حسد کا کوئی علاج نہیں: اعزاز چوہدری


امریکا میں تعینات پاکستانی سفیر اعزاز چوہدری نے بھارت کے سفارتی محاذ پر خدمات انجام دینے والے سینئر ترین سابق ہائی کمشنر عبدالباسط کی جانب سے کی جانے والی تنقید کا جواب دے دیا۔ امریکا میں تعینات پاکستانی سفیر اعزاز چوہدری نے سابق ہائی کمشنر عبدالباسط کے خط پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حسد کا کوئی علاج نہیں ہے۔

اعزاز چوہدری نے کہا کہ عبدالباسط کا خط بدترین اور غیر واضح ہے، چار قل اور سورۃ الفلق پڑھ کر خط نظر انداز کردیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ عبدالباسط کو غلط فہمی ہے کہ وہ ان کی وجہ سے سیکریٹری خارجہ نہ بن سکے تاہم وہ ریٹائر ہو چکے ہیں لیکن حسد کا کوئی علاج نہیں ہے۔

اعزاز چوہدری نے عبدالباسط کو مشورہ دیا کہ دوسرے پر کیچڑ اچھالنے سے کوئی فائدہ نہیں ہو سکتا، زندگی نے جو ہمیں دیا اسے عاجزی سے قبول کر لینا چاہیے۔ امریکا میں تعینات پاکستانی سفیر نے کہا کہ ‘میں نے اپنی بہترین صلاحیتوں سے ملک کی خدمت کی، عبدالباسط سمجھنے میں ناکام رہے کہ زندگی کوشش اور قسمت کے ملاپ کا نام ہے۔

خیال رہے کہ سابق ہائی کمشنر عبدالباسط کی جانب سے منظرعام پر آنے والے خط میں کہا گیا تھا کہ اعزاز چوہدری بدترین سفارت کار ہیں اور ان جیسے لوگ سفارتی عہدے پر ہوں گے تو ملک کا اللہ ہی حافظ ہے۔ دفتر خارجہ میں کئی سینئر و قابل سفارت کاروں اور افسران کو نظر انداز کر کے جونیئر افسر تہمینہ جنجوعہ کی بطور سیکریٹری خارجہ تعیناتی کے معاملے پر سینئر ترین سفارت کار عبدالباسط نے 26 جولائی کو قبل از وقت ریٹائرمنٹ لے لی تھی۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں