معذور افراد کا پاکستان میں کوئی وجود نہیں ہے


پاکستان کی چھٹی مردم شماری کے ابتدائی نتائج جاری کر دیے گئے۔ جس کے مطابق پاکستان کی کل آبادی 20 کروڑ 77 لاکھ 74 ہزار 520 ہو گئی ہے، گزشتہ 19 سال میں آبادی میں اضافے کی شرح 2، 4فیصد ہے۔ دیہی علاقوں کی آبادی 13 کروڑ 21 لاکھ 89 ہزار532، شہری آبادی 7 کروڑ 55 لاکھ 84 ہزار989 ہے۔ آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑا صوبہ پنجاب ہے جس کی آبادی 11 کروڑ 12 ہزار 442، سندھ 4 کروڑ 78 لاکھ 86 ہزار 51، خیبر پختونخواہ 3 کروڑ 5 لاکھ 23 ہزار 371، بلوچستان 1 کروڑ23 لاکھ 44 ہزار 408، فاٹا 50 لاکھ ایک ہزار676، اسلام آباد 20 لاکھ 6 ہزار572 ہے۔ ملک میں مردوں کی تعداد 10 کروڑ، 64 لاکھ 49 ہزار 322 اور خواتین کی تعداد 10 کروڑ 13 لاکھ 14 ہزار 780 ہے پاکستان میں تیسری جنس (خواجہ سرا) کی تعداد 10 ہزار 418 ہے۔
جبکہ مردم شماری کے ابتدائی نتائج کے مطابق پاکستان میں بسنے والا ایک بھی فرد ایسا نہیں جو کسی بھی معذوری کا شکار ہو۔

پاکستان کی سب سے بڑی اقلیت اس وقت معذور افراد ہیں ، مختلف اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کی کل آبادی کا 15 فیصد حصہ کسی نہ کسی معذوری کا شکار ہے۔ مردم شماری شروع ہونے سے پہلے پاکستان کے معذورافراد نے سوشل میڈیا پر ایک کمپین ”ہمیں شمارکریں“ کے ذریعے حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ مردم شماری کے مین فارم نمبر 2 میں معذور افراد کو شمار کیا جائے اور چیف جسٹسس سپریم کورٹ آف پاکستان سے بھی مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ اس مسلئے کا نوٹس لیں۔

سپریم کورٹ آف پاکستان نے 16 مارچ 2017 کو وفاقی حکومت اور ادارہ شماریات پاکستان کو حکم دیا کے مردم شماری میں معذور افراد کو شمار کرنے کے متعلق لاہو ر ہائی کورٹ کے فیصلے پر عمل کریں۔ لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس، جسٹس منصور علی شاہ نے وفاقی حکومت اور ادارہ شماریات پاکستان کو حکم دیا تھا کہ مردم شماری کے مین فارم 2اے کے کالم نمبر 3 جنس میں معذور مرد کے لیے کوڈ 4، معذور عورت کے لیے کوڈ 5 اور معذور مخنث (خواجہ سرا) کے لیے کوڈ 6 لکھا جائے۔ عدالت نے ریماکس دیتے ہوئے کہا تھا کے معذور افراد کو دیوار سے نہیں لگانے دیں گئے، مردم شماری میں انہیں لازماً شمار کیا جائے۔

25 اگست 2017 کو ادارہ شماریات پاکستان نے مردم شماری کے ابتدائی نتائج کا اعلان ایک پریس رلیز کے ذریعے کیا تو ان نتائج کے مطابق پاکستان میں ایک بھی فرد ایسا نہیں تھا جو معذوری میں زندگی گزار رہا ہو۔ ملک میں 19 سال کے طویل عرصے بعد ہونے والی مردم شماری میں ایک بار پھر سپریم کورٹ اور لاہو ہائی کورٹ کے حکم کے بعد بھی افراد باہم معذوری کو شمار نہیں کیا گیا۔
اب تک لاکھوں لوگ دہشتگردی اور ایکسڈنٹ سے متاثر ہو کر معذور ہو چکے ہیں، پولیو ابھی پاکستان سے ختم نہیں ہو سکا، ہمارے دیہی علاقوں میں اب بھی لوگ معذوری کے متعلق شعور آگہی نہیں رکھتے جس وجہ سے معذور افراد مقید ہیں اپنے ہی قدموں میں۔ جب تک ریاست معذور افراد کو شمار نہیں کرے گی تب تک ان کے معاشرہ میں شمولیت کے منصوبے کیسے تیار کرے گی؟
میں بھی ایک معذور فرد ہوں ”میری معاشرہ میں شمولیت کیسے ہوگی“ مجھے شمار نہیں کیا گیا۔
میرا وجود پاکستان میں نہیں۔

RELITED LINKS:
https://www.youtube.com/watch?v=digbOWZX0Ss
https://www.thenews.com.pk/print/185946-Special-persons-launch-campaign-Humein-Shumar-Karein
http://www.datastories.pk/census-2017-and-disability/
https://www.dawn.com/news/1320852

 

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

نادر خان کی دیگر تحریریں
نادر خان کی دیگر تحریریں

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں