ لگا، مزاج سے آگاہی ہوئی، کوشش کی کہ جتنی ممکن ہو دوسرے کی ٹیوننگ کر لیں، کبھی گربہ کشتن روز اول ہو گیا اور کبھی بلی فریق مخالف نے مار دی تو کچھ عرصہ ایسے ہی نکل گیا۔ اب جو وقت گزرا اس میں باوجود تمام کشمکش موجود ہونے کے ایک عادت ڈویلپ ہو گئی۔ دونوں کو ہو گئی، اس عادت کو محبت کا نام دے دیا گیا، وہ نام غلط تھا۔

محبت اکٹھے رہ کر ازدواجی زندگی گزارنے کا نام ہوتی تو بیویوں کے لطیفے اتنے مشہور نہ ہوتے، کبھی کسی نے محبوبہ کے خلاف لطیفے کہے؟ کبھی سنائے گئے؟ تو وہ جذبہ جس کے تحت ساتھ رہے، اولاد ہوئی وہ محبت نہیں تھا۔ وہ ایک سماجی بندھن کو تسلیم کرتے ہوئے اکٹھے وقت گزارنے کی عادت تھی جس میں نہ ایک دوسرے کے لیے اصلی والا احترام تھا اور نہ محبت تھی، وہ رشتے کا تعلق تھا، رشتے کا بھرم تھا۔ محبت کا تو معمولی ترین چلن یہ ہے کہ جس کو چاہتے ہیں اس کی ہر بات کو برداشت کیا جائے اور پھوٹے منہ کچھ باہر نہ نکلے۔ یہ شوہر کرے گا تو زن مرید کہلائے گا، بیوی کرے گی تو لوگ سمجھیں گے ڈرا دھمکا کر قابو کیا ہوا ہے، لیکن جن گھروں میں برداشت، رواداری، درگزر، باہمی احترام کی روایت موجود ہو گی وہاں بہرحال یہ سفر دونوں فریقین میں سے ایک کے ختم ہونے تک پیار محبت سے پورا ہو جائے گا۔

اس سفر کی دوسری صورت لَوّ میرج تھی۔ اس میں ہوا کہ پہلے کہیں ایک دوسرے کو دیکھ لیا، بات چیت ہو گئی، پھر لمبے لمبے فون چلے، پھر ملاقاتیں ہوئیں، پھر ایک دوسرے کے قریبی دوستوں کو آہستہ آہستہ دور کیا گیا، پھر خود تھوڑا نزدیک آئے اس کے بعد پراپرلی رشتہ بھیج دیا گیا۔ رشتہ جانے کے بعد ہر جوڑا الگ ری ایکشنز دیکھتا ہے۔ اس دور میں بھی سو طرح کے وعدے ہوئے، قسمیں کھائی گئیں، سب کچھ جیسے تیسے ہو گیا تو شادی ہو گئی۔ یہاں سیانوں کے مطابق روحوں کا ملاپ تھا کہ دونوں ایک دوسرے کو پہلے سے جانتے تھے۔ اب ادھر رولا یہ ہوا کہ محبت تو بہرحال پہلے سے موجود تھی لیکن وہ اپنے ساتھ تین ہزار چھ سو پینتیس توقعات بھی لے کر آ گئی۔ شروع کا وہ عرصہ جو ارینج میرج والے ایک دوسرے کو جاننے میں گزارتے تھے اس کیس میں وہ عرصہ ایک دوسرے کی توقعات پہ پورا اترنے میں لگ جائے گا۔ کچھ عرصے صبر کرنے کے بعد دونوں پر یہ راز کھلے گا کہ بھئی امیدوں پہ فرشتہ بن کے بھی پورا نہیں اترا جا سکتا‘ بہتر ہے انسان بنا جائے‘ اور زندگی گزاری جائے۔ یہاں محبت پہلے افسوس میں بدلے گی اور اس کے بعد وہی ایک دوسرے کی عادت میں بدل جائے گی۔ جذبہ ادھر بھی ختم ہو جائے گا بات روٹین پر چلی جائے گی، جب بات اس موڑ آ گئی تو لطیفے خود بخود اچھے لگنے شروع ہو جائیں گے۔ باہمی احترام کا جذبہ کم ہو جائے اور زندگی کی ڈور زبردستی بندھے رہنے کا احساس ہو تب کم سے کم جو کیا جا سکتا ہے وہ مخالف فریق کا مذاق اڑانا ہے۔

دوسری یا تیسری شادی کرنے والوں سے بھی پوچھا جائے تو معلوم تجربہ یہ ہو گا کہ جیسے بریف کیس ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ میں شفٹ کر لیا۔ توقعات اور احساسات کی وہی کہانی دوبارہ سے چلنی شروع ہو جائے گی اور بریک کہیں نہیں لگے گی۔ اس رشتے کو بوجھ بننے سے بچا لینا صرف اسی صورت ممکن ہے کہ دونوں انسان ایک دوسرے کو جیتا جاگتا وجود سمجھیں، اپنی ملکیت سمجھنا یا حد سے زیادہ توقعات باندھ لینا مایوسی پیدا کرتا ہے، اس سے بچا جائے اور سب سے اہم بات یہ کہ بھئی اپنے مسئلے اپنے گھر میں حل کیجیے۔ نہ دوست یار ازدواجی مسائل میں کوئی خاص کام آ سکتے ہیں، نہ ہی بہن بھائی ماں باپ معاملے کی گریویٹی سمجھ سکتے ہیں۔ جو کرنا ہے آپ کو خود کرنا ہے اور بات چیت ہر مسئلے کا حل ہے۔ رہ گئے لطیفے یا ہر کام میں کیڑے نکالنا تو جب دلوں میں عزت ہی نہیں رہ گئی پھر جو مرضی کیا جائے۔ شادی کا انسٹیٹیوٹ بہرحال طرفین کے تعاون اور سمجھ بوجھ کے بعد ہی محبت کے رشتے میں بدل سکتا ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

حسنین جمال

حسنین جمال کسی شعبے کی مہارت کا دعویٰ نہیں رکھتے۔ بس ویسے ہی لکھتے رہتے ہیں۔ ان سے رابطے میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں۔ آپ جب چاہے رابطہ کیجیے۔

husnain has 474 posts and counting.See all posts by husnain