قربانی کی مخالفت کرنا کیوں غلط ہے؟


مفلوک الحال بڑھیا نے گوشت کے تھیلے اپنے پوتے کو پکڑائے اور اس کے بعد جھولی اٹھا کر گوشت دینے والے کو دعائیں دینے لگی۔ اس کی آنکھوں میں تشکر کے آنسو تھے۔ ”بیٹا تم یہاں آ جاتے ہو تو ہمیں بھی گوشت کھانا نصیب ہوتا ہے“۔ گوشت کے تھیلے دینے والے ترک نے حیران ہو کر پوچھا ”کیا مطلب؟ کیا آپ عید کے علاوہ گوشت نہیں کھاتی ہیں؟ “ بڑھیا نے نم آنکھیں صاف کرتے ہوئے کہا ”بیٹا ہماری اتنی حیثیت کہاں ہے۔ دو وقت کا کھانا مل جائے تو وہی ہمارے لئے ایک بڑی عیاشی ہوتی ہے“۔ یہ منظر مظفر گڑھ کا تھا جہاں ہر سال چند ترک اجتماعی قربانی کا بندوبست کرتے ہیں اور سارا گوشت غریبوں میں بانٹ دیتے ہیں۔ یہ ترک بیرون ملک اور پاکستان میں مقیم مخیر حضرات سے قربانی کے لئے پیسے اکٹھے کرتے ہیں اور لاہور، مظفر گڑھ، اسلام آباد، کراچی، خیر پور اور کئی دیگر شہروں میں اجتماعی قربانی کا بندوبست کر کے غریبوں میں گوشت بانٹتے ہیں۔

ہر عید پر ایک رجحان دیکھنے میں آتا ہے کہ بعض حلقوں کی جانب سے مخالفت شروع ہو جاتی ہے کہ قربانی کا جانور خریدنے کی بجائے وہی رقم کسی غریب کو دے دی جائے۔ لیکن اس میں دو نکتے ہیں۔ ایک تو یہ کہ اپنی استطاعت کے مطابق غریبوں کی مدد سال بھر ویسے ہی کرتے رہنا چاہیے اور اسے قربانی سے مشروط کرنا غلط ہے۔ اگر ہم قربانی نہیں کریں گے تو وہی پیسہ کسی غریب کو تو نہیں دیں گے۔ دوسری بات یہ کہ قربانی کرنے سے بھی غریبوں ہی کی مدد ہوتی ہے۔ قربانی کی یہ رسم غریبوں کے لئے روزگار حاصل کرنے کا ایک اہم ذریعہ بھی ہے۔

یہ ٹھیک ہے کہ کئی لوگ دکھاوے کے لئے قربانی کے جانور کے معاملے میں بھی اصراف کرتے ہیں۔ مگر یہ اصراف تو ہم دس مختلف جگہوں پر کرتے ہیں۔ ہم مہنگا ترین فون اور گاڑی خریدتے ہیں، مہنگے ریستوران سے کھانے کھاتے ہیں، مہنگے کپڑے خریدتے ہیں، تو مہنگا جانور بھی خرید لیں تو اسے بھی برداشت کرنا چاہیے۔ اس فہرست میں سے صرف ایک چیز پر اعتراض کرنا مناسب نہیں ہے۔

اگر اس پہلو پر بات کی جائے کہ جانوروں کو اس طرح مارا جانا غلط ہے، تو پھر باقی سارا سال گوشت کھانے کی کیا تک بنتی ہے؟ وہ گوشت درختوں پر نہیں اگتا بلکہ وہ بھی تو انہیں جانوروں کا ہوتا ہے جس کے ہم تکے کباب، کڑاہیاں، پلاؤ وغیرہ کھاتے ہیں۔ سبزی خوروں کا تو اس طرح جانور قربان کرنے پر اعتراض بنتا ہے مگر گوشت خوروں کا نہیں۔

ذاتی طور پر ہمیں عید قربان کا دن نہایت ناخوشگوار لگتا ہے۔ ہر گھر سے پھوٹتے لہو کے دریا، ہر طرف پھیلی ہوئی خون کی بو، جگہ جگہ پڑی ہوئی اوجھڑیاں اور اس کے بعد فضا میں ہر طرف پائے صاف کرنے کی وجہ سے بال جلنے کی بو ہمیں نہایت ناپسند ہے۔ اس عید کے گوشت کا ذائقہ بھی ہمیں پسند نہیں ہے اور ہم عید پر یا تو ایک دو دن کے لئے سبزی خور ہو جاتے ہیں یا مرغی پر گزارا کرتے ہیں۔

لیکن ہمیں یہ بھی علم ہے کہ یہ سال کا واحد موقع ہوتا ہے جب بہت سے غریبوں کو بھی گوشت کھانا نصیب ہوتا ہے۔ ادھر لاہور میں بھی ہم کئی غریب گھرانوں کے بارے میں جانتے ہیں جو عید کا سارا دن گھر گھر جا کر گوشت اکٹھا کرنے کی مہم میں صرف کرتے ہیں۔ اس کے بعد ساری رات وہ گوشت کو ابالنے اور سکھانے میں لگاتے ہیں تاکہ اسے خشک کیا جا سکے۔ اس خشک کردہ گوشت کو وہ کئی مہینے کھاتے ہیں۔ مذہبی طور پر ہر قربانی کرنے والا اس گوشت کا تیسرا حصہ غریبوں کو دینے کا پابند ہوتا ہے۔

ان کھانے والوں سے ہٹ کر بات کی جائے تو وہ غریب لوگ بھی سامنے آتے ہیں جو عید کے دن چار پیسے کما لیتے ہیں۔ ان میں سارا سال عید پر فروخت کرنے کے لئے مویشی پالنے والے، ان کو حلال کرنے والے، ان کا چارہ فروخت کرنے والے اور آخر میں ان قربان شدہ جانوروں کی کھالوں سے مختلف فلاحی ادارے چلانے والے بھی شامل ہیں۔ فلاحی اداروں سے آپ یہ مت سمجھیں کہ ان جانوروں کی کھالیں صرف مدرسے یا جماعت اسلامی والے لے جاتے ہیں۔ کھال کی مدد سے فلاحی کام کرنے والوں میں ایدھی فاؤنڈیشن اور شوکت خانم ہسپتال جیسے ادارے بھی شامل ہیں۔ کوئی بھی بڑا تہوار اپنے ساتھ ایک بڑی معاشی سرگرمی بھی لے کر آتا ہے۔

بجائے اس بات کے کہ قربانی کی حوصلہ شکنی کی جائے، اس بات کی مہم چلانی چاہیے کہ لوگوں میں جانور قربان کرنے کے بارے میں شعور پیدا کیا جائے۔ ان کو سکھایا جائے کہ جانوروں کا خون وہ گلیوں میں نہ پھیلائیں۔ ادھر ادھر اوجھڑیاں مت پھینکیں۔ دوسرے شہریوں پر رحم کرتے ہوئے صفائی کا اہتمام کریں۔ لاہور میں تو خیر اب چند برسوں سے صورت حال بہت بہتر ہے اور صفائی کا بہت اعلی درجے کا انتظام موجود ہے، مگر دوسرے شہروں میں حالات ابھی بھی دگرگوں ہیں۔

قربانی کے نظام میں بہتری لاںے کی بات ہے تو ہماری تجویز یہ ہے کہ حکومت کو اس چیز کا بندوبست کرنا چاہیے کہ قربانی کے لئے ہر علاقے میں جگہ مخصوص کر دی جائے۔ ہر شخص اپنا جانور اس مخصوص کردہ جگہ پر لائے۔ ادھر ہی قصاب بھی موجودہ ہوں جو تیزی سے قربانی کر کے گوشت کو شہریوں کے حوالے کر دیں اور آلائشوں کو ادھر موجود انتظام کے تحت ہی ٹھکانے لگا دیا جائے۔ اس سے شہر میں صفائی کا مسئلہ بھی نہیں ہو گا اور فریضہ بھی ادا ہو جائے گا۔

 

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1012 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar