بیوی کے ساتھ زبردستی سیکس، جرم قرار نہ دیں


ویبھو راج۔ نامہ نگار، بی بی سی ہندی ۔
انڈیا میں ‘میریٹل ریپ’ یعنی بیوی کے ساتھ زبردستی ہم بستری قانون کی نظر میں کوئی جرم نہیں ہے، یعنی اگر شوہر اپنی بیوی کی رضامندی کے بغیر اس کے ساتھ جسمانی تعلق قائم کرے تو اسے جرم نہیں سمجھا جاتا۔
مرکزی حکومت نے ‘میریٹل ریپ’ یعنی بیوی کے ساتھ زبردستی ہم بستری کو قانونی طور پر جرم قرار دینے کے لیے دائر کی جانے والی درخواست کے جواب میں کہا ہے کہ اس سے شادی کا ادارہ کمزور ہو سکتا ہے۔

مرکزی حکومت نے دلی ہائی کورٹ میں کہا کہ ‘میریٹل ریپ’ کو غیر قانونی نہیں کہا جا سکتا کیونکہ اس کا غلط استعمال ہونے کا اندیشہ ہے اور اسے شوہروں کو تنگ کرنے کے لیے ایک آسان ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔
ایسے میں ایک سوال یہ ہے کہ ریپ اور ازدواجی ریپ میں کیا فرق ہے اور اس سے شادی جیسے بندھن کو کس طرح نقصان پہنچ سکتا ہے۔
انڈین پینل کوڈ (آئی پی سی) کے سیکشن 375 کے مطابق، اگر کوئی شخص کسی عورت کے ساتھ ان میں سے چھ حالات میں جنسی تعلق قائم کرتا ہے تو اسے ریپ کہا جائے گا:

  • عورت کے رضامندی کے بغیر
  • اگر عورت کو ڈرا دھمکا کر یا اس کے کسی عزیز کو نقصان پہنچانے کی دھمکی دیکر اس کے رضامندی حاصل کی گئی ہو۔
  • عورت کی رضامندی ہو لیکن اس وقت عورت کا ذہنی توازن ٹھیک نہ ہو یا پھر اسے کوئی نشیلی دوا دی گئی ہو اور لڑکی یا عورت سیکس کے لیے رضامندی دیتے وقت پورے ہوش وحواس میں نہ ہو۔
  • لڑکی کی عمر 16 برس سے کم ہو تو اس کی رضامندی سے قائم کیا گیا جنسی تعلق بھی ریپ کے زمرے میں ہی آئے گا۔

آئی پی سی ریپ کی تشریح تو کرتا ہے لیکن اس میں ‘میریٹل ریپ’ کا کوئی ذکر نہیں ہے۔
سیکشن 376 ریپ کے لیے سزا تجویز کرتا ہے لیکن اس میں بیوی سے جنسی تعلق اس وقت ریپ کے زمرے میں آتا ہے جب بیوی 12 برس سے کم عمر کی ہو۔ اس کے تحت ایسے شوہر کو دو سال تک کی سزا ہو سکتی ہے۔
375 اور 376 کے دفعات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ جنسی تعلق کے لیے کم از کم 16 برس کی عمر ہے لیکن سیکس کے لیے 12 برس سے زیادہ عمر کی لڑکیوں کی رضامندی کوئی اہمیت نہیں رکھتی۔

ہندو میرج ایکٹ کیا ہے

ہندو میرج ایکٹ شوہر اور بیوی کے درمیان ایک دوسرے کے تئیں مخصوص ذمہ داریوں کا فیصلہ کرتا ہے اور ان میں جنسی تعلق کا حق بھی شامل ہے۔
قانون کہتا ہے کہ جنسی تعلق کے لیے انکار کرنا ایک ظلم ہے اور اس کی بنیاد پر طلاق کا مطالبہ کیا جا سکتا ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 5381 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp