انتظار حسین اور ریوتی سرن شرما کی دوستی (2)


 یہ وہ دن تھے جب انتظار حسین ”نظام “کی ادارت کر رہے تھے اور وہ کرشن نگر میں محمد حسن عسکری کے یہاں ٹھہرے تھے، جو ڈاکٹرآفتاب احمد کے ریڈیائی پیغام کے ذریعے لاہور پہنچے تھے اور پھراسی ذریعے سے انھوں نے انتظار حسین کو بلایا۔ انتظار حسین کا اس وقت تک اپنا گھر بار نہیں تھا، اس لیے انھیں یہ پریشانی تھی کہ دوست کے لیے سبزی ترکاری کا بندوبست کیسے ہو، اس زمانے میں ہر پھر کرکسی بھی مسئلے کے حل کے لیے وہ حسن عسکری کی طرف دیکھتے تھے۔ ان سے ذکرکیا تو یہ الجھن دور ہوگئی، ان کی والدہ نے ریوتی کے لیے کھانا بنانے کی ہامی بھرلی۔ انتظارحسین نے ہمیں بتایا تھا کہ چند برس پہلے ریوتی سے ملاقات میں ان کے لاہور آنے کا ذکر چھڑا تو وہ عسکری صاحب کے یہاں بنی سبزی ترکاری کھانے سے مکر ہی گئے۔ ریوتی کو محمد حسن عسکری پر اس لیے بھی غصہ تھا کہ وہ سمجھتے تھے کہ انھی کی وجہ سے ان کا دوست پاکستان گیا۔ کرشن چندر کے بھائی اور ریوتی کے بہنوئی، مہندر ناتھ جن سے انتظارحسین کی تقسیم سے پہلے دوستی ہوگئی تھی، 47ء کے بعد انھیں بھی یہ فکر کھائے جا رہی تھی کہ عسکری کی صحبت ان کے دوست کو خراب کر رہی ہے۔ اس سے ملتی جلتی پریشانی احمد ندیم قاسمی کو منٹو کے بارے میں تھی، جن کا خیال تھا کہ وہ عسکری کی صحبت میں خراب ہو رہے ہیں۔ منٹو ہو یا انتظار حسین، اس کینڈے کے ادیبوں کو کسی کی صحبت نقصان نہیں پہنچاتی کیونکہ وہ انتظارحسین کے لفظوں میں کسی تحریک کا ڈنگر بننا پسند نہیں کرتے۔ منٹو جیسے بڑے ادیب اور انتظار حسین جیسے نووارد، دونوں ہی کے بہی خواہوں نے انھیں عسکری سے دور رہنے سے متنبہ کیا اور فہمیدہ ریاض تو آج بھی عسکری کے لاہور چھوڑ کر کراچی چلے جانے کو انتظارحسین کے حق میں بہتر جانتی ہیں۔ یہ بات انھوں نے کچھ عرصہ پہلے آصف فرخی کے ”دنیا زاد “ میں لکھی۔ بات ریوتی کی ہو رہی تھی اور ہم کدھر نکل گئے۔

 ریوتی کے دورہ لاہور کا قصہ ”چراغوں کا دھواں “ میں یوں بیان ہوا ہے :

 ” بس پھر ہفتہ ڈیڑھ ہفتہ اطمینان سے سیل سپاٹوں میں یاروں سے ملنے جلنے میں گزرا۔ ترقی پسند دوستوں نے ملنے میں زیادہ گرم جوشی دکھائی۔ پہلے حیران ہوئے کہ اچھا یہ خالی دوست کی صورت دیکھنے کے لیے پاکستان آیا ہے اور بلا خوف وخطر آیا ہے۔ اور پھر خوب تواضع کرتے۔ اب ہم بلاخوف وخطر شہر میں گھوم پھر رہے تھے۔ مجھے پہلے حیرت ہوئی اور پھر ایک مسرت بھرا اطمینان کہ قیامت گزر جانے کے بعد لاہور شہر کو اب سکون آ گیا ہے۔ اب کسی کو کرید نہیں ہوتی کہ ہندوستان سے آنے والا کون مخلوق ہے اور کیا لینے آیا ہے اور پتہ چل بھی جائے کہ یہ کون مخلوق ہے تو بس ہلکا تجسس ہوتا ہے نفرت کا جذبہ نہیں جاگتا۔ “

 یہ ریوتی کا یار سے ملنے کے لیے پاکستان آنے کے لیے پہلا او ر آخری پھیرا تھا، وہ دفاع سے متعلق محکمہ میں تھے اس لیے ان کا ادھر آنا ممکن نہ تھا۔ اس کے بعد خطوں میں ریوتی دوست سے بار بار ہندوستان آنے کا تقاضا کرتے ہیں۔ ایک خط میں لکھا :

” انتظار ایک بار ہندوستان آجاﺅ۔ بہت باتیں اکٹھی ہوگئی ہیں۔ تیری قسم بڑا جی چاہتا ہے کہ تو آ جائے۔ میں ابھی تک نئی سڑک کے کمرے پر ہوں۔ پہلے کی طرح اکیلے رضائیاں لپیٹ کرآدھی رات تک گپیں ہانکیں گے۔ کتنا مزا آئے گا۔ انتظار بدلہ چکانے کے لیے ہی آجاﺅ۔ میں تو ایک دفعہ تمھارے پاس آ چکا ہوں۔ “

1951 میں انتظار حسین تقسیم کے بعد پہلی دفعہ ہندوستان گئے۔ ہاپوڑ میں چند دن رہنے کے بعد دلی جانے کی ٹھانی تو بڑی بہن نے خوفزدہ ہو کر کہا ”دلی، ارے تیرا دماغ خراب ہے۔ دلی میں تیرا کون بیٹھا ہے۔ ریوتی تو خود آ کر مل گیا۔ “ اس پر بھائی نے بہن کو جواب دیا کہ اس نے سرلا سے ملنا ہے۔ بہن بولی” اس کے پیروں میں کیا مہندی لگی ہوئی ہے۔ وہ بھی ہاپوڑ کا پھیرا لگا جائے۔ “

اس پر انتظارحسین بولے ”اس غریب کو ہاپوڑ میں کوئی قدم رکھنے دے گا۔ آپ کو پتہ نہیں ہے۔ یہ شادی کیسے ہوئی ہے۔ “

خیر، وہ دلی گئے اوروہاں لودھی کالونی پہنچے، جہاں فلیٹ ہی فلیٹ۔ کاڑھ بنتی عورتوں سے دوست کا پتا پوچھا تو انھوں مشکوک نظروں سے دیکھا، جس کی وجہ ان کے بقول، ان کی اچکن تھی۔ وہ ریوتی کے گھرپہنچے تو دروازے پر دستک ہوئی، ایک خاتون نے کچھ پوچھا تو سرلا نے اسے جواب دیا ’وہ شرما جی کے متر ہیں اورمیرے بھیا ہیں۔ “خاتون نے پھر کچھ پوچھا توسرلا بولی” ہاں مسلمان ہیں مگر آپ کو فکر کرنے کی ضرورت نہیں“ اس پر کہیں جا کر وہ خاتون ٹلی۔ ادھر پاکستان سے گئے مہمان پر گھبراہٹ طاری ہوگئی جو ریوتی کے دفترسے گھر لوٹ آنے پر دور ہوئی۔

 لاہور میں ریوتی کو تو انتظار حسین نے ترقی پسندوں سے ملوایا تھا لیکن خود دلی میں ترقی پسندوں سے ملنے سے مجتنب رہے کیوں کہ ”نظام “ کے مدیر کی حیثیت سے وہ ہند سندھ کے ترقی پسند اپنے خلاف کر بیٹھے تھے۔ ریوتی دفتر کوسدھارتے تو وہ گھر بیٹھے لارنس کے مضامین کا مجموعہ پڑھتے رہتے جس کے پس منظر میں جو ہو رہا ہوتا اس باب میں لکھتے ہیں:

”پس منظر میں تھالوں اور پرانتوں کے منجھنے دھلنے کا شور کبھی کٹوریوں کے کھنکنے کا شور اور میں حیران ہوتا کہ سرلا نے شادی ہوتے ہی اس گھر میں کتنی تھالیں پرانتیں اور کٹوریاں اکٹھی کرلی ہیں۔ پھر دھلے ہوئے فرش پر سیتل پاٹی بچھتی۔ بیچ میں ایک تھالی رکھی جاتی جس میں چھوٹی چھوٹی پیتل کی کٹوریاں چنی ہوتیں۔ “

 انتظار صاحب کی 1966 میں جب تک شادی نہیں ہو گئی، ریوتی خطوں میں ان پر شادی کرنے پر زور دیتے رہے۔ ایک خط میں لکھتے ہیں:

” تم شادی کب کر رہے ہو؟ ابے الو کے پٹھے شادی کر ڈال۔ سالے کیوں محروم رہتا ہے اس بوٹی سے، جسے عورت کہتے ہیں، اچھی چیز نہیں لیکن بری بھی نہیں، یوں کہو کہ یہ محض اتنی بری ہے جتنے برے تم ہو۔ قسم خدا کی شادی کر۔ مجھے چاہے نوکری چھوڑنی پڑے، آ جاﺅں گا۔ ہاں منظور ہے شرط۔ “

دوست کی شادی ہو گئی تو اب اس سے ہی نہیں، اپنی بھابی سے بھی ہندوستان آنے کا اصرار ہونے لگا، جس کی نوبت آنے میں چودہ برس لگ گئے۔

1951ء کے بعد 1978 میں ہی انتظار حسین کا ہندوستان جانا ممکن ہوسکا۔ اس بیچ دونوں دوستوں میں خط کتابت رہی۔ ایک دوسرے کو اپنے یہاں بلانے پر اصرار رہا۔

 ریوتی نے ایک خط میں لکھا: ”تم نے آنے کو کہا ہے۔ پیارے میں نہیں آ سکتا۔ میں محکمہ دفاع کا اب ایک افسر ہوں اس لیے مجھے نہ پاسپورٹ ملے گا اور نہ ویزا۔ “

ناصر کاظمی اور انتظار حسین نے ”خیال “ نکالا تو اس میں لکھنے کے لیے دونوں میاں بیوی کو دعوت دی گئی۔ ادھر سے مشورے بھی ملتے رہے۔ ایک خط میں لکھا ”خیال“ کو” نظام“ نہ بنا دینا۔ ریاست پرستی کا بھوت چڑھتے تم کو دیرنہیں لگتی جب یہ بھوت سوار ہوتا ہے تو رسالے سے بو آنے لگتی ہے۔ “ فکشن نگار کو اپنے افسانوں کا فیڈ بیک بھی ملا۔ ”ہمایوں “میں ”آخری موم بتی “چھپا تو اپنے تاثر کا اظہار یوں کیا : ’بھئی جیسا پرسوز عنوان ویسا پرسوز موضوع اور ویسے ہی کردار۔ مجھے تو یہ افسانہ پڑھ کر حیرت ہوئی کہ تم عورت کے جذبات کو بھی اس خوبی اور اثر کے ساتھ بیان کر سکتے ہو۔ “

 ادھر لاہور سے بھی دوست کو لکھنے پر اکسانے کا سلسلہ جاری رہا، ریوتی کا ناول چھپا تو انھوں نے یارعزیزکو بھیجوایا اور کہا ”ناول تمھیں بھیج چکا ہوں۔ یہ ناول تمھارا ہے جو کچھ میں نے سیکھا ہے، اچھا یا برا، تمھاری ذہنی صحبت کا اثر ہے ورنہ بنیے کا بیٹا تو ڈنڈی ہی مارتا ہے۔ “

ایک اور خط میں کہتے ہیں :” یہ تو تمھاری زور زبردستی ہے ادب کی ڈگر پر دو چار قدم چل لیا ورنہ بنیے کی اولاد کا ادب سے کیا سروکار۔ “

انتظار حسین، ادب لطیف کے ایڈیٹر بنے توسرلا سے بھائی کے بارے میں کچھ لکھنے پر زور دیا تو سرلا نے ” کرشن جی“ کے عنوان سے خاکہ لکھ کر بھجوا دیا۔ اس کی اشاعت  پریہ مصیبت کھڑی ہوگئی کہ کرشن چندر کی پہلی بیوی کے گھر والوں نے اسے عدالت میں پیش کردیا کہ یہ حضرت دوسری شادی سے انکاری ہیں، لیجیے بہن کی تحریر، اس سے دوسری شادی ظاہر ہوتی ہے۔ اس پر ریوتی کا خط آیا کہ یار بڑی گڑبڑ ہو گئی ہے۔ خیر، یہ قضیہ بعد میں نمٹ گیا۔

 1963 میں انتظار حسین کے زیرادارت” ادب لطیف “ کا جوبلی نمبرشائع ہوا تو اس میں کرشن چندر کا مشہور افسانہ ” کچرا بابا“ اور ریوتی سرن شرما کا ڈراما ”کچھ سفیدی کچھ سیاہی“ شامل تھے۔ سرلا کو انتظار حسین منہ بولی بہن بولتے تھے۔ باہمی احترام کا گہرا رشتہ تھا، جس میں ایک دفعہ اس وقت تریڑ آئی، جب تقسیم کے بعد کرشن چندر کی تحریروں پرانتظارحسین نے کڑی تنقید کی، جس کا سرلا نے برا مانا، لیکن یہ ناراضی زیادہ عرصہ چلی نہیں اور دونوں میں صفائی ہوگئی۔ 1978 میں انتظار حسین ہندوستان گئے تو اس سے ایک برس پہلے سرلا ایک ٹریفک حادثے کے نتیجے میں زخمی ہونے کے باعث فوت ہو چکی تھیں۔ ریوتی کے نئے تعمیر کردہ گھر میں انتظارحسین نے پڑاﺅ ڈالا اور 27 برس پہلے کے اس سمے کو یاد کیا جب ڈائننگ ٹیبل کے بجائے سیتل پاٹی پر بیٹھ کرکھایا تھا۔ اس سفر کے بعد 1980 اور 1983 میں بھی وہ ہندوستان گئے۔ اس کے بعد آنے والے برسوں میں وہ متعدد بار ہندوستان گئے۔ پریم چند فیلوشپ بھی انھیں ملا۔ دوست کی اپنے دیس میں پذیرائی دیکھ کرریوتی کا دل کھل اٹھتا۔ وہ اس کے اعزاز میں ہونے والے والی تقریبات میں شریک ہوتے۔ ادھر اس وقت تک ریوتی بھی ڈراما نویس کی حیثیت سے اپنے ملک میں معروف نام بن چکا تھا۔

(جاری ہے)

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں