مدارس کے طلبا سے ریاست کا سوتیلا رویہ


بلوچستان بھر کے تعلیمی اداروں میں لیپ ٹاپ سکیم کے لیے درخواستوں کی وصولی کا سلسلہ جاری ہے۔ آج ایک خبر نظر سے گزری، ایک مذہبی سیاسی جماعت کے طلبہ ونگ نے مطالبہ کیا ہے کہ اس سکیم میں دینی مدارس کو بھی شامل کیا جائے۔ ان کا مطالبہ تھا کہ ملک بھر کے دینی مدارس کو سکالرشپ اور لیپ ٹاپ سکیم میں شامل نہ کر کے 23 لاکھ طلبہ سے امتیازی سلوک کیا جارہا ہے۔ عصری تعلیمی اداروں کی طرح دینی مدارس کے طلباء کا بھی ملکی بجٹ میں مشتہر اسامیوں اور سکالر شپس پر حق ہے۔

خبر کو رکھیے ایک طرف، سوال یہ ہے کہ کیا مدارس میں پڑھنے والے نوجوان اس ملک کے شہری نہیں ہیں۔ اگلا سوال یہ ہے کہ اس ملک کے خزانے میں جو ٹیکسز جاتے ہیں وہ صرف ان نوجوانوں کے والدین، بھائی وغیرہ بھرتے ہیں جو عصری اداروں میں پڑھتے ہیں۔ دینی مدارس میں پڑھنے والے نوجوانوں کے والدین، بھائی اور رشتہ دار جو کار وبار، ملازمت وغیرہ کرتے ہیں ان سے ٹیکسز کیا نہیں لیے جاتے؟ اس سے اگلا سوال یہ ہے کہ کیا یہ مدارس ایچ ای سی سے رجسٹرڈ نہیں ہیں؟ اور اگلے سے بھی اگلا سوال یہ ہے کہ ریاست اور حکومت کے کردار سے ماں والا مشفقانہ رویہ، محبت اور تمام بچوں کے لیے یکساں اپنائیت کہاں چلی گئی ہے؟

مدارس کے طلبہ کا مسئلہ یہ ہے کہ انہوں نے کبھی اپنی بڑی یونین اور طلبہ تنظیمیں بناکر کار سرکار میں مداخلت نہیں کی۔ یہاں تو حال یہ ہے کہ بی اے اور ایم اے پرائیویٹ امتحان، وہ بھی اپنی جگہ کسی اور کو بٹھا کر دینے والے لوگ بھی میرٹ کی ناقدری اور استحصال کا رونا روتے نظر آتے ہیں، تعلیم کی تضحیک اور تعلیمی اداروں کا ٹھٹھا اڑاتے نظر آتے ہیں۔ مدارس کے طلبہ نے کبھی اپنی بیروزگاری کا ذمہ دار حکومت کو ٹھہرا کر تعلیمی اداروں کی سبکی اور تضحیک نہیں کی۔ تعلیم سے فراغت کے بعد کئی نوجوان درس وتدریس اور امامت وخطابت کرتے ہیں۔ جن کو امامت وخطابت نہیں ملتی وہ اپنی محنت اور خرچ پرکمپیوٹر کے مختلف کورسز کرکے اپنا روز گار بناتے ہیں۔

میں اپنے جاننے والے کئی دوستوں کو جانتا ہوں جو کمپوزنگ، ڈیزائننگ اور گرافکس وغیرہ کا کام کرکے اپنی زندگی کا پہیہ خوب چلا رہے ہیں۔ میرے کئی دوست انگلش لینگویج سینٹرز میں سال دو محنت کرکے پڑھنے کے بعد اب انگلش لینگویج ٹیچرز ہیں اور کچھ تو اکیڈیمیوں کے مالک بن چکے ہیں۔ بہت سے جاننے والے مختلف سرکاری اور نجی اسکولوں میں ٹیچرز ہیں۔ میدان صحافت میں جو اترے ہیں وہ بھی کچھ نمایاں اور کچھ گمنام ہمارے سامنے ہیں۔ کسی نے اپنے بھائی اور والد کے ساتھ کاروبار میں شریک ہوکر انہیں کندھا دے رکھا ہے۔ چند سال قبل ایک موٹر سائیکل مکینیک کی دوکان پر ایک مولوی صاحب کو دیکھا جو نئے نئے کام پر لگے تھے، اپنی سفید ٹوپی اور خوبصورت داڑھی کے ساتھ ساتھ اپنے سیاہ ہاتھوں سے موٹر سائیکل کے انجن پر جھکے نظر آئے۔ مجھے دیکھ کر فخر ہوا کہ الحمد للہ اپنی محنت سے کما رہا ہے کسی سے مانگ نہیں رہا۔ اس کے ہاتھوں کی سیاہی میں مزدوری کا تقدس چمکتا ہے۔ الغرض زندگی کی گاڑی کو کھینچنے کے لیے ہر کسب کو اپنانا پڑتا ہے۔ مدارس کے درویش منش طلبہ نے کبھی کسی کسب کو اپنے لیے باعث عار نہیں سمجھا۔ کالج یونیورسٹی میں اعلی سطحی ملازمت سے لے کر محنت مزدوری تک ہر جگہ یہ نوجوان اپنی تقدیر کے فیصلے سے مطمئن اپنا کردار نبھاتا جارہا ہے۔

مسئلہ یہ نہیں سوال ہے تو بس اتنا ہے کہ ریاست اور حکومت کے کردار سے ماں والا مشفقانہ رویہ، محبت اور تمام بچوں کو اپنا سمجھنے کی محبت کہاں چلی گئی ہے؟ حکومتی سطح پر ایسے جانبدارانہ رویے کے اظہار کے لیے کوئی بھی تاویل شاید قابل قبول نہ ہو۔ ایسی سوتیلی ماں کا سلوک بچوں میں تفریق کی لکیریں گہری کرتا ہے، نفرتیں اسی طرح بڑھتی ہیں۔ مکالمہ، رواداری اور مل کر چلنے کے نعرے ایسے ماحول میں بے معنی ہوکر اپنا نوحہ کرتے رہ جاتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے ایسے ماحول کا خاتمہ کیا جائے۔

 

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں