منشی اتاڑ کا دیس راج گھر نہیں پہنچا


نانی اماں کو اگست کے مہینے سے گھن آتی ہے۔ کہتی ہیں شدید حبس اور عجیب گھٹن کا موسم ہوتا ہے اس ماہ میں۔ آج سے ستر سال قبل اسی اگست کے حبس میں سورج آگ برسا رہا تھا جب ان کے گاؤں کے ہندو اپنا سب کچھ چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔ پیپل کی ٹھنڈی چھاؤں سے نکلے اور اگست کی گھٹن اور دھوپ لیے ان دیکھی منزل کے راہی ہوئے۔ اپنا گھر بار، مال مویشی، زمیں، کاروبار، دوست احباب سب پیچھے چھوڑ کر بے سرو سامان جانے والے قافلے میں نانی اماں کی دو سہیلیاں بھی تھیں۔ نند لال کی پوتیاں۔ کیلاش اور پاش۔ بارہ تیرہ برس کی وہ بچیاں گھر کی لاڈلیاں تھیں۔ سن سنتالیس کے اگست کی سخت دھوپ میں ان کو بھی کٹھن راہوں پہ چلنا پڑا تھا۔

بٹوارے کے وقت نانی اماں چودہ برس کی تھیں۔ ان کا گاؤں منشی اتاڑ منچن آباد کے قریب واقع ہے۔ وہ بٹوارے سے پہلےکے منشی اتاڑ کو یاد کرتی ہیں جب ہندو مسلمان اکٹھے بستے تھے۔ نانی اماں بتاتی ہیں کہ گاؤں میں بسنے والے ہندو خوشحال تھے۔ تارا اور کشمیری لال چھوٹے زمیندار تھے۔ گاؤں کے بڑے زمیندار دو بھائی تھے۔ تلسی داس اور نند لال۔ گاؤں کی ڈیرہ داری اور نمبرداری تلسی داس کے پاس تھی۔ تب گاؤں کے سب گھر کچے گارے مٹی کے بنے تھے یا سوکھے جھاڑ جھنکار کے چھپر تھے۔ لیکن تلسی داس اور نند لال کی حویلیاں پکی تھیں۔ درو دیوار پہ خوش رنگ نقش بھی ثبت تھے۔ گاؤں کے آس پاس کے کئی کھوہ ان کی ملکیت تھے۔ وسیع و عریض زرعی زمیں پہ خوب کھیتی باڑی تھی۔ دکانیں اور کاروبار الگ تھے۔ گائے بھینسوں کا پورا ریوڑ تھا۔ کئی بیلوں کے جوڑے تھے۔ کھیتی میں ہاتھ بٹانے کے لیے کئی نوکر تھے۔ خوب ٹھاٹھ باٹھ تھے۔

اماں بتاتی ہیں کہ تلسی داس اور نند لال ان کے پڑوسی تھے۔ گھر کے جی اتنے زیادہ تھے کہ میلے کا سماں رہتا تھا۔ نند لال کے پانچ بیٹے تھے۔ امرناتھ، رام، ست نام، منشی لال اور ہربنس لال۔ تلسی داس کے چھ بیٹے تھے۔ ہنس راج، سنت لال، اوم پرکاش، ملک راج، ہرکشن اور دیس راج۔ ان میں زیادہ تر شادی شدہ اور بال بچوں والے تھے۔ ان کے ہاں ایک رواج تھا کہ جب دلہن بیاہ کر گاؤں لاتے تو اسے بیری کے درخت کے نیچے بٹھا دیتے تھے۔ جب شام ڈھل جاتی اور تارے نکل آتے تب دلہن کو گھر لے آتے تھے۔ ان کا یقین تھا کہ جیسے بیری کی ہر شاخ بیروں سے لدی رہتی ہے اسی طرح دلہن بھی زیادہ بچے جنے گی اور آنگن بھرا رہے گا۔ تلسی داس اور نند لال کے آنگن خوب آباد تھے۔

اماں بتاتی ہیں کہ وہ لوگ غریب پرور تھے۔ گاؤں میں ہر ضرورت مند کی مدد کرتے۔ مسلمانوں کی شادیوں میں بخوشی شریک ہوتے اور مرگ پہ سوگوار ہوتے۔ دیوالی، ہولی اور دیگر تہوار بھر پور مناتے تھے۔ چراغاں کرتے، پکوان پکاتے اور سارے پنڈ کو اپنی خوشیوں میں شامل کرتے تھے۔ لڑائی جھگڑا ان کی سرشت میں نہیں تھا۔ ہاں ایک بار سخت ناراض ہوئے تھے۔ نند لال کی بیٹی کوشلیا عہد جوانی میں فوت ہوئی تو آخری رسومات میں گاؤں والے شریک تھے۔ لکڑیوں کے ڈھیر پہ پڑی کوشلیا کی لاش پہ دیسی گھی چھڑک کرجب اس کے بھائیوں نے آگ کے مٹھے لگائے تو چتا سے دیو ہیکل شعلے بلند ہونے لگے۔ بھائی بشیر احمد نے اپنے دوست ہرکشن کے کان میں سرگوشی کی ’کشنی تم مسلمان ہو جاؤ ورنہ کشلیا کی طرح آگ میں جلو گے‘۔ اس بات پہ سب ہندو سیخ پا ہو گئے تھے۔ بابا سے شکایت بھی کی اور سخت ناراضی کا اظہاربھی کیا۔

تلسی داس کو اپنے چھوٹے بیٹے دیس راج پہ بڑا مان تھا۔ کہتا تھا بھگوان نے دیس راج کو سارے گن دیے ہیں۔ خاندان کا نام روشن رکھے گا۔ دیس راج پچیس سالہ نوجوان تھا۔ ان تھک محنت کرنے کا عادی تھا۔ تلسی داس کا دایاں بازو تھا۔ اس نے تن تنہا کھیتی باڑی کا سارا نظام سنبھال رکھا تھا۔ تلسی داس کو یقین تھا کہ دیس راج اپنی محنت، ذہانت اور ملنساری کے بل پہ منشی اتاڑ کا اگلا نمبردار بنے گا۔

دیس راج جب گلی میں کھیلتے بچوں سے ملتا تو بچوں سا چنچل ہو خوب ہنسی مذاق کرتا۔ ہم عمروں سے ملتا تو لنگوٹیے یاروں سی جپھی ڈال لیتا۔ راہ چلتے بڑوں سے ملاقات ہوتی تو جھک کے ملتا تھا۔ عورتوں کا بے حد احترام کرتا تھا۔ مسلمانوں کے مذہب کا دلی احترام کرتا۔ نانی اماں کو وہ دن بھی یاد ہے جب دیس راج رمضان کے مہینے میں سر بازار تنور جلا کر روٹیاں لگانے پر دائی سے سخت ناراض ہوا تھا اور گھر سے پانی کا گھڑا اٹھا لایا اور تنور میں انڈیل دیا تھا۔ تنور کی آگ ٹھنڈی ہوئی تو دیس راج کا من ٹھنڈا ہوا۔

بڑے بھائی قطب الدین جب مدرسے سے فارغ التحصیل ہو کر گاؤں لوٹے تو مسجد میں لوگوں کے اجتماع سے خطاب کرتے تھے۔ دیس راج کو دلی خوشی تھی کہ گاؤں کے مسلمان نوجوان کے پاس دین کا علم ہے، بات کرنے کا فن ہے اور گفتگو میں اثر ہے۔ اس خوشی کا اظہار دیس راج گاہے بگاہے کرتا تھا۔ نانی اماں بتاتی ہیں کہ جب ہم کیلاش، تاش اور دوسری سہیلیاں آنکھ مچولی کھیلتی تھیں تو کبھی دیس راج ہماری دائی مائی بن بیٹھتا تھا۔ مکئی، باجرے، جوار اور چھولے کے مرنڈے شوق سے کھاتا تھا۔ جب مرنڈے کا مرتبان نکالتا تو بچے اس کے گرد مکھیوں کی طرح جمع ہو جاتے تھے۔ وہ مرنڈے سب بچوں میں بانٹ دیتا تھا۔ اس تقسیم میں وہ ہندو اور مسلمان بچوں کو برابر حصہ ملتا تھا۔

پھر نہ جانے کون سی ہوا چلی کہ منشی اتاڑ کے سب ہندو چپکے سے گھر بار چھوڑ گئے۔ ست نام کی شادی بٹھنڈا میں ہوئی تھی۔ سنت لال اور ہنس راج ابھور میں بیاہے تھے۔ اماں کا خیال ہے کہ تلسی داس اور نند لال کا خاندان بٹھنڈا اور ابھور گیا ہو گا۔ حالات کے ہاتھوں کتنے مجبور ہوئے ہوں گے وہ لوگ جو جنم بھومی کو چھوڑ گئے اور دھرتی ماتا سے بچھڑ گئے۔

خاندان کے سارے افراد چلے گئے بس دیس راج اکیلا رہ گیا تھا۔ اسے امید تھی کہ حالات ٹھیک ہو جائیں گے۔ وہ منشی اتاڑ کو چھوڑنا نہیں چاہتا تھا جس میں اس کے آباء صدیوں سے آباد تھے۔ لیکن اگست 1947 میں ایسا طوفان اٹھا کہ دیس راج کی امیدوں کی طنابیں بھی اکھڑ گئیں۔ نانی اماں بتاتی ہیں کہ ظہر کا وقت تھا کہ گاؤں میں شور مچا کہ قریبی گاؤں کےمسلمان زمیندار منشی اتاڑ کے مویشی چھین کے لے جا رہے ہیں۔ بعد میں پتہ چلا کہ صرف ہندووں کا مال ہانک کر لے گئے۔ دیس راج اپنے گھر میں گھسا اور پچھلے دروازے سے گھر سے ہمیشہ کے لیے نکل گیا۔ بھاگتے ہوئے دیس راج نے سوچا ہو گا کہ یہاں محفوظ رہنے کے لیے مسلمان ہونا شرط تھی۔ بھائی بشیر احمد نے ہرکشن کو یہی کہا تھا۔ ’آگ سے بچنا ہے تو مسلمان ہو جاؤ‘۔ بٹوارے میں گھر چھوڑنے کے دوزخ میں منشی اتاڑ کے سب ہندو راکھ ہوئے تھے۔ وہ دیس راج بھی اس آگ میں جھلس گیا جو رمضان کے احترام میں تنور جلانا گوارا نہ کرتا تھا۔ دیس راج ابھی چند قدم ہی دور ہو گا جب اس کے گھر پہ سب لوگ ٹوٹ پڑے۔ پل بھر میں بستے گھر اجڑ گئے۔

سورج ڈوب رہا تھا جب رفع حاجت کے لیے خواتین کی ٹولی کھیتوں کی طرف گئی تو انہوں نے گنے کے کھیت میں چھپے دیس راج کو دیکھا۔ منشی اتاڑ کا ہونے والا نمبردار اپنے ہی گاؤں میں اپنے گاؤں کے لوگوں سے چھپ رہا تھا۔ خواجے والے کھوہ پہ گنے کے کھیت میں چھپے دیس راج نے اپنے گاؤں کو آخری بار دیکھا ہو گا۔ گاؤں کے چند افراد نے ارادہ کیا کہ وہ دیس راج کو گھر لے آتے ہیں اور ہر قیمت پر اس کی حفاظت کریں گے۔ اس کے دوست یار تھے جنہوں نے مل جل کر زندگی کے سب دکھ سہے تھے۔ دیس راج کی بے بسی اور بے سہارگی پہ ان کے دل پسیج گئے۔ جب وہ گنے کے کھیت میں گئے تو دیس راج وہاں سے بھی جا چکا تھا۔

بٹوارے کی داستاں سناتے سناتے اماں کی آواز بھرا گئی اور آنکھوں میں آنسو چمکنے لگے۔ میں نے کہا ’اماں پتہ نہیں آپ کو کیلاش اور تاش یاد کرتی ہوں گی یا نہیں؟ ‘۔ ’ وہ ضرور یاد کرتی ہوں گی‘۔ میں نے کہا ’اماں آپ کو ان کی شکلیں بھول گئی ہوں گی؟ ‘۔ اماں بولیں ’نہ نہ، ان کے چہرے آج بھی میری آنکھوں کے سامنے ہیں‘۔ میں ایک عجیب سا سوال پوچھ بیٹھا، ’اماں کیا آپ کو کیلاش اور تاش کے جانے کا دکھ آج بھی ہے؟ ‘۔ اماں خاموش ہو گئیں۔ آسمان کو تکنے لگیں۔ میرے سوال کا جواب نہ دیا بس اتنا کہا ’ جاتے جاتے ایک بار مل کر ہی چلی جاتیں کم بخت‘۔

بٹوارہ ہوا۔ بھٹنڈا اور ابھور ہندوستان کو ملے اور منشی اتاڑ پاکستان کے حصے میں آیا۔ درمیان میں ایسی دیوار کھنچی کہ صدیوں کے فاصلے اور عمروں کی مسافتیں مقدر ٹھہریں۔ سرحد پار سے تلسی داس کے خط بابا کے نام آتے تھے۔ خط کیا تھے آنسووں میں ڈوبے نوحے تھے۔ ہر خط دیس راج سے شروع ہوتا اور دیس راج پہ ختم ہوتا تھا۔ ’ھمارا دیس راج نہیں پہنچا‘۔ تلسی داس خطوط میں پوچھا کرتا تھا کہ اب کون ان کی حویلیوں میں بستا ہے۔ ان کے کھوہ پہ اب کون کھیتی کرتا ہے۔ خواجے والے کھوہ پہ رہٹ پہ جتے بیلوں کی گھنٹیاں اب بھی گاؤں میں سنائی دیتی ہیں یا نہیں۔ ڈیرے والے پیپل پہ دن ڈھلے اب بھی چڑیاں شور مچاتی ہیں یا نہیں۔ دائی کا تنور اب بھی گلی کی اسی نکڑ پہ ہے کیا۔ بھیے والے کھوہ کی بیریوں کے بیر اب بھی ویسے ہی میٹھے ہیں یا کٹھاس آ گئی۔ خط میں پورے گاؤں والوں کا نام لکھا ہوتا تھا۔ سب کے لیے سلام دعا ہوتا تھا۔ کیلاش اور تاش کا کاکی (نانی اماں) کو خاص سلام ہوتا تھا۔ پھر رفتہ رفتہ خط و کتابت کو سلسلہ بھی ٹوٹ گیا۔ اماں کو یاد ہے کہ آخری خط میں بھی لکھا تھا ’ھمارا دیس راج گھر نہیں پہنچا‘۔

ستر برس گزرنے کے بعد بھی بٹوارے میں لگے زخموں سے یادوں کا خون رستا رہتا ہے۔ تلسی داس اور دیس راج کے پری وار کے لوگ آج بھی اپنے گاؤں کو یاد کرتے ہوں گے۔ اور نانی اماں کی طرح ان کو بھی اگست کا مہینہ اچھا نہیں لگتا ہو گا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں