نانگا پربت کے سائے میں ایک الجھی سوچ



وقار احمد ملک

نانگا پربت کو، جگلوٹ ہوٹل رات ہونے کے باوجود نظر آتا تھا۔ ہم نظر نہیں آتے تھے کہ ایک درخت کے نیچے بیٹھے تھے۔
چودہ سالہ استوری بچہ ٹرک ہوٹل پر پانی پینے رکا تھا ۔ مجھے دیکھا تو پاس آیا اور گپ شپ شروع کر دی۔
وہ استور کے فلک بوس پہاڑوں کی ایک سفید روح تھی۔
اسکی سفیدی میں ، چاند رات کو نانگا پربت کی لشکتی برف کا عمل دخل معلوم پڑتا تھا، یا شاید معاملہ الٹ ہو۔
باتوں باتوں میں اس نے پوچھا، چا چا تمھاری تنخواہ کتنی ہے ۔
میں نے جواب دیا ، بارہ ہزار ….
میں اصل تنخواہ کی رقم بتا کر اس سے فاصلہ پیدا نہیں کرنا چاہتا تھا۔ اس کو خوفزدہ کر کے مجھے کیا ملنا تھا۔
بڑی تنخواہ ہے چاچا۔ مزے ہیں، ادھر کیوں آتے ہو۔ پہاڑوں میں۔ لاہور تو مزے کی جگہ ہے۔ بڑا شہر ہے۔ میں مزدوری کرتا ہوں۔ تھوڑی رقم جمع ہو جائے تو لاہور یا کراچی جاﺅں گا۔ پیسے کماﺅں گا اور مزے کروں گا۔
چا چا میرا باپ بہت بڑا خونی تھا ، بڑے قتل کیے اس نے ۔
بہت دلیر تھا میرا باپ ، پولیس مقابلے میں مارا نہ جاتا تو میں آج عیاشی کر رہا ہوتا۔ لیکن مر گیا۔
لیکن چا چا وہ اچھا آدمی نہیں تھا۔ قتل کر نا اچھی بات تو نہیں ہے۔ یہ تو برے لوگوں کا کام ہے ۔ انسان ایسا گناہ والا کام کیوں کرے۔ دنیا میں لعنت اور آخرت میں بھی۔
01چا چا یہ ہینڈ فری مجھے دے دو گے۔میرے پاس موبائل ہے اس میں گانے سنوں گا۔
بہت شکریہ چا چا
پتہ ہے میرا باپ بڑا کمال آ دمی تھا۔ سارا علاقہ اس سے ڈرتا تھا ۔ پولیس اس کا نام سن کر کانپتی تھی۔ وہ زندہ ہوتا تو میرے پاس گاڑی اور اپنی گن ہوتی۔ادھر لوگ میری عزت کرتے جیسے میرے باپ کی عزت کرتے تھے۔ میرے باپ کا بڑا رعب تھا پورے علاقے میں۔
لیکن چا چا…. ایک بات ہے۔ برے کام کا برا نتیجہ ہوتا ہے۔ نہ میرا باپ غلط کام کرتا ، نہ مرتا اور نہ آج میں ذلیل ہوتا ۔
چا چا، پڑھائی کرنی چاہیے ، پڑھائی بہت اچھی ہوتی ہے۔ نوکری کرو ۔صاف کپڑے پہنو اور مزے کرو۔ لیکن چاچا میرے خبیث باپ نے مجھے پڑھایا ہی نہیں۔
میرا باپ مفرور رہتا تھا۔ مجھے کم ملتا تھا۔ اب تو شکل بھی یاد نہیں آتی میں سات یا آٹھ سال کا تھا جب وہ مارا گیا۔ اچھا ہوا، مارا گیا ورنہ میں بھی ڈاکو ہی بنتا۔
اللہ اس کے گناہ بخشے ، یا د تو آتا ہے ناں۔ وہ بڑے قد کا تھا۔ یہ جو پولیس والے بڑے بنتے پھرتے ہیں ناں ، راستہ بدل لیتے تھے جس راستے سے میرا دلیر باپ گزرتا تھا۔ چا چا بہت اچھا تھا میرا باپ۔ مجھے کئی دفعہ پیسے بھی دے دیتا تھا۔ آج پورا دن مزدوری کر کے کیا ملتا ہے تیس چالیس روپے۔
02چاچا یہ ٹرک سکردو سے آ رہا ہے۔ ان کے بھی مزے ہیں۔ سیر بھی کرتے ہیں اور پیسے بھی کماتے ہیں۔
سکردو سے آنے والا ٹرک جگلوٹ ہوٹل میں آکر رکا تھا۔ تھوڑی دیر سٹارٹ رہا اور پھر ڈرائیور نے دو تین دفعہ زور سے ریس دی اور انجن بند کر دیا۔
انجن بند ہونے کے بعد ہوٹل سے تھوڑی دور گرتے نالے کی آواز دوبارہ سنائی دی جانے لگی۔
چا چا میرا باپ گندا آدمی تھا۔ اگر اس کو کوئی خوبصورت لڑکا دکھائی دیتا تو اس کو پہاڑوں میں لے جاتا۔ دو دن بعد چھوڑتا…. کھی کھی کھی
چا چا وہ پڑھا لکھا نہیں تھا لیکن پڑھے لکھے تو بہت سارے لوگ نہیں ہوتے لیکن ایسی گندی باتیں تو پھر بھی نہیں کرتے۔ اصل میں میرا باپ تھا ہی ….
وہ برا آدمی تھا۔ حلال تھوڑا ہی سہی لیکن زیادہ والے حرام سے بہتر ہے۔
چا چاسنا ہے پنڈی میں بڑا کام ہے۔ میرا دوست کہہ رہا تھا پنڈی پہنچ جاﺅ ایک دفعہ بس پھر مزے ہی مزے ہوتے ہیں۔ ہمارے علاقے کے کچھ لڑکے ادھر ہوتے ہیں لیکن پنڈی آنے کے لیے مدد نہیں کرتے۔ خود غرض کہیں کے۔ بس چا چا میرا باپ زندہ ہوتا تو دیکھتا یہ ٹکے ٹکے کے لوگ ہم سے کیسے بات کرتے۔ جب وہ زندہ تھا تو یہ سب اس کے نام سے کانپتے تھے۔ اس کے پاس بڑی کلاشنیں (کلاشن کوف) تھیں۔ اس کا ایک دوست تھا ادھر اند ر ایک نالہ ہے۔ وہاں مفرور ہے وہ مجھے بہت دفعہ کہتا ہے ۔ میرے پاس آ جاﺅ۔
کلاشن کوف بھی دوں گااور ڈھیر سارے پیسے بھی۔ چا چا وہ میرے باپ کا جگری یار تھا۔ سچا اور کھرا آدمی ہے۔ بالکل میرے باپ کی طرح۔
میرا باپ بہت کھرا آدمی تھا، سیدھی بات کرتا تھا۔ دل میں نہیں رکھتا تھا ۔ دوستوں کا دوست تھا اور دشمنوں کا دشمن۔ بس میرے باپ کا دوست بھی ایسا ہی ہے۔
اب میں پڑھ تو نہیں سکا تو سوچتا ہوں اس کے پاس چلا جاﺅں۔ پھر میں دیکھوں گا ان پلسیوں کو اور یہ جو ٹکے ٹکے کے بدمعاش بنے پھرے ہیں۔
لیکن چاچا ، پھر سوچتا ہوں میں یہ کام نہ کروں۔ دیکھو نہ میرے باپ کا کیا انجام ہوا۔ پندرہ گولیا ں لگیں تھیں۔ جسم میں سوراخ ہی سوراخ تھے۔
دفن کرتے وقت اس کا چہرہ بھی نہیں دیکھنے دیا گیا۔ برے کام کا برا نتیجہ ہوتا ہے۔ کیا فائدہ غلط کاموں کاجب اتنا برا انجام ہو نا ہے۔
پتہ ہے چاچا، جب میرے باپ کو پہلے دو گولیاں لگیں تو میرا باپ پھر بھی بھاگتا رہا۔ ایک اوٹ مل گئی اور پھر دو گھنٹے ان پولیس والوں کا مقابلہ کرتا رہا۔
اکیلا…. چاچا …. اکیلا۔
یہ جو بڑے پولیس والے بنے پھرتے ہیں ناں یہ پچاس تھے اور وہ اکیلا، پھر بھی دو گھنٹے مقابلہ کیا۔
چاچا میرا باپ بہت دلیر تھا۔ شیر تھا شیر۔ ایسے غراتا تھا اور ان پولیس والوں کا پیشاب نکل جاتا تھا۔
میں سوچتا ہوں باپ کے دوست کے پاس چلا جاﺅں۔ وہ کہتا ہے جو کماﺅ گے اس میں تھوڑا حصہ مجھے دینا، باقی ساری لوٹی رقم تمھاری ۔
03میرے باپ کا جگری دوست تھا آخر، وہ واحد آدمی ہے چاچا جس نے میرے باپ کے مرنے کے بعد ہمیں یاد رکھا۔
لیکن چاچا ، مزدوری والا کام ٹھیک ہے۔ تیس چالیس مل جاتے ہیں۔ کھانا مفت کا۔
ایک ہفتہ کے بعد دو سو روپے گھر بھیج دیتا ہوں ۔ عزت کی روٹی اچھی ہوتی ہے ۔
انسان محنت کر کے کما لے لیکن برے کام نہ کرے۔ برے کام کا انجام اچھا نہیں ہوتا۔
میں نے تو اپنی ’ساری عمر ‘ میںیہی سیکھا ہے ۔ پھر ماں بھی منع کرتی ہے۔
ماں دکھی ہوتی ہے جب رشتہ دار طعنے دیتے ہیں۔ چا چا میرا ایک ماما ہے شکل دیکھو تو دوبارہ نہ دیکھو اور مجھے پتہ ہے کیا کہتا ہے؟
کہتا ہے تیرا باپ تو بڑا ڈاکو تھا، ڈاکو کا بیٹا ڈاکو ہی نکلے گا۔ یہ مزدوری تو وقتی طور پر کر رہا ہے ۔ بیج اثر ضرور دکھاتا ہے۔
چاچا وہ اپنے بچوں سے مجھے نہیں ملنے دیتا۔ کوئی اور رشتہ دار بھی مجھے اپنے بچوں سے نہیں ملنے دیتا۔
بس چاچا سوچتا ہوں، اپنے باپ کے دوست کے پاس چلا جاﺅ ں اور ادھر ایسا ڈاکو بنوں کہ سب دہشت سے کانپیں۔ یہ رشتہ دار جو مجھے منہ نہیں لگاتے۔ مجھے دیکھ کر تھر تھر کانپیں ، ایسے جیسے میرے باپ سے کانپتے تھے ۔ میں علاقے میں آﺅں تو ان پولیس والوں کو چھپنے کی جگہ نہ ملے۔
لیکن چاچا…. پھر بھی یہ کام تو برا ہی ہے ناں۔ کیا فائدہ غلط کام کرنے سے۔
پر چاچا …. دنیا بھی تو ظالم ہے۔ جب تک بندے کا رعب نہ ہو، سب دباتے ہیں۔
پر چاچا…. تیس چالیس روپے میں گزارا بھی تو ہو جاتا ہے۔
کیوں چاچا؟
چا چا، کہیں دور تھا…. سل نالہ، ہوٹل کے پاس گرتی آبشار اور دریائے سندھ کے پانیوں کی ملی جلی گونج سے کہیں دور۔
صبح آنکھ کھلی تو ہوٹل کے بلب ابھی جلتے تھے اور پس منظرمیں آسمان سفید روشن تھا….

(وقار احمد ملک اسلام آباد میں مقیم صحافی ہے۔ وہ لکھتا نہیں، درد کی تصویر بناتا ہے۔ تعارف کے لئے پوچھنے پر کہتا ہے ’وقار احمد ملک ایک بلتی عورت کا مرید اور بالکا ہے جوروتے ہوئے اپنے بیمار بچے کے گالوں کو خانقاہ کے ستونوں سے مس کرتی تھی‘۔ اور ہم کہتے ہیں، ’اجڑے گھر آباد ہوں یارب، اجڑے گھر آباد ….‘)


Comments

FB Login Required - comments

وقار احمد ملک

وقار احمد ملک اسلام آباد میں مقیم ایک صحافی ہے۔ وہ لکھتا نہیں، درد کی تصویر بناتا ہے۔ تعارف کے لیے پوچھنے پر کہتا ہے ’ وقار احمد ملک ایک بلتی عورت کا مرید اور بالکا ہے جو روتے ہوئے اپنے بیمار بچے کے گالوں کو خانقاہ کے ستونوں سے مس کرتی تھی‘ اور ہم کہتے ہیں ، ’اجڑے گھر آباد ہوں یا رب ، اجڑے گھر آباد۔۔۔‘

waqar-ahmad-malik has 62 posts and counting.See all posts by waqar-ahmad-malik

One thought on “نانگا پربت کے سائے میں ایک الجھی سوچ

  • 09-01-2016 at 10:52 am
    Permalink

    Beautiful.

Comments are closed.